Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تاریخی مکہ مسجد حکومت کی لاپرواہی کا شکار، تزئین نو کا وعدہ مفقود

تاریخی مکہ مسجد حکومت کی لاپرواہی کا شکار، تزئین نو کا وعدہ مفقود

Mecca Masjid, one of the oldest mosques, in Old City of Hyderabad yet to receive Rs 10 crore promised by deputy chief minister for maintenance and renovation, and Contract employees are not getting their pay since 3 months including security personnel and Mr. Md Zahid who look after the sound system during five time daily prayers was not getting his salary since 11 months despite many complaints the concerned authorities yet to react on this very sensitive issue. CCTV Cameras are also not working a Major security concerned as hundreds of tourist visits every day. Several restoration and repair works yet to be done .Pic:Style photo service.

سیکورٹی سی سی ٹی وی کیمرے ناکارہ، ملازمین تنخواہ سے محروم، ساؤنڈ سسٹم کمزور، مسجد کے سامنے فٹ پاتھ پر قبضے

حیدرآباد۔/11جنوری، ( سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کی دیکھ بھال اور اس کی بڑے پیمانہ پر تزئین نو، وضؤ خانہ کو بہتر صاف ستھرا بنانے، پینے کے پانی کا موثر انتظام کرنے کیلئے حکومت وقت کے نمائندے اکثر وعدے کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ سال ماہ مئی میں ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی نے بھی مکہ مسجد کا دورہ کرتے ہوئے 10کروڑ روپئے کی لاگت سے بڑے پیمانہ پر تزئین نو کے کاموں کا اعلان کیا تھا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری کی حیثیت سے سید عمر جلیل بھی ان کے ہمراہ تھے مگر کئی ماہ گذر جانے کے بعد بھی تاریخی مکہ مسجد اپنے تقدس کے ساتھ ساتھ صاف ستھرے اور پاکیزہ ماحول کو ترس رہی ہے۔ ملازمین مکہ مسجد کو مشاہیر، اجرتیں بھی موصول نہیں ہوئیں۔ حکومت نے ہنوز 10کروڑ روپئے جاری نہیں کئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کا وعدہ وفا نہ ہوسکا۔ مکہ مسجد سیکورٹی اعتبار سے اب حساس مقام بن گیا ہے جہاں سیکورٹی عملہ کو گذشتہ 3 ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔ یہ بھی شکایت افسوسناک ہے کہ پنجوقتہ نمازوں کے دوران ساؤنڈ سسٹم کی دیکھ بھال کرنے والے مسٹر محمد زاہد کو گذشتہ 11ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی ۔ اس سلسلہ میں متعلقہ حکام سے کئی مرتبہ نمائندگی بھی کی گئی۔ یہ بھی شکایت عام ہے کہ متعلقہ عہدیدار اور سرکاری محکمہ جات مکہ مسجد کی سیکورٹی کے معاملہ میں لاپرواہی برت رہے ہیں۔ مکہ مسجد بم دھماکہ واقعہ کے بعد مسجد کے اندر اور باہر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے تھے لیکن ان میں کئی کیمرے کام نہیں کررہے ہیں۔ روزانہ اس تاریخی مسجد کو دیکھنے کیلئے سینکڑوں سیاح آتے ہیں لیکن مکہ مسجد کی سیکورٹی اور نگہداشت کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور اس کے  مختلف محکموں میں کوئی تال میل نہیں ہے اور حکومت کے وعدوں کا بھی کوئی پاس و لحاظ نہیں ہے۔ مکہ مسجد میں نمازوںکی ادائیگی کیلئے جائے نمازوں کو صاف ستھرا رکھنے کا خیال اور صحن اور وضو خانہ کی صفائی کو یقینی بنانے کا عمل مفقود نظر آرہا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت میں وعدوں کی حکمرانی نے اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں مگر عدل تک پہونچنا یا عمل کو یقینی بنانا عموماً ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ مصلیوں اور شہریوں نے شکایت کی ہے کہ حکومت اور اس کی حاشیہ بردار مسلم قیادت نے مکہ مسجد کے بشمول پرانے شہر کے لئے اپنی ذمہ داری کو فراموش کردیا ہے۔ مکہ مسجد کو نماز ادا کرنے کیلئے دور دور سے آنے والے مصلیوں کو اپنی موٹر گاڑیوں، موٹر سیکلوں کی پارکنگ کیلئے جگہ دستیاب نہیں ہے۔ مسجد کے باہر فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے  سارے علاقہ پر قبضہ کرکے مصلیوں کی موٹر گاڑیوں کو ٹہرانے سے منع کرتے ہیں۔ تاریخی مکہ مسجد کی اس خوبصورت جگہ کو غریب مسلمانوں کے نام پر ٹھیکداری کرنے والوں نے ٹھیلہ بنڈیوں کی قطار کھڑی کرکے ان غریبوں کے حوالے سے من مانی کا معمول بنالیا ہے۔ بظاہر یہ ٹھیلہ بنڈیاں غریبوں کی دکھائی جاتی ہیں جب کہ ان کے اصل گتہ دار وہ ٹھیکدار ہیں جو حکومت وقت اور مسلم قیادت کے حامی ہوتے ہیں۔ پولیس، ٹریفک پولیس، بلدیہ اور دیگر متعلقہ حکام کو تمام حالات کا علم ہوتا ہے پھر بھی مقدس مقامات، تاریخی عمارتوں کی آڑ میں اندھا دھند طریقہ سے مصلیوں، عوام اور سیاحوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔ حکومت ان بے شمار سوالوں کا شکار ہونے کے باوجود جواب دینے سے قاصر ہے۔ متعلقہ محکمہ اور عہدیدار جھوٹ کے چراغ روشن رکھنے میں کامیاب ہیں۔ مکہ مسجد کی سیکورٹی کو موثر بنانے کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود نے 45 لاکھ کے کلوز ڈ سرکٹ کیمروں کی تنصیب کا بھی منصوبہ بنایا تھا۔ اسپیشل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے حال ہی میں یہ تجویز حکومت کو روانہ کی ہے جبکہ موجودہ کیمرے کئی ماہ سے غیر کارکرد ہیں۔ کیمروں کی مرمت کے باوجود یہ مناسب طریقہ سے کام نہیں کرتے۔ اس کا مستقل حل تلاش کرنے کیلئے ہائی ڈیفنیشن کے کیمروں کی تنصیب پر توجہ دی گئی ہے۔ مئی 2007 مکہ مسجد بم دھماکوں کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود نے 14 اسٹاٹک کیمرے اور 6 ڈور فریم میٹل ڈیٹکٹرس نصب کئے تھے ، بعد کے برسوں میں مزید 8 کیمرے لگائے گئے تھے جن کو مسجد کے احاطہ میں ایک کنٹرول روم سے مربوط کیا گیا تھا۔ لیکن ان کیمروں کی آنکھ دھیرے دھیرے کمزور ہوتی گئی اور سٹی پولیس نے اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کو کئی مکتوبات بھی روانہ کئے لیکن ہنوز کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

TOPPOPULARRECENT