Thursday , July 27 2017
Home / مضامین / تحفظات اور اخبار ’سیاست ‘ کی تحریک ’’ یہ اُن ہی کا ہے کا م جن کے حوصلے ہیں زیاد‘‘

تحفظات اور اخبار ’سیاست ‘ کی تحریک ’’ یہ اُن ہی کا ہے کا م جن کے حوصلے ہیں زیاد‘‘

غضنفر علی خان
ریاست تلنگانہ کی کے سی آر حکومت لائق ستائش ہے کہ اس نے مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کیلئے 12 فیصد تحفظات کے بل کو اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں منظوری دی۔ اب 12فیصد تحفظات فراہم کرنے میں ریاستی حکومت کو کوئی دقت نہیں ہوگی، تحفظات کی فراہمی کا یہ مطالبہ مسلم اقلیت نے نہیں کیا تھا، یہ وعدہ خود چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے علحدہ تلنگانہ کی تحریک کے دوران کیا تھا، اور باربار دہرایا تھا کہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں گے، انھوں نے یہ کر دکھایا۔ آج صرف تلنگانہ میں ہی نہیں بلکہ مغربی بنگال، تاملناڈو اور کیرالا میں بھی مسلم اقلیت کے لئے اس سے بھی زیادہ فیصد تحفظات ہیں۔ مرکزی حکومت کی سطح پر بھی اُصولاً کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ ایک معنیٰ میں تلنگانہ حکومت نے کوئی نیا قدم نہیں اُٹھایا ہے۔ ہاں البتہ چیف منسٹر اور ان کی پارٹی ٹی آر ایس کی تعریف کی جانی چاہیئے کہ ایک ایسے دور میں جہاں سیاسی پارٹیاں صرف مسلم اقلیت کو بہلانے کیلئے وعدے کرتی ہیں، جہاں مسلمانوں کو صرف ضرورتاً استعمال کیا جاتا ہے، جہاں ہر طرح سے ان کا استحصال کیا جاتا اور ان کے ساتھ دھوکہ اور فریب کیا جاتا ہے وہاں اس ماحول میں کسی سیاسی پارٹی اور کسی ریاست کے چیف منسٹر کا وعدہ پورا کرنا کسی خواب سے کم نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جبکہ مرکز کی بی جے پی حکومت مسلمانوں کیلئے نت نئے مسائل کھڑے کررہی ہے جہاں مسلمانوں کو دوسرے بلکہ تیسرے درجہ کا شہری بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے اور مسلمان نا اُمید ہوتے جارہے ہیں‘ ٹی آر ایس نے بڑی جرأت دکھائی اور عزم و حوصلہ سے کام کیا۔
حکومت کی سطح پر تحفظات کی فراہمی کا تیقن تھا ہی لیکن اس کو ایک تحریک بنانے کا سہرا اُردو روز نامہ ’سیاست‘ اور اس کے ایڈیٹر جناب زاہد علی خاں ، ان کے فرزند نیوز ایڈیٹر ’سیاست‘  جناب عامر علی خان کے سرجاتا ہے۔ بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بلند حوصلہ شخصیت کسی تحریک کو شروع کرتی ہے تو لوگ از خود شریک کارواں ہوجاتے ہیں، تحفظات کی تحریک کے معاملہ میں بھی یہی ہوا۔ ایک اخبار، ایک ادارہ ’سیاست‘ ہی تھا جس نے قریہ قریہ، گاؤں گاؤں، تمام اضلاع اور ساری ریاست تلنگانہ میں اپنی محنت اور لگن سے تحفظات کے مسئلہ کو ایک ایسا موڑ دیا کہ حکومت کیلئے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی باقی نہیں رہا۔ لوگ خاص طور پر جواں سال نیوز ایڈیٹر عامر علی خاں کی آواز پر جوق درجوق لاکھوں کی تعداد میں یادداشتیں اور نمائندگیاں دینے آگے بڑھے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک تحریک بن گئی۔ عامر علی خان اور ان کے والد زاہد علی خان صاحب نے یہ ثابت کردیا کہ اگر اخلاص نیت سے کام کیا جائے تو خداوند قدوس بھی ایسے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ زاہد علی خاں صاحب تو ایک کہنہ مشق تجربہ کار اور ماہر صحافی ہیں جبکہ فرزند عامر میاں ابھی نوجوان ہیں، انھوں نے مسلم نوجوانوں کے لئے ایک ایسی قابل تقلید مثال قائم کی ہے کہ اگر آج کے نوجوان ان کے نقش قدم پر چلیں تو رکاوٹیں جو آہنی دیواروں کی طرح ہوتی ہیں موم کی طرح پگھل کر رہ جاتی ہیں۔جبکہ یہ آہنی دیواریں محض خوش کلامی، پُرجوش تقریروں سے نہیں پگھلتی ہیں ان کو پگھلانے کے لئے حوصلہ کی آگ دکھانی پڑتی ہے۔
عامر علی خان کی طرح ہر مسلم نوجوان میں اپنے مقصد سے ایسی وابستگی پیدا ہوجائے اور طوفانوں سے لڑنے کا ایسا جذبہ پیدا ہوجائے تو آج بھی اس خرماں نصیب مسلم قوم کی کایا پلٹ ہوسکتی ہے، آج بھی طاغوتی طاقتوں کو شکست دی جاسکتی ہے، آج بھی ملت کیلئے درخشاں مستقبل کا خواب شرمندۂ تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اخبار’سیاست‘ نے اپنی تمام پیشہ ورانہ مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک حوصلہ جگایا اور شکر ہے کہ جذبہ کی یہ چنگاری جل اُٹھی اور 12 فیصد تحفظات کا راستہ سہل ہوگیا۔ کہنے کو شہر حیدرآباد میں سیاسی پارٹیاں بھی ہیں مسلم تنظیمیں اور جماعتیں بھی ہیں لیکن یہ سعادت اخبار ’سیاست‘ کو ہی ملی کہ اس کی تحریک نے آج کامیابی کی پہلی منزل حاصل کرلی۔ اس مشکل راہ گذر پر ثابت قدمی سے چلنا اور بالآخر اپنا مقصد حاصل کرنا بہت بڑا کارنامہ ہے جس کے لئے اللہ اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کرم شامل حال رہا۔ کہا جاتا ہے کہ ’’ اللہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنی آپ مدد کرتے ہیں‘‘۔ کچھ حاصل کرنے کیلئے بہت کچھ داؤ پر لگانا پڑتا ہے۔ ہر حال میں ان خاردار راہوں سے گذرنا پڑتا ہے اور یہ مرحلہ روز نامہ ’سیاست‘ کے مدیران مکرم نے حاصل کرلیا اور ثابت کردیا کہ ساحل تنہا ہوکر کتنے ہی طوفان پلٹ دیتا ہے۔ اس اخبار نے اب تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ راقم الحروف کے خیال میں ’سیاست‘ صرف روز نامہ  نہیں رہا اس میں زمانہ کے ساتھ ساتھ مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کا جذبہ کامل پیدا ہوگیا۔ تحفظات کے علاوہ اور بھی ملت کی فلاح کے کام اخبار انجام دے رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اخبار اس طرح کی خود ستائی نہیں کرتا جس طرح کی خود ستائی اور لوگ کرتے ہیں۔ اخبار نے اپنی پہچان خاص طور پر بنائی ہے۔
ملت کا درد اس کے لئے تڑپ کی ضرورت ہوتی ہے اور ان دونوں اصحاب میں یہ درد، یہ تڑپ بدرجہ اتم موجود ہے لیکن اب آئندہ کی راہ بھی آسان نہیں، تحفظات کے حصول اور تمام قانونی رکاوٹوں کو ختم کرنے تک مسلم عوام اخبار’ سیاست‘ سے اُمید کرتے ہیں کہ وہ ہر مرحلہ پر ان کی رہنمائی کرے گا۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ حوصلے ان ہی کے آزمائے جاتے ہیں جن میں آزمائش میں پورے اُترنے کی طاقت ہوتی ہے اور جن کے حوصلے بلند ہوتے ہیں ان کی مشکلات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔
’’ جن کے حوصلے ہیں ان کی مشکل بھی ہوتی ہے ‘‘
ابھی کئی مرحلے طئے کرنا باقی ہے جس اخلاص سے ملت کے لئے اخبار نے کام کیا ہے اور کررہا ہے ووہ سارے ملک کیلئے ایک زندہ اور قابل تقلید مثال ہے۔ کاش! ایسا ہو کہ اس اخبار کی طرح زبان اُردو کے دوسرے اخبارات بھی یہ سمجھیں کہ ملت  اسلامیہ کی تقدیر بنانے میں اُسے صحیح سمت دکھانے کا کام بھی ایسی مخلصانہ تحریکات ہی کرسکتی ہیں۔ تقریر سازی بہت ہوچکی مسلم عوام  سُن سُن کر بیزار اور بے حس ہوگئے ہیں۔ انہیں ایک ایسی قیادت چاہیئے جو ان کیلئے کچھ کرسکے۔ کونسی پارٹی اسمبلی و پارلیمنٹ یا مقامی مجالس میں کتنے سیٹس پر قبضہ کرتی ہے یہ اہم بات نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کونسا ادارہ اور اس کا مخلص سربراہ کتنی صداقت سے ملت کیلئے سینہ سپر ہوکر کام کرتا ہے۔ ہمارے ملک میں آج جتنی سیاسی بے راہ روی ہے اتنی کسی اور ملک میں نہیں ہے۔ بے اصولی سیاست، ذاتی مفادات کے لئے سیاست کرنے والے لیڈروں کی کمی نہیں ہے یہ تو ہر گلی کوچہ میں مل جاتے ہیں، کمی یا فقدان تو ان مخلصان ملت کا ہے جو اپنے کسی بھی مفاد کو ترک کرکے بے لوث ملت کی خدمت کرتے ہیں۔ ملت کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے اور حکومت کو حل تلاش کرنے پر مجبور کرتے ہیں جس کی ایک مثال 12فیصد تحفظات کی تکمیل کی شکل میں ہمارے سامنے آئی ہے۔حوصلے بلند ہوں، نیت صاف ہو تو اللہ اپنے کرم خاص سے نوازتا ہے ورنہ برسوں سرگردانی کرنے کے بعد بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بہر حال 12فیصد تحفظات کی فراہمی میں اخبار’سیاست‘ کا رول فیصلہ کن رہا۔
مقامِ شوق تیرے قدسیوں کے بس کا نہیں
ان ہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT