Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / تارکین وطن کیلئے یورپی یونین کا 17 نکاتی ایجنڈہ منظور

تارکین وطن کیلئے یورپی یونین کا 17 نکاتی ایجنڈہ منظور


برلن ، 26 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی یورپ اور بلقان کی مملکتوں کے قائدین نے برسلز میں منعقدہ ہنگامی اجلاس کے دوران پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کیلئے 17 نکاتی ایجنڈہ منظور کر لیا ہے۔ ایجنڈے کی منظوری کا اعلان یورپین یونین کے صدر جین کلاڈ جنکر نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہیکہ یونان اور مغربی روٹ پر مزید تارکین وطن کیلئے استقبالی مراکز میں ایک لاکھ مقامات بنائے جائیں گے۔ تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد سے کیسے نمٹا جائے اس مسئلہ کا حل نکالنے کیلئے طلب کردہ ہنگامی اجلاس میں یورپی یونین کے 10 اور تین غیر یورپی ممالک شریک ہوئے جبکہ اجلاس سے ترکی کی عدم موجودگی پر سوال اٹھایا گیا۔ اس معاہدہ کے تحت یونان تارکین وطن کیلئے ریسیپشن سنٹرز کھولے گا جہاں کم از کم 30 ہزار پناہ گزینوں کو اس سال کے آخر تک جگہ فراہم کی جائے گی۔ اس دوران اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا یو این ایچ سی آر تارکین وطن کیلئے مزید 20 ہزار مقامات فراہم کریگا۔ اس میں بلقان کے ممالک میں پناہ گزینوں کیلئے مزید 50 ہزار مقامات کے علاوہ ریسیپشن سنٹرز بھی ہوں گے۔ یہ راستہ شمال سے آنے والے پناہ گزینوں کیلئے معروف ہے جو جرمنی اور دیگر ممالک کا رخ کرنا چاہتے ہیں۔ یورپی قائدین نے اتفاق کیا ہیکہ ایک ہفتے کے اندر 400 پولیس ملازمین کو سلووینیا بھجوائیں گے۔ ہمسایہ ممالک کو بتائے بغیر ان کی جانب تارکین وطن کی پیشقدمی کے اقدام کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ خصوصی افسران مقرر کئے جائیں گے جو اپنے حکام اور ہمسایہ ممالک کو تارکین وطن کی تعداد سے متعلق معلومات فراہم کریں گے۔ جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے کہا ہیکہ یہ یورپی یونین کیلئے ’سخت آزمائش‘ ہے جس کا سامنا اس نے پہلے کبھی نہیں کیا۔ ادھر ہنگری نے سربیا اور کروئیشیا سے ملحقہ اپنی سرحد بند کر رکھی ہے اور اس طرح وہ تارکین وطن کو متبادل راستہ اپنانے پر مجبور کر رہا ہے۔ برسلز سے موصولہ رپورٹ کے مطابق اجلاس میں شکوے شکایات بھی ہوئے اور تند و تیز جملوں کے تبادلے بھی کئے گئے۔ اجلاس سے قبل کروئیشیا کے وزیراعظم زوران میلانوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ ’غیر حقیقی‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کسی نے کئی ماہ کی نیند سے جاگنے کے بعد یہ مسودہ تیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل ترکی اور یونان میں ہے۔

TOPPOPULARRECENT