Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تحصیلدار دفتر کے جونیئر اسسٹنٹ کا بیان قلمبند ملزم کے مکان سے ضبط کارتوس کی نشاندہی

تحصیلدار دفتر کے جونیئر اسسٹنٹ کا بیان قلمبند ملزم کے مکان سے ضبط کارتوس کی نشاندہی

حیدرآباد 13 فروری (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کے دوران آج ایک اور گواہ نے اپنا بیان دوبارہ قلمبند کروایا اور اُس نے ملزم کے مکان سے ضبط کئے گئے کارتوس کی نشاندہی کی۔ تحصیلدار دفتر سے وابستہجونیر اسسٹنٹ بی سرینواس نے جو حملہ کیس میں پنچ گواہ ہے بتایا کہ اُسے عبداللہ بن یونس یافعی کے مکان کو سی سی ایس پولیس کی جانب سے لیجایا گیا تھا جہاں پر اُس کی موجودگی میں تحقیقاتی عہدیداروں نے کارتوس کے 5 پیاکٹس ضبط کئے تھے۔ گواہ نے مزید بتایا کہ اُسے یہ یاد نہیں ہے کہ ملزم کا کتنے منزلہ مکان ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر پولیس ایم سرینواس نے اُسے یہ بتایا تھا کہ ضبط شدہ کارتوس ریوالور کے ہیں۔ سرینواس نے جرح کے دوران یہ بتایا کہ اُسے 4tv نیوز کے دفتر واقع گلزار حوض لیجایا گیا تھا جہاں پر ٹی وی نمائندہ رفیع موجود تھا۔ اُس نے دو تا تین منٹ تک حملہ کیس کی ڈی وی کیسٹ کا تجزیہ کیا اور صرف حملہ کی حد تک ہی ویڈیو فٹیج دیکھا۔ گواہ نے بتایا کہ اُسے یہ معلوم نہیں کہ ڈی وی کیسٹ میں حملہ کی ویڈیو کے علاوہ کون کونسی ویڈیو موجود ہے۔ جرح کے دوران وکیل دفاع ایڈوکیٹ جی گرو مورتی نے عدالت کو یہ بتایا کہ ملزم کا اقبالی بیان قابل قبول نہیں ہے جس پر اسپیشل پبلک پراسکیوٹر نے عدالت کو واقف کروایا کہ اقبالی بیان کا کچھ حصہ ہی قابل قبول ہے ۔ گواہ نے وکیل دفاع کے اِس دعوے کو غلط قرار دیا کہ وہ پولیس کی ایماء پر ملزمین اور ضبط شدہ اشیاء کی نشاندہی کررہا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT