Wednesday , May 24 2017
Home / Top Stories / تحفظات حاصل کرنے کیلئے زمین آسمان ایک کردونگا : کے سی آر

تحفظات حاصل کرنے کیلئے زمین آسمان ایک کردونگا : کے سی آر

مرکز پر دباؤ ڈالا جائے گا ،ضرورت پر جنترمنتر پر دھرنا اور تمام چیف منسٹرس کا اجلاس طلب کرونگا

یہاں مسلم حکمرانوں نے  750 سال حکومت کی
مذہب کے نام پر نہیں پسماندگی کی بنیاد پر تحفطات
نئی ریاست میں پسماندہ آبادی 90 فیصد

تحفظات کیلئے دستور کے شیڈول 9 میں ترمیم تک انتھک جدوجہد
مسلمانوں کو تحفظات جائز اور دستوری حق ، مرکز رکاوٹ بنے تو احتجاج شروع کیا جائے گا، چیف منسٹر کا عزم
حیدرآباد ۔ 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کیلئے زمین آسمان ایک کردے گی اور حکومت اپنا وعدہ پورا کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جائے گی۔ چیف منسٹر قانون ساز کونسل میں گورنر کے خطبہ پر اظہارتشکر کے دوران مباحث سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے قائد اپوزیشن محمد علی شبیر کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف سوالات کا جواب دیا اور کہا کہ ٹی آر ایس حکومت مسلم تحفظات کے معاملہ میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے سرمائی سیشن میں دونوں ایوانوں میں 12 فیصد مسلم تحفظات کا بل منظور کرلیا جائے گا۔ تاہم بل کو عدالتی کشاکش سے بچانے کیلئے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ماہرین کی رائے حاصل کی جارہی ہے۔ دونوں ایوانوں میں متفقہ منظوری کے بعد مسلم تحفظات بل کو مرکز سے رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت قرارداد کو منظور کرنے تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ دستور ہند کے شیڈول 9 میں ترمیم تک انتھک جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے مسلم تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے اپوزیشن کو بھی شامل کرنے کا ارادہ کیا اور کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ارکان سے دباؤ ڈالا جائے گا۔ انہوں نے مسلم تحفظات پر اعتراضات اور مخالفت کرنے والوں کو واضح کردیا کہ ریاست میں مسلم تحفظات مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کی 90 فیصد آبادی پسماندہ طبقات پر مشتمل ہے اور آبادی کے لحاظ سے پسماندگی کے تناسب میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ہر طبقہ کو آبادی کے تناسب سے تحفظات دینے کی وکالت کی جارہی ہے۔ انہوں نے اپنے موقف کی بھرپور مدافعت کی اور مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات سے متعلق کہا کہ یہ ان کا  جائز اور دستوری حق ہے۔ جس قوم نے ملک میں 750 سال حکمرانی کی اور آج وہ بدترین پسماندگی کا شکار ہے اور یقینا انہیں تحفظات فراہم کئے جانے چاہئے۔ انہوں نے اپنے روایتی تلنگی انداز میں متعدد بار کہا کہ وہ حصول تحفظات کیلئے کسی حد تک بھی جانے سے گریز نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کو بھی واضح کردیا کہ اگر مرکز ان کی خواہش کے مطابق توقعات پر نہیں اترتا ہے تو پھر وہ احتجاج کا راستہ اپنائیں گے۔ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل کریں گے۔ اپوزیشن کا ہاتھ تھامیں گے اور ممکنہ اقدامات کیلئے انتھک جدوجہد بھی جاری رہے ۔

 

چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے مزید کہا کہ تحفظات مسلمانوں کا جائز اور دستوری حق ہے ۔ وہ اس کے لئے دستور ہند کے شیڈول 9 میں ترمیم تک انتھک جدوجہد کریں گے ۔ انہوں نے مرکز کی جانب سے شیڈول 9 میں ترمیم پر ٹال مٹول کے خلاف سخت احتجاج کا ارادہ کیا اور اپنی مستتقبل کی پالیسی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے تمام اراکین اسمبلی و پارلیمان کے ذریعہ دہلی کے جنترمنتر پر احتجاج کیا جائے گا اور ملک کی ریاستوں کے چیف منسٹرس سے اجلاس منعقد کئے جائیں گے تاکہ مرکز پر دباؤ ڈالتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات کو ممکن بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام پر سوائے ان کے کسی کو یقین نہیں تھا اور اب مسلم تحفظات کے متعلق بھی سوائے ان کے کسی کو یقین نہیں تحریک سے وجود میں آئی ریاست میں حقوق کیلئے بھی جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے خواہش کی کہ وہ تحفظات کے معاملہ میں ریاستوں کو اختیارات فراہم کرے۔ انہوں نے وسط مدتی انتخابات کو قبل از وقت کروانے کی تردید کی اور کہا کہ انہیں حکومت کی کارکردگی اور عوام کے وعدے پر یقین ہے اور کہا کہ انتخابات سال 2019ء ہی میں کروائے جائیں گے۔ انہوں نے گورنر کے خطبہ کو حقائق پر مبنی اور حکومت کی کارکردگی کا آئینہ قرار دیا۔ انہوں نے اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ وہ اگر اس کو غلط ثابت کرتے ہیں تو اندرون 5 منٹ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔ انہوں نے اپوزیشن کے تمام الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہیکہ وہ ریاست سے سیاسی بدعنوانی کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوئے اور شفاف اور عوام کو جوابدہ حکمرانی پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برقی سربراہی میں ریاست تلنگانہ نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 4 گھنٹے برقی کٹوتی کی افواہ پھیلائی جارہی ہے جبکہ 4 سیکنڈ بھی برقی کٹوتی نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے 31 اضلاع میں برقی سربراہی سے متعلق ایپ تیار کیا جارہا ہے تاکہ سربراہی اور مصارف کا آسان اندازہ لگایا جاسکے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سب کچھ رکھتے ہوئے قرض حاصل کرنا بھی عقلمندی ہے۔ تاہم قرض ادا کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔ آج ریاست تلنگانہ قرض حاصل کررہا ہے لیکن ساتھ ہی قرض کو ادا بھی کیا جارہا ہے اور بتایا کہ جاریہ سال 20 ہزار کروڑ قرض کو ادا کردیا گیا۔ انہوں نے قرض کے متعلق امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دنیا کا دولتمند ملک ہونے کے باوجود سب سے زیادہ مقروض ہے اور قرض حاصل کرنا کوئی عیب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست سے برقی بحران کا خاتمہ ہوچکا ہے اور عنقریب ریاست تلنگانہ فاضل برقی رکھنے والے ریاست بن جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشن بھگیرتا کی تکمیل پر ریاست سے پینے کے پانی کی قلت بھی ختم ہوجائے گی۔ تلنگانہ ریاست کی مالی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے بانڈس خریدنے کیلئے بینکس ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں، آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات میں رکاوٹیں پیدا کرنے کیلئے کانگریس عدلیہ کا سہارا لے رہی ہے۔ حکومت دیہی معیشت کو ترقی دینے کیلئے بھی اقدامات کررہی ہے۔ سماج کے تمام طبقات کے طلبہ کو کارپوریٹ طرز کی تعلیم فراہم کرنے کیلئے جاریہ سال تقریباً 500 ریزیڈنشیل اسکولس قائم کئے جارہے ہیں ان میں 200 میناریٹی ریزیڈنشیل اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ ہر طالب علم پر 1.25 لاکھ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ حیدرآباد کے بعد نظام آباد میں 8میناریٹی ریزیڈنشیل اسکولس قائم کئے گئے۔ کانگریس نے مسلمانوں اور بی سی طبقات کو صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ حکومت کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کیلئے قانون سازی کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ مسلم طلبہ کو ایس سی، ایس ٹی، بی سی طلبہ کے طرز پر تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ رمضان کو سرکاری تقاریب کے طور پر منایا جارہا ہے۔ صنعتی پالیسی میں مسلمانوں کی نمائندگی بڑھانے کیلئے نئی پالیسی شروع کی جارہی ہے۔ مسلم کنٹراکٹرس بنائے جائیں گے اور حکومت مکمل سرمایہ کاری کرتے ہوئے ہر طرح سے تعاون کرے گی۔

۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT