Monday , September 25 2017
Home / عرب دنیا / تارکین وطن کی بہتری کیلئے قطر لیبر لاء میں ترمیم کیلئے آمادہ

تارکین وطن کی بہتری کیلئے قطر لیبر لاء میں ترمیم کیلئے آمادہ

دوحہ 10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) فٹ بال ورلڈکپ 2022 ء کا میزبان قطر نے اپنے متنازعہ کفالا اسپانسرشپ طریقہ کار میں تبدیلی کرنے سے اتفاق کرلیا ہے جوکہ بیرون ملک کے ورکرس کے لئے روا رکھا گیا تھا اور جسے ناقدین عصری زمانے کی غلامی سے تعبیر کرتے تھے۔ سرکاری خبررساں ایجنسی کیو این اے نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ کابینہ نے اپنے ہفتہ واری اجلاس میں مذکورہ متنازعہ کفالا اسپانسرشپ میں تبدیلی کے مسودہ کی تائید کرتے ہوئے اسے قانون سازی میں تبدیل کرنے کی حمایت کی جس کے تحت بیرون ملک ورکرس کے داخلے، رہائش اور اُن کے اخراج یا روانگی سے متعلق اہم اقدامات کئے جائیں گے۔

کیو این اے نے مزید کوئی تفصیلات بتائے بغیر صرف اتنا بتایا کہ قانون سازی کے ذریعہ بیرون ملک ورکرس (تارکین وطن) کو اس بات کا اختیار بھی دیا جائے گا کہ وہ اپنے موجودہ آجر یا ملازمت سے مطمئن نہ ہوں تو آجر یا ملازمت تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔ کابینہ میں پیش کئے گئے مسودہ کی قانون سازی کرتے ہوئے اسے سرکاری گزٹ میں شامل کر بھی لیا گیا تو اس کے باوجود بھی اس کے مکمل اطلاق کے لئے مزید ایک سال کا عرصہ درکار ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ قطر میں قوانین کی اجرائی فتوؤں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ خلیجی امارات میں کوئی پارلیمنٹ نہیں ہے بلکہ ایک مشاورتی ایڈوائزری کونسل ہے جن کی سفارشات پر کابینہ غور و خوض کرتی ہے۔ یاد رہے کہ قطر نے فٹ بال ورلڈکپ 2022 ء کے انعقاد کیلئے حقوق حاصل کرلئے ہیں اور جب سے ایسا ہوا ہے قطر لیبر پالیسیوں کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ قطر نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ جاریہ سال اسپانسرشپ طریقہ کار میں تبدیلی پیدا کرتے ہوئے اصلاحات متعارف کروائے گا۔ اب تک ایسا ہوتا رہا کہ کسی بھی تارکین وطن کو اپنے آجر کی اجازت کے بغیر ملک چھوڑ کر جانے کی اجازت نہیں تھی اور اگر تارکین وطن کوئی دوسری ملازمت اختیار کرنا چاہتے تو انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ قطر میں تقریباً 1.7 ملین بیرونی ورکرس ہیں جو راست یا بالواسطہ طور پر فٹ بال ورلڈکپ پراجکٹس سے وابستہ ہیں۔ فٹ بال ورلڈکپ کے لئے مختلف انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے قطر 226 بلین ڈالرس خرچ کرے گا۔ قطر کے ویج پروٹیکشن سسٹم میں بھی اب اصلاح کی جارہی ہے جس کے ذریعہ ورکرس کو اُن کی تنخواہ بروقت (امکانی طور پر ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو) ادا کی جائے گی اور وہ راست طور پر اُن کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کردی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT