Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / تاریخی دھرنا چوک کی اندرا پارک سے مضافات کو منتقلی

تاریخی دھرنا چوک کی اندرا پارک سے مضافات کو منتقلی

کئی غریب افراد کا کاروبار متاثر ، جواہر نگر ، شمس آباد ، پرتاپ سنگارام اور گڈی مائیما میں نئے چوک
حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد کا تاریخی دھرنا چوک گذشتہ روز جمعرات سے خاموش ہوگیا کیوں کہ حکومت تلنگانہ نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس مقام پر اب کسی بھی قسم کے دھرنے یا احتجاجی مظاہرہ کی کوئی اجازت نہ دی جائے جو افراد اور تنظیمیں احتجاج یا دھرنے منظم کرنا چاہتے ہیں اب انہیں شہر کے مضافاتی علاقوں کا رخ کرنا ہوگا ۔ واضح رہے کہ 1997 میں اس وقت کی تلگو دیشم حکومت نے اندرا پارک کے قریب اس مقام کو دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے لیے مخصوص کردیا تھا ۔ جس کے بعد سے وہاں کئی اہم دھرنے منظم کیے گئے ۔ حتی کہ تحریک تلنگانہ میں بھی اس تاریخی مقام کو مرکزی اہمیت حاصل رہی ۔ اس اعتبار سے یہ علاقہ سیاسی و سماجی تحریکوں کا ایک اہم گڑھ بن گیا تھا ۔ اندرا پارک کے اس مقام پر ہمہ وقت گھما گھمی نے جہاں کئی تحریکوں کو کامیابی بخشی وہیں سینکڑوں افراد کو روزگار کے ذریعہ گذر بسر کے مواقع بھی فراہم ہوئے تھے ۔ جہاں وقفہ وقفہ سے چھوٹے یا بڑے احتجاجی پروگراموں کے موقع پر ہزاروں افراد جمع ہوا کرتے تھے اور سینکڑوں افراد اشیاء خورد و نوش کی فروخت کے علاوہ ڈیروں ، شامیانوں ، کرسیوں کی سربراہی کو اپنا ذریعہ آمدنی بنائے ہوئے تھے ۔ لیکن اب اس دھرنا چوک کی برخاستگی نے ان سینکڑوں افراد کا روزگار بھی ختم کردیا ہے ۔ حکومت کے اس فیصلہ نے نہ صرف احتجاجی مظاہرے اور دھرنے منظم کرنے والوں کو بلکہ ان پروگراموں کے دوران کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرتے ہوئے اپنا کاروبار حیات چلانے والے غریبوں کو بھی یکساں طور متاثر کیا ہے ۔ دھرنا چوک کے قریب گذشتہ 10 سال سے مشروب فروخت کرنے والے ایک شخص شیویا نے کہا کہ دھرنا کے روز وہ بہ آسانی 500 روپئے کمایا کرتا تھا ۔ لیکن اب یہاں دھرنے نہیں ہوں گے ۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کا کاروبار بھی نہیں چلے گا ۔ شیویا نے کہا کہ ’ اب میرا مستقبل پریشانی سے دوچار ہوگیا ہے ‘ ۔ دھرنا چوک پر ایک ٹینٹ ہاوز کے مالک وینکٹیش نے کہا کہ اس علاقہ میں اس کی چھ دوکانات تھیں جن کے ذریعہ دھرنوں کے موقع پر وہ خیمے ، شامیانے اور کرسیاں سربراہ کیا کرتا تھا اب چونکہ دھرنا چوک مضافات کو منتقل ہوگیا ہے ۔ چنانچہ اس کو بھاری نقصان کا سامنا ہے ۔ اس کے برخلاف مقامی افراد نے اس فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ 50 سالہ خانگی ملازم نے کہا کہ لاوڈ اسپیکرس اور سیاسی قائدین کی نعرہ بازی اب قصہ ماضی بن جائے گی ۔ دفتر کی ملازمہ 40 سالہ شلپا نے امید ظاہر کی کہ اب ٹریفک کی آمد و رفت آسان ہوجائے گی ۔ ریاستی حکومت نے شہر کے چار مضافاتی علاقوں جواہر نگر ، شمس آباد ، گڈی مائیما اور پرتاپ سنگارام میں دھرنے منظم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ہر ایک دھرنا چوک کے لیے پانچ ایکڑ اراضی دینے کا فیصلہ کی ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT