Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / تاپی پراجکٹ کیلئے اسلامک ڈیولپمنٹ بینک کا قرض

تاپی پراجکٹ کیلئے اسلامک ڈیولپمنٹ بینک کا قرض

سعودی عرب اور جاپان کو بطور پارٹنر شامل کرنے کی کوشش ، ترکمانستان کے ذریعہ تین ممالک کو پائپ لائن کے ذریعہ گیاس کی سربراہی

نئی دہلی ۔6 ڈسمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب میں واقع اسلامک ڈیولپمنٹ بینک نے 15 بلین ڈالرس مالیتی ترکمانستان ۔ افغانستان ۔ پاکستان ۔ہندوستان ( تاپی ) قدرتی گیاس پائپ لائین پراجکٹ کے ایک حصہ کے طورپر 500 ملین ڈالرس قرض فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ تاپی پراجکٹ کنسورشیم کو 500 ملین ڈالرس قرض کے سلسلے میں معاہدہ پر گزشتہ ماہ دستخط کئے گئے ۔ ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ تاپی پائپ لائین کمپنی اس پراجکٹ میں سعودی فنڈ اور حکومت جاپان کو بطور پارٹنرس شامل کرنے کے لئے بھی بات چیت کررہی ہے ۔ 1,814 کیلومیٹر کے اس پراجکٹ کے ذریعہ ترکمانستان کے گلقیش ذخائر سے گیاس ہندوستان تک سربراہ کی جائے گی ۔ اسلامک ڈیولپمنٹ بنک نے نہ صرف ترکمانستان کے علاقہ بلکہ افغانستان اور پاکستان میں بھی پراجکٹ کو مالیہ فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ اس پراجکٹ کا کافی تاخیر سے آغاز ہوا اور رسمی طورپر 13 ڈسمبر کو افتتاح کیا گیا ۔ ترکمانستان کی قومی آئیل کمپنی ترکیمنگاس اس کنسورشیم کی لیڈر ہے ۔ جبکہ چار ممالک کی قومی تیل کی کمپنیاں اس میں شامل ہیں۔ ترکمانستان کی کمپنی اس پراجکٹ میں 85 فیصد حصص رکھتی ہے ۔ اسی طرح ہندوستانی کمپنی گیاس آتھاریٹی آف انڈیا لمیٹیڈ ( گیل) ، پاکستانی آئی ایس جی ایس اور افغان گیاس انٹرپرائزس کے فی کس 5فیصد حصص ہیں۔ تاپی پائپ لائین کے ذریعہ یومیہ 90 ملین اسٹانڈرڈ کیوبک میٹرس گیاس تیس سال کے لئے سربراہ کرنے کی گنجائش ہے ،

جس میں 38 ملین اسٹانڈرڈ کیوبک میٹر س گیاس فی کس ہندوستان اور پاکستان کو سربراہ کی جائے گی اور مابقی گیاس افغانستان کو فراہم ہوگی ۔ اس پراجکٹ کیلئے اے ڈی بی کو نومبر 2013 ء میں رقمی لین دین کا مشیر مقرر کیا گیا تھا اور یہ پراجکٹ 2018 ء میں کارکرد ہونے والا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ 2022 ء سے قبل اس کی تکمیل ممکن نہیں ۔ اس پراجکٹ میں تاخیر کی وجہ یہ بھی ہے کہ چار ممالک کو کوئی ایسی بین الاقوامی فرم نہیں مل سکی جو کنسورشیم کی قیادت کرسکے ۔ فرانس کی بڑی تیل کی کمپنی ٹوٹل نے ابتداء میں دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن ترکمانستان نے اس کی یہ شرط منظور نہیں کی کہ تیل کے ذخائر میں بھی اُس کی حصہ داری رہے ۔ عہدیدار نے بتایا کہ اس پراجکٹ پر 15 بلین ڈالر کی تخمینی لاگت آئے گی ۔ چار ممالک کے اس پراجکٹ پر جاریہ سال اپریل میں دستخط ہوئے ۔ تاپی کا مئی 2002 ء میں سب سے پہلے اعلان کیا گیاتھا ۔ ہندوستان اس کنسورشیم میں 2008 ء میں شامل ہوا ۔ 2014 ء میں پائپ لائین کنسورشیم تاپی پائپ لائین کمپنی کو شامل کیا گیا ۔ اس پراجکٹ کے تحت ترکمانستان کے گلقیش تیل کے ذخیرہ سے جسے پہلے جنوبی یوایتان عثمان کی حیثیت سے جانا جاتا تھا ، پائپ لائین کے ذریعہ ہیرات اور قندھار (افغان صوبوں ) کو گیاس سربراہ ہوگی اور پھر یہاں سے یہ پراجکٹ پاکستان میں داخل ہوگا اور یہاں ملتان براہ کوئٹہ گیاس سربراہ کرتے ہوئے فاضل کا (پنجاب ) یعنی ہندوستان میں داخل ہوگا ۔ اس طرح پراجکٹ کے تحت چار ممالک کو گیاس سربراہ کی جائے گی ۔ توقع کی جارہی ہے کہ مقررہ مدت میں یہ پراجکٹ مکمل کرلیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT