Sunday , April 30 2017
Home / شہر کی خبریں / تاریخی مکہ مسجد کے تحفظ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی عدم دلچسپی

تاریخی مکہ مسجد کے تحفظ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی عدم دلچسپی

چھت بوسیدہ ، مرمتی کام شروع نہیں کیا گیا ، رمضان کے آغاز سے قبل کام کی تکمیل ناممکن
حیدرآباد ۔ 22 ۔  فروری (سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کے تحفظ سے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ مسجد کی چھت بوسیدہ ہونے کا معاملہ گزشتہ رمضان سے قبل منظر عام پر آیا تھا لیکن ایک سال گزرنے کو ہے ، ابھی تک مرمت کے کام شروع نہیں کئے گئے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ماہرین کے ذریعہ حکومت نے مسجد کی چھت کی مرمت اور تزئین نو کے کام انجام دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ماہرین کی رپورٹ کی بنیاد پر 8 کروڑ 48 لاکھ روپئے کا بجٹ بھی منظور کیا گیا لیکن آج تک تعمیری کام کا آغاز نہیں ہوا ہے ۔ اب جبکہ رمضان المبارک کے آغاز کو تین ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ تعمیری کاموں کے عدم آغاز سے مصلیان مسجد میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ مسجد کے اندرونی حصہ میں بوسیدہ چھت کے نچلے حصہ میں مصلیوں کو نماز سے روک دیا گیا ہے۔ ایک حصہ کی حدبندی کرتے ہوئے صفیں بنانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اوپری حصہ کی چھت بوسیدہ ہوچکی ہے اور معمولی بارش کی صورت میں پانی چھت سے دیواروں میں اتر رہا ہے۔ اندرونی حصہ کی حدبندی کو رمضان میں ایک سال مکمل ہوجائے گا لیکن حکام کو چھت کی درستگی کی کوئی فکر نہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کام کی تکمیل کیلئے 4 تا 6 ماہ درکار ہوں گے ۔ اگر فی الفور کام شروع کیا جائے تو رمضان کے آغاز تک جنگی پیمانہ پر مکمل کیا جاسکتا ہے۔ موسم گرما کے پیش نظر مرمتی کام کا فوری آغاز کیا جانا چاہئے کیونکہ رمضان کے ساتھ ہی بارش کا آغاز ہوتا ہے اور بارش میں چھت کی مرمت کا کام انجام نہیں دیا جاسکتا۔ گزشتہ ایک سال سے بارش کا بہانہ بناکر حکام تعمیری کام سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے عہدیدار اس کام کیلئے ماہر کنٹراکٹر کی تلاش میں ہے۔ حکومت نے گنبدان قطب شاہی کی تزئین نو میں اہم رول ادا کرنے والے آرکیٹکٹ شرد چندرا کی خدمات حاصل کی ہیں۔ مصلیان مکہ مسجد کا کہنا  ہے کہ بجٹ کی اجرائی کے باوجود تعمیری کاموں میں تاخیر مسجد کی چھت کیلئے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ رمضان سے عین قبل تعمیری کاموں کے آغاز کی صورت میں مصلیوں کو تکالیف کا سامنا ہوگا اور رمضان میں یہ کام انجام نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ماہرین کے ذریعہ جنگی خطوط پر تعمیری کاموں کا آغاز کرے تاکہ یہ تاریخی عمارت اپنی مکمل عظمت کے ساتھ محفوظ رہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT