Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تاریخی مکہ مسجد میں جلسہ یوم القرآن پر تنازعہ

تاریخی مکہ مسجد میں جلسہ یوم القرآن پر تنازعہ

ٹی آر ایس کے غیر مسلم شخص کی تقریر کے لیے اجازت طلبی
تیسرا جمعہ الاٹ کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 12 مئی (سیاست نیوز) رمضان المبارک کے دوران تاریخی مکہ مسجد میں جلسہ یوم القرآن کی منظوری کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کو اچانک ایک تنازعہ کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر سال محکمہ اقلیتی بہبود یوم القرآن کے سلسلہ جمعہ کو مختلف مسلم جماعتوں کو اجازت منظور کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ سال ٹی آر ایس سے تعلق کا دعوی کرتے ہوئے ایک غیر مسلم شخص نے مسجد میں تقریر کی اجازت طلب کرتے ہوئے درخواست داخل کردی۔ اس شخص نے گزشتہ سال بھی اسی طرح کی درخواست داخل کی تھی اور محکمہ اقلیتی بہبود نے اس درخواست کو پولیس سے رجوع کردیا تھا۔ جاریہ سال اسی شخص نے دوبارہ درخواست داخل کی اور کہا کہ ہندوستانی شہری کی حیثیت سے وہ مکہ مسجد میں اظہار خیال کا حق رکھتا ہے۔ لہٰذا اسے تیسرا جمعہ الاٹ کیا جائے۔ اس شخص نے تحریری درخواست میں بتایا کہ وہ اسلام اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے بارے میں اظہار خیال کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا دیگر تنظیموں کی طرح اسے بھی اظہار خیال کا موقع دیا جائے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اس درخواست کو کمشنر پولیس حیدرآباد سے رجوع کردیا تاکہ درخواست گزار کو سمجھا مناکر روکا جاسکے۔ یہ پہلا موقع ہے جب جمعہ میں تقریر کی درخواست کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص نے داخل کی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ مسجد میں سیاسی تقاریر کی جارہی ہیں لیکن وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اظہار خیال کرنا چاہتا ہے۔ مذکورہ درخواست ملتے ہی اقلیتی بہبود کے عہدیدار الجھن کا شکار ہوگئے اور اس معاملہ کو پولیس سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ واضح رہے کہ رمضان المبارک میں 4 جمعہ آنے کی صورت میں دو جمعہ مجلس کو الاٹ کیئے جاتے ہیں جبکہ ایک جمعہ مجلس بچائو تحریک اور ایک جمعہ میں سنی علماء بورڈ کو جلسہ کے انعقاد کی اجازت دی جاتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پولیس اس شرارت بھری درخواست پر کیا کارروائی کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT