Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ’تاریک طاقتیں جمہوریت کو تباہ کرنے کے درپے‘ سیکولر اقدار کو خطرہ

’تاریک طاقتیں جمہوریت کو تباہ کرنے کے درپے‘ سیکولر اقدار کو خطرہ

New Delhi: Congress President Sonia Gandhi speaks during the Indira Gandhi Centennial Lecture, organised on the occasion of the birth anniversary of Former Prime Minister Indira Gandhi, at Vigyan Bhavan in New Delhi on Saturday.PTI Photo by Manvender Vashist(PTI11_19_2016_000257A)

’’ہندوستان کو تنگ نظر، فرقہ پرست نظریہ کا قیدی بننے نہیںدیا جائے گا‘‘ تکثیری اقدار پر نفرت و انتشار کے بادل منڈلا رہے ہیں

بعض افراد اور تنظیموں نے ہندوستان چھو ڑدو
تحریک کی مخالفت کی تھی
لوک سبھا میں سونیا گاندھی کا خطاب
مودی نے بغور سماعت کیا
کرن کھیر کو خود بی جے پی ارکان نے
نعرہ بازی سے روک دیا

نئی دہلی ۔ 9 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے آج ان اندیشوں کا اظہار کیا کہ آیا ’’تاریکی کی طاقتیں‘‘ جمہوریت کی جڑوں کو تباہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ سونیا گاندھی نے آر ایس ایس پر بالواسطہ مبہم وار کرتے ہوئے کہا کہ بعض تنظیموں نے ’’ہندوستان چھوڑدو‘‘ تحریک کی مخالفت کی تھی اور تحریک آزادی میں کوئی رول ادا نہیں کیا تھا۔ ’’ہندوستان چھوڑدو‘‘ تحریک کی 75 ویں سالانہ یاد کے موقع پر خصوصی بحث کے دوران لوک سبھا سے خطاب کے دوران سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ احساس پایا جاتا ہی کہ دستور میں شامل تکثیری اقدار پر ’’نفرت و انتشار کی سیاست کے بادل منڈلا رہے ہیں‘‘۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’ایسا محسوس ہوتا ہیکہ آزاد، جمہوری اور سیکولر اقدار کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اختلاف رائے پر بحث کے لئے عوامی جگہ سکڑتی جارہی ہے‘‘۔ سونیا گاندھی نے سوال کیا کہ’’آیا تاریکی کی طاقتیں ابھر رہی ہیں؟ آیا آزادی کے احساس کے وجود کے بارے میں خوف و اندیشے پیدا ہوگئے ہیں؟ آیا جمہوریت کی ان جڑوں کو تباہ کیا جارہا ہے جو مساوات، سماجی انصاف، قانونی نظام اور آزادی اظہارخیال پر مبنی ہیں‘‘۔ وزیراعظم نریندر مودی اس وقت سونیا گاندھی کے خطاب کی بغور سماعت کررہے تھے جب ان کی پارٹی (بی جے پی) اور اس کی نظریاتی مربی ہندوتوا تنظیم آر ایس ایس پر وہ (سونیا گاندھی) بالواسطہ تنقید کررہی تھیں۔ سونیا گاندھی نے مزید کہا کہ ’’ہمیں اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ایسے افراد اور تنظیمیں تھیں جنہوں نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک کی مخالفت کی تھی اور انہوں نے ہمارے ملک کی آزادی کیلئے کوئی رول ادا نہیں کیا تھا۔ سونیا گاندھی کے ان ریمارکس کے دوران بی جے پی کی رکن کرن کھیر ’’چھوت سے چھوت ہے‘‘۔ کے نعرے لگائیں لیکن حکمراں بنچوں نے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ کانگریس اکثر یہ الزام لگاتی رہی ہیکہ تحریک آزادی میں آر ایس ایس نے کوئی رول ادا نہیں کیا لیکن زعفرانی تنظیم اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے۔ سونیا گاندھی نے عوام پر زور دیا کہ وہ جبرواستبداد کی طاقتوں کو شکست دیں اور کہا کہ ’’ہم ہندوستان کے نظریہ کو تنگ نظری، پھوٹ، انتشار اور فرقہ پرست نظریہ کا قیدی بننے کی اجازت نہیں دے سکتے اور نہیں دیں گے‘‘۔ ہمیں اگر آزادی کی حفاظت کرنا ہے تو ہمیں ان طاقتوں کو ہرانا ہوگا جن سے اس کو خطرہ لاحق ہے۔ ہم پھوٹ انتشار و افتراق کی طاقتوں کو جیتنے کی اجازت نہیں دے سکتے اور یہ اجازت ہرگز نہیں دیں گے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT