Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / تحریک چلانے والے اخبارات سے ہم ڈرنے والے نہیں

تحریک چلانے والے اخبارات سے ہم ڈرنے والے نہیں

ف12فیصد تحفظات

نظام آباد کے مسلمانوں کے جلسہ سے رکن پارلیمنٹ کے کویتا کا خطاب
نظام آباد:20؍ فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) رکن پارلیمنٹ نظام آباد کے کویتا نے آج جمعیت العلماء نظام آباد کی جانب سے لمرا گارڈن فنکشن ہال میں منعقدہ علماء ، حفاظ کے اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے روزنامہ سیاست کا نام لئے بغیر ہی کہا کہ 12 فیصد تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے اخبار کے بڑے بڑے سرخیوں نیوز شائع کرتے ہوئے کے سی آر کو پریشان کرنا چاہتے ہیں لیکن کے سی آر نے 15سال تحریک کے دوران بڑے بڑے اخبارات میں بہت کچھ لکھا ہے اس سے کچھ پریشان ہونے والے نہیں ہیں اور ہم نے وعدہ کیا ہے اور اس پر عمل کریں گے اخبار والوں کو میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ اخبار کا کام نیوز لکھنا ہوتا ہے اپنے خیالات لکھنا نہیں ہوتا اپنے خیالات اگر لکھنا چاہتے ہیں تو اخبار زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے جو مہم اخبار کی جانب سے شروع کیا گیا ہے بار بار اضلاع میں جاکر چلارہے ہیں اسے جاری رکھیں اس سے ہمیں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی اور ہم بضد ہوں گے اور 12 فیصد تحفظ دے کر رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ 12 فیصد کی فراہمی سے ملازمتوں اور تعلیمی ریزرویشن حاصل ہوگا اور اس سے ترقی یقینی ہوگی انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کی انجام دہی میں نظام آباد کو سارے تلنگانہ میں سرفہرست بنانے کیلئے منصوبہ بند ہے اور یہ کام کرکے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر کے سی آر نے مسلمانوں کو 1000ہزار کروڑ روپئے کا بجٹ منظور کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عمل پیر ا ہے اور 2016-17 کے بجٹ میں 1200 کروڑ روپئے منظور کرتے ہوئے 900 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے باقی 300 کروڑ روپئے بھی کریں گے ۔ اس کے علاوہ نظام آباد میں منی حج ہائوز کے قیام اور مسلم میناریٹی ہاسپٹل کے قیام کیلئے سنجیدہ طور پر اقدامات کیاجارہا ہے انہوں نے اقامتی مدارس میں دینی تعلیم کیلئے علماء ، حفاظ کے تقرر کے علاوہ ڈبل بیڈروم بھی فراہم کرنے کا اعلان کیا اور جمعیت العلماء کے آفس کی فراہمی کیلئے بھی ایم پی لاڑس کے علاوہ دیگر طور سے بھی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ہندو مسلم اتحاد کو برقرار رکھنے کیلئے کے سی آر سنجیدہ ہے اور انہوں نے اُردو کو دوسری سرکاری زبان کے علاوہ اقامتی مدارس کا قیام عمل میں لایا ہے تاکہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور ہوسکے ۔ تعلیمی پسماندگی دور ہونے کی صورت میں ترقی ممکن ہوسکتی ہے آنے والے دو نسلوں کو تعلیم فراہم ہونے کی صورت میں تیزی کے ساتھ ترقی ہونے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی سے قبل ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب 25تا 40 فیصد تھا لیکن اب گھٹ کر ایک تا دو فیصد رہ گیا ہے جن افراد کا آزادی کی لڑائی میں کوئی حصہ نہیں تھا یہ ہم پر تنقید کررہے ہیں تلنگانہ تحریک کے دوران حصول تلنگانہ کیلئے نظام آباد کے رکن اسمبلی نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیاتھا اور اس وقت کے سی آر نے مسلمانوں سے خواہش کی تھی کہ بی جے پی کو ووٹ نہ دے لیکن تلنگانہ کے مخالفین کو ووٹ نہ دے مسلمانوں نے کے سی آر کی بات کو قبول کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے حصول کے بعد حکومت کو کاموں کی انجام دہی کیلئے وقت درکار رہا اور اب تیزی کے ساتھ کام انجام دئیے جارہے ہیں۔ موذن کی اذان اللہ کے گھر میں نماز کی ادائیگی کیلئے بلاتی ہے اور نماز سے ہی ترقی یقینی ہوگی انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت میں گھر گھر پانی فراہم کرنے کے علاوہ کسانوں کو بھی آبی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ مستحق افراد کو ایک ہزار روپئے کے وظائف فراہم کئے جارہے ہیں تلنگانہ میں جملہ 40 لاکھ افراد کو ہر مہینہ ایک ہزار روپئے وظائف دئیے جارہے ہیں ۔اس موقع پر رکن اسمبلی بیگالہ گنیش گپتا نے اپنی تقریر میں کہا کہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ترقیاتی کام عیدگاہ کی تعمیر سے شروع کی گئی اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ شادی مبارک اسکیم کا نظام آباد شہر میں سب سے زیادہ مسلمانوں کو فائدہ حاصل ہوا اور 280 افراد کو شادی مبارک کے چیکس تقسیم کئے گئے اور موسم گرما میں شہر کی عوام کو آبی سہولتیں فراہم کی گئی اس موقع پر ٹی آرایس سینئر قائد ایس اے علیم نے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو اقلیتی دوست ہے اور انہوں نے تحفظات کی فراہمی کیلئے سدھیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا تھا اور بی سی کمیشن کا قیام بھی عمل میںلایا ہے اور تلنگانہ تحریک کے دوران 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور 4 فیصد تحفظات بھی ٹی آرایس کی دین ہے۔ اسلامک ریسرچ سنٹر کیلئے 40 کروڑ روپئے فراہم کئے گئے ۔ اس جلسہ کی صدارت حافظ لئیق خان نے کی اس جلسہ میں مئیر آکولہ سجاتا ، نائب صدر ضلع پریشد سومنا ریڈی ، ٹی آرایس کارپوریٹر ایم اے قدوس، ٹی آرایس قائدین طارق انصاری، عمران شہزاد، نوید اقبال ، حلیم قمر، سید مجاہد علی ببو، اکبرخان ، اختر، فہیم قریشی ، رفیق قریشی کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر علماء و حفاظ کو ملبوسات کی تقسیم بھی عمل میں لائی گئی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT