Friday , July 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تاریخی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ، سیاحتی مقامات کی ترقی کا دعویٰ

تاریخی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ، سیاحتی مقامات کی ترقی کا دعویٰ

برطانوی طرز تعمیر کا شاہکار نمونہ ، خورشید جاہ کی دیوڑھی تباہی کے دہانے پر ، محکمہ آثار قدیمہ کی لاپرواہی
حیدرآباد۔16فروری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے سیاحتی مقامات کی ترقی کیلئے حکومت کے اعلانات کے باوجود شہرکی کئی تاریخی عمارتوں کی حالت انتہائی نا گفتہ بہ ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد کو سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر شہر کی تاریخی عمارتوں کی تباہی پر اختیار کردہ خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت سیاحتی فروغ کے اعلانات کے متعلق صرف اعلانات کرنا جانتی ہے۔پرانے شہر کے علاقہ شاہ گنج میں واقع خورشید جاہ کی دیوڑھی جو کہ برطانوی طرز تعمیر کا شاہکار نمونہ ہے لیکن اس دیوڑھی کے تحفظ کے متعلق اختیار کردہ رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خود محکمہ آثار قدیمہ اس قدیم تاریخی دیوڑھی کے منہدم ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں کئی ایسی تاریخی عمارتیں ہیں جنہیں تباہ ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے اور پرانے شہر میں اگر صرف تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے اور ان مقامات کے سیاحتی فروغ کو ممکن بنانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پرانے شہر کو حیدرآباد کے تاریخی ورثہ میں شامل کیا جاسکتا ہے کیونکہ پرانے شہر کے علاقو ںمیں موجود تاریخی عمارتوں کے مشاہدہ کیلئے ایک یا دو دن کافی نہیں ہیں اتنی بڑی تعداد میں تاریخی عمارتیں شہر کے اس خطہ میں موجود ہیں جن میں شاہ گنج میں واقع دیوڑھی خورشید جاہ بھی شامل ہے ۔محکمہ آثار قدیمہ متعلقہ منتخبہ نمائندوں ‘ عوام اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ساتھ مشترکہ طور پر اس دیوڑھی کے تحفظ و ترقی کیلئے اقدامات کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اس تاریخی عمارت اور علاقہ کی سیاحتی ترقی کو ممکن بنائے جانے سے جو فوائد حاصل ہوں گے ان کے متعلق عوام میں شعور اجاگرکرنے کی ضرورت ہے ۔ خورشید جاہ دیوڑھی کے اندرونی حصہ کا مشاہدہ کرنے والے اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ دیوڑھی کی مرکزی عمارت میں چھت اور فرش پر جن پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے وہ بھی فن تعمیر کا شاہکار نمونہ ہے۔اس عمارت کو چند فلم پروڈیوسرس کے سبب کچھ آہک پاشی نصیب ہوئی لیکن اس عمارت کی موجودہ حالت پر حیدرآبادی کہاوت ’اندر مٹی اوپر چونا‘ صادق آتی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے عہدیدار اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ اس عمارت کی حالت بتدریج مخدوش ہوتی جا رہی ہے ۔ محکمہ کے اعتراف کے باوجود اس عمارت کی آہک پاشی و تزئین نو کے متعلق کوئی منصوبہ سازی نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی مؤثر نمائندگی کی جا رہی ہے بلکہ اس عمارت میں چلائے جانے والے کالج کو نئی عمارتوں میں منتقل کرتے ہوئے عمارت کے منہدم ہونے کا انتظار کیا جانے لگا ہے۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس علاقہ کی سیاحتی ترقی ہو اور اس سلسلہ میں حکومت کو کوئی منصوبہ پیش کرنا چاہئے لیکن موجودہ حکومت بھی شائد پرانے شہر کو ترقی سے محروم رکھنے کی روایت کو ختم کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتی اسی لئے اس جانب کوئی پیشرفت نہیں کی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT