Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تالاب کٹہ میں لڑکی کی عصمت ریزی و قتل مقدمہ کا آج فیصلہ

تالاب کٹہ میں لڑکی کی عصمت ریزی و قتل مقدمہ کا آج فیصلہ

حیدرآباد 18 اگسٹ (سیاست نیوز) بھوانی نگر تالاب کٹہ میں گزشتہ سال 11 اگسٹ کو 12 سالہ کمسن لڑکی کے عصمت ریزی و قتل کے شرمناک واقعہ کا فیصلہ آج عدالت میں مقرر ہے۔ تالاب کٹہ امان نگر (بی) کی ساکن کمسن لڑکی پراسرار طور پر اپنے مکان سے اُس وقت لاپتہ ہوگئی تھی جب وہ قریبی دوکان سے ترکاری لانے کیلئے روانہ ہوئی تھی۔ ماں نسیم بیگم کی شکایت پر بھوانی نگر پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے لڑکی کا پتہ لگانے کی کوشش شروع کردی تھی۔ دو دن بعد لڑکی کی مسخ شدہ نعش اُسی علاقہ کے ایک زیرتعمیر مکان کے سمپ سے دستیاب ہوئی تھی۔ ساؤتھ زون پولیس نے اِس کیس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے خاطی کی تلاش شروع کردی اور 6 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ پولیس کو مقامی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اہم سراغ دستیاب ہوا جس کی بنیاد پر 21 سالہ میوہ فروش محمد دستگیر ساکن بھوانی نگر تالاب کٹہ کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ساؤتھ زون پولیس کی تفتیش کے دوران اُس نے اعتراف کیا کہ کمسن لڑکی جب ترکاری خریدنے کے بعد مکان لوٹ رہی تھی ،اس نے لڑکی سے بدسلوکی کی اور ایک زیرتعمیر مکان لے گیا۔ لڑکی نے مدد کیلئے چیخ و پکار کی جس پر دستگیر نے اوڑھنی سے گلا گھونٹ کر قتل کردیا اور نعش کو سمپ میں ڈال دیا۔ پولیس کے شبہ سے بچنے کیلئے دستگیر اس لڑکی کی تدفین میں بھی شریک تھا ۔ بھوانی نگر پولیس نے محمد دستگیر کو گرفتار کرنے کے بعد اُسے عدالتی تحویل میں دے دیا تھا ۔بعدازاں اُس کیخلاف چارج شیٹ داخل کرتے ہوئے فاسٹ ٹریک کورٹ میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا اور کیس کی سماعت فرسٹ ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج نامپلی کورٹ کے اجلاس پر ہوئی۔ استغاثہ نے 24 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جس نے ملزم کے خلاف گواہی دی اور اُسے قصوروار بتایا۔ جج نے پبلک پراسکیوٹر اور وکیل دفاع کی بحث کے بعد 19 اگسٹ کو اِس کیس کا فیصلہ سنانے کا اعلان کیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT