Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تاریخی مکہ مسجد کے مکانات و ملگیات کے کرایہ کے حصول و خرچ میں بے قاعدگیاں

تاریخی مکہ مسجد کے مکانات و ملگیات کے کرایہ کے حصول و خرچ میں بے قاعدگیاں

تحقیقات کی ہدایت ، تفصیلات کی طلبی ، سکریٹری اقلیتی بہبود کا سخت اقدام
حیدرآباد۔/13نومبر، ( سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کے تحت مکانات اور ملگیات کے کرایہ کے حصول اور خرچ کے سلسلہ میں مبینہ بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے تحقیقات کی ہدایت دی اور گزشتہ چند برسوں کے دوران وصول کردہ کرایوں اور خرچ کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ابتدائی جانچ میں مکہ مسجد کے تحت موجود مکانات اور ملگیات کے کرایوں اور ان کے خرچ میں 5لاکھ روپئے سے زائد کے خردبرد کا انکشاف ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مکہ مسجد سے متصل مہاجرین کیمپ علاقہ میں تقریباً 143 چھوٹے مکانات اور ملگیات موجود ہیں جو مکہ مسجد کے تحت آتے ہیں ان کا کرایہ وصول کرنے کی ذمہ داری مکہ مسجد کے سپرنٹنڈنٹ اور منیجر کی ہے لیکن کئی برسوں سے کرایوں کی تفصیلات سے حکومت کو لاعلم رکھا گیا اور اپنے طور پر کرائے حاصل کرتے ہوئے حکومت کی اجازت کے بغیر اسے خرچ کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں جب سکریٹری اقلیتی بہبود نے متعلقہ افراد سے استفسار کیا تو انہیں یہ کہہ کر اپنی غلطی چھپانے کی کوشش کی گئی کہ مکانات اور ملگیات کے کرائے معمولی ہیں اور ان کی وصولی پابندی سے نہیں ہوپاتی۔ مکہ مسجد کے متعلقہ ذمہ داروں نے یہ عذر پیش کیا کہ کرایہ دار باقاعدگی سے کرایہ ادا نہیں کرتے اور جوکچھ بھی رقم حاصل ہوتی ہے وہ مسجد کی ضروریات کی تکمیل پر خرچ ہوجاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرایوں کی وصولی کے بعد رقم جمع کرنے کیلئے علحدہ اکاؤنٹ ہونا چاہیئے لیکن آج تک اس طرح کا کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے اور حاصل ہونے والی رقم من مانی طور پر خرچ کی جارہی ہے جس کا آج تک کسی نے حساب نہیں پوچھا جس کا فائدہ مکہ مسجد کے حکام اٹھارہے ہیں۔ حکومت نے اس معاملہ کا سختی سے نوٹ لیتے ہوئے معاملہ کی جانچ کی ہدایت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ کرایوں کی وصولی کیلئے کوئی رسید تک نہیں دی جاتی اور بعض معاملات میں زائد رقم وصول کرکے معمولی رقم درج کی جاتی ہے۔ کئی کرایہ داروں نے شکایت کی کہ کرایہ میں بھاری اضافہ کیا گیا لیکن یہ رقومات چند ذمہ دار اپنی مرضی سے خرچ کررہے ہیں۔ کسی بھی ادارہ کے تحت موجود مکانات اور ملگیات کا کرایہ حاصل کرنے کے بعد اسے جمع کرنے کیلئے خصوصی اکاؤنٹ ہونا چاہیئے لیکن مکہ مسجد کے ذمہ دار اس سلسلہ میں بے پرواہ ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی اجازت کے بغیر ہی روز مرہ کے اخراجات اور مینٹننس کے نام پر رقومات خرچ کی جارہی ہیں اور اس کی اطلاع متعلقہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کو بھی نہیں ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مسجد کے تمام انتظامات کے اخراجات محکمہ کی جانب سے ادا کئے جاتے ہیں اور علحدہ مینٹننس کے کاموں کیلئے کرایوں کی رقم خرچ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ مسجد کے نگرانکار اور ملازمین کی ملی بھگت کے نتیجہ میں بھاری رقومات کا من مانی طور پر حکومت کی اجازت کے بغیر خرچ کیا جارہا ہے جو قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ کئی برسوں سے کرایوں میں اضافہ تک نہیں کیا گیا اور جو بھی رقم حاصل ہوتی ہے اسے اپنی مرضی سے خرچ کرتے ہوئے حکومت کو تاریکی میں رکھا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسجد کیلئے مستقل سپرنٹنڈنٹ اور منیجر کی عدم موجودگی کے باعث اس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ مسجد کے ملازمین میں کوئی بھی مستقل نہیں ہے جس کے باعث ان میں جوابدہی کا تصور نہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود مسجد کے تمام اُمور کی نگرانی اور کرایوں کی وصولی میں باقاعدگی پیدا کرنے کیلئے ایک ریٹائرڈ پولیس عہدیدار کو مقرر کرنے کی تجویز رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ملازمین کیلئے سرویس رولس تیار کئے جائیں گے تاکہ انہیں خدمات کے سلسلہ میں جوابدہ بنایا جاسکے۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے سپرنٹنڈنٹس کی میعاد ختم ہوچکی ہے اور وہ توسیع کیلئے کوشش کررہے ہیں۔ حکومت اس طرح کے ریٹائرڈ ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کے بجائے ریٹائرڈ پولیس عہدیدار کو مقرر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ مسجد کے احاطہ میں جاری غیر اخلاقی سرگرمیوں پر روک لگائی جاسکے۔ حکومت کو شکایات ملی ہیں کہ شام کے اوقات میں مکہ مسجد کا وسیع تر احاطہ سیر و تفریح کے مرکز میں تبدیل ہوجاتا ہے اور سیکوریٹی حکام اور ملازمین کی ملی بھگت سے اس طرح کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

TOPPOPULARRECENT