Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / تاپی گیس پائپ لائن علاقائی تعاون کا عظیم نظریہ

تاپی گیس پائپ لائن علاقائی تعاون کا عظیم نظریہ

افغانستان و پاکستان میں سکیوریٹی کے اندیشے مسترد، نائب صدر حامد انصاری
عشق آباد۔12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے 7.6 ارب امریکی ڈالر مالیتی تاپی گیس پائپ لائن کو علاقائی تعاون کا ایک عظیم نظریہ قرار دیتے ہوئے پاکستان اور افغانستان میں اس لائن کی سلامتی کے بارے میں مختلف اندیشوں کو مسترد کردیا۔ حامد انصاری نے ترکمانستان کے دارالحکومت میں تاپی گیس پائپ لائن کی اہم سنگ بنیاد اور مہاتما گاندھی کے مجسمہ پر پھول مالا چڑھانے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک سوال پر جواب دیا کہ ’’جی نہیں! میں ایسا نہیں سمجھتا۔ (ترکمان) صدر (گربنگلوئی بردی محمدوف) بھی (گیس پائپ لائن کی سلامتی پر) پر اعتماد ہیں۔ ہم گزشتہ روز ان سے تفصیلی بات چیت کرچکے ہیں۔‘‘ ان سے سوال کیا گیا تھاکہ یہ پائپ لائن افغانستان و پاکستان کے راستہ سے ہندوستان پہونچے گی

اور آیا افغانستان یا پاکستان میں اس (پائپ لائین) کی سکیورٹی کا کوئی مسئلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا (تاپی) پائپ لائن علاقائی تعاون کا ایک عظیم ترین نظریہ ہے جس کا خواب اگرچہ ہم نے دیکھا تو تھا لیکن یہ ہنوز شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا تھا۔ میں اس کے بارے میں کافی پرامید ہوں کہ رسم سنگ بنیاد کے بعد تعمیر کا آغاز ہوجائے گا۔ ‘‘ اس سوال پر کہ امن و غیرجانبداری سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں آیا انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے رسمی ملاقات کی ہے۔ حامد انصاری نے جواب دیا کہ کوئی رسمی ملاقات نہیں ہوئی۔ کانفرنس میں ہم سب موجود تھے۔ چنانچہ ہمارے درمیان ایک دو مرحلوں میں اجلاس ہوئے ہم نے شرکت کی۔ آگے بڑھ کر ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور چائے نوشی بھی کی۔ بس سب کچھ یہی ہوا۔ ترکمانستان کی سرکاری کمپنی ترکستان گیس چار ملکوں کے درمیان 1800 کیلو میٹر طویل گیس پائپ لائن بچھانے کے کام کی قیادت کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT