Monday , October 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / تاریخی فتح پر نازاں انڈیا آج ہی سیریز جیتنے کوشاں

تاریخی فتح پر نازاں انڈیا آج ہی سیریز جیتنے کوشاں

انگلینڈ کیخلاف دوسرا ونڈے کٹک میں کھیلا جائے گا۔ دوپہر 1:30 بجے آغاز مقرر ۔ مورگن زیرقیادت مہمان ٹیم کیلئے کیدار جادھو نیا چیلنج

کٹک ، 18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) تاریخی کامیابی کے بل بوتے پر جوش و خروش سے بھرپور انڈین ٹیم جس نے غیرمعمولی ٹارگٹس کے کامیاب تعاقب کو اپنا آرٹ بنالیا ہے، پھر ایک بار اپنے بے جگر مظاہرے کو پیش کرنے کوشاں ہے جیسا کہ وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز جیتنے والی فتح کل یہاں دوسرے ونڈے انٹرنیشنل میں ہی درج کرالینا چاہتے ہیں، جو دن ؍ رات کا مقابلہ رہے گا اور دوپہر 1:30 بجے سے مقرر ہے۔ وکٹری ٹارگٹ کے تعاقب میں ماہر ویراٹ کوہلی ایک کے بعد دیگر جادوئی اننگز کھیلتے جارہے ہیں، اس لئے 300 سے زائد کے اسکورز کو عبور کرنا میدان میں چہل قدمی جیسا آسان معلوم ہونے لگا ہے۔ اس معاملے میں خود کپتان 17 سنچریاں اسکور کرتے ہوئے 97 سے زیادہ کا اوسط رکھتے ہیں۔ اور ہندوستان کو کیدار جادھو کی شکل میں ایک نیا معیاری جارحانہ بیٹسمن ملا، جس نے اپنی 65 گیندوں میں سنچری والی اننگز کے دوران اپنے کپتان کی اسٹروک در اسٹروک برابری کی ہے۔ انڈیا اب واحد ٹیم ہے جس نے 350 سے زیادہ کے ٹارگٹس کا تین مرتبہ کامیاب تعاقب کیا اور ہر موقع پر کوہلی سنچری بناتے ہوئے ٹیم کی اننگز کی جان بنے رہے لیکن جادھو کی اننگز نے انگلش کیپٹن اوئن مورگن کو بھی حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ پست قد بیٹسمن کا اس قدر مختصر انٹرنیشنل کریئر میں زبردست اعتماد دیکھتے ہوئے ہر کوئی متاثر ہوا ہے اور تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکا۔ کٹک میں دوسرے او ڈی آئی کی تیاری کرتے ہوئے انگلینڈ ٹیم بلاشبہ کچھ پست حوصلہ ہوگی کہ وہ 350 کے اسکور کا دفاع نہیں کرپائے اور اُن کے چار ٹاپ آرڈر بیٹسمین ففٹی بنانے کے بعد سنچری سے قبل پویلین لوٹ آئے۔

اور پھر انڈیا کا بارہ بتی اسٹیڈیم میں اچھا ریکارڈ ہے، جہاں وہ اپنے 15 او ڈی آئی مقابلوں میں سے 11 جیتے ہیں۔ ویسے تو پونے کی بیٹنگ کیلئے سازگار وکٹ پر دونوں طرف کے بولروں کی پٹائی ہوئی، لیکن مہندر سنگھ دھونی اور یوراج سنگھ کی ناکامی ہندوستان کی فتح میں واحد منفی بات ریکارڈ ہوئی۔ ایک اور شخص جسے کچھ تشویش کی ضرورت ہے دہلی لیفٹ ہینڈر شکھر دھون ہیں کیونکہ اجنکیا رہانے سکنڈ وارم اپ میچ میں 83 گیندوں میں 91 رنز بنانے کے بعد قطعی گیارہ میں اُن کی جگہ کیلئے خطرہ بن گئے ہیں۔ انگلینڈ کو گزشتہ میچ کی درگت سے سنبھلنے کیلئے کچھ غیرمعمولی مظاہرہ پیش کرنے کی ضرورت رہے گی کیونکہ انھیں بقیہ دونوں میچز جیتنے ہیں جو موجودہ حالات میں اُن کیلئے جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ انگلینڈ کی بیٹنگ طاقت سے بھرپورنظر آتی ہے مگر اُن کی بولنگ حالیہ عرصے میں جدوجہد کرتی دکھائی دی ہے جہاں وہ ضرور کچھ تبدیلیاں لانا چاہیں گے ، کیونکہ اندرون چھ ماہ انھیں وطن میں میگا ایونٹ چمپینس ٹروفی کی میزبانی کے چیلنج سے نمٹنا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT