Thursday , August 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / تحریری طلاق بائن اور اسکا شرعی حکم

تحریری طلاق بائن اور اسکا شرعی حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کی غیرموجودگی میں روبرو گواہان ہندہ کو تحریری طور پر طلاق بائن دیدیا، بذریعہ نوٹری ، جس کی تصدیق کروائی۔ اور نوٹری شدہ طلاق نامہ ہندہ کو روانہ کردیا، ہندہ جس کو لینے سے گریز کیں۔
ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے ؟    بینوا تؤجروا
جواب:  صورت مسئول عنہا میں زید نے جس وقت اپنی زوجہ ہندہ کو تحریری طور پر طلاق بائن دیا اسی وقت وہ طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا رشتۂ زوجیت منقطع ہوگیا۔ اس کے بعد اگر دونوں دوبارہ ملنا چاہتے ہیں تو بقرار مہر جدید دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد شوہر کو صرف دو طلاق کا حق رہیگا۔ فتاوی عالمگیری جلداول کتاب الطلاق ص ۳۷۸ میں ہے:   الکتابۃ علی نوعین مرسومۃ و غیر مرسومۃ، ونعنی بالمرسومۃ أن یکون مصدرا ومعنونا مثل ما یکتب الی الغائب … ثم المرسومۃ لا تخلو اما أن أرسل الطلاق بأن کتب أما بعد فانت طالق فکما کتب ھذا یقع الطلاق و تلزمھا العدۃ من وقت الکتابۃ۔ اور ص ۳۴۸ میں ہے :  (وأما حکمہ) فوقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجعی و بدونہ فی البائن کذا فی فتح القدیر۔ اور ص ۴۷۳ میں ہے :  اِذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ أن یتزوجھا فی العدۃ و بعد انقضائھا۔
طلاقِ ثلاثہ اور سامان جہیز، زیورات وغیرہ کا شرعی حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ اور زید کا نکاح ہوا، بعد میں تھوڑی سی بحث و تکرار کے درمیان زید نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی ہندہ  کو تین مرتبہ طلاق ، طلاق، طلاق کے الفاظ کہے۔
ایسی صورت میں کیا یہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ نیز بوقت نکاح دیئے گئے چڑھاوا ، زیورات ، سامان جہیز ، تحائف وغیرہ کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب: بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں جس وقت زید نے بحالت غصہ اپنی زوجہ ہندہ کو دوران بحث و تکرار تین مرتبہ طلاق، طلاق،طلاق کے الفاظ کہا، اسی وقت وہ تینوں طلاقیں واقع ہوکر دونوں کا رشتۂ زوجیت بالکلیہ منقطع ہوگیا۔ اب اس کے بعد وہ دونوں بغیر حلالہ آپسمیں دوبارہ نکاح نہیں کرسکتے۔  فتاوی عالمگیری جلد اول کتاب الطلاق ص ۳۴۸ میں ہے :  وزوال حل المناکحۃ متی تم ثلاثا کذا فی محیط السرخسی۔ اور اسی کتاب کی فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ص ۴۷۳ میں ہے:  وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنہا کذا فی الھدایۃ۔
بوقت عقد لڑکی والوں کی طرف سے اور شوہر و سسرال والوں کی طرف سے لڑکی کو جو بھی سامان جہیز، پارچہ، زیورات، چڑھاوا، تحائف وغیرہ دیئے گئے وہ سب لڑکی کی ملک ہے اور اسی طرح لڑکے کو لڑکی والوں کی طرف سے تحائف وغیرہ دیئے گئے ہیں تو وہ لڑکے کی ملک ہے۔ جسکو جو چیز دی گئی وہ اس کا مالک ہے۔ درمختاربرحاشیہ ردالمحتار جلد۴ ص ۵ میں ہے:  وھذا یوجد کثرا بین الزوجین یبعث الیھا متاعا و تبعث لہ أیضاوھو فی الحقیقۃ ھبۃ۔            فقط واﷲأعلم

TOPPOPULARRECENT