Tuesday , August 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / تحفظات ناگزیر مقابلہ جاتی امتحانات سے کنارہ کشی قابل افسوس

تحفظات ناگزیر مقابلہ جاتی امتحانات سے کنارہ کشی قابل افسوس

ہندوستان میں مسلمانوں نے صدیوں حکومت کی، پھر برطانوی سامراج نے ہندوستان کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ ہندو، مسلم، سکھ عیسائی، سب نے مل کر اپنی سرزمین کو برطانوی تسلط سے آزاد کرایا اور بطور خاص اس آزادی کی جنگ کے محرک و پیشرو مسلمان ہی رہے اور آخری دم تک اپنے ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ لیکن ہندوستان کی آزادی کے بعد جو حقوق و مراعات مسلمانوں کو حاصل ہونے چاہئے تھے، وہ حاصل نہیں ہوئے۔ دانستہ طورپر مسلمانوں کے ساتھ جانبداری کا برتاؤ کیا گیا اور ان کو معاشی و تعلیمی ہر اعتبار سے پسماندہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ جمہوری ملک ہونے کے ناطے ہر حکومت مسلمانوں کے حقوق کو تسلیم کرتی ہے اور ان کے مفاد و ترقی کے لئے کام کرنے کا وعدہ بھی کرتی ہے۔ کمزور مسلمان سیاسی قائدین کے دام و فریب میں آکر انھیں اقتدار کی کرسی تک پہنچا دیتے، پھر جونہی وہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں، مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیتے ہیں اور مقررہ منصوبوں کے مطابق مسلمانوں کو میٹھی گولیاں دے کر خواب غفلت میں سلادیتے ہیں۔
آج مسلم قوم صرف پسماندگی، ناخواندگی، بیروزگاری، معاشی پریشانی، بنیادی مراعات سے محرومی کا شکار نہیں ہے، بلکہ وہ احساس کمتری میں بھی مبتلاء ہے۔ وقفہ وقفہ سے مسلمانوں کی قوت اور زور توڑنے کے لئے فرقہ وارانہ فسادات کروائے جاتے ہیں۔ ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کو ببانگ دہل شہید کرکے مسلمانوں کو کھلا چیلنج کیا گیا۔ ان کی ناکامی، نامرادی، پست ہمتی اور کمزوری کا اعلان کیا گیا اور گجرات کے مسلم کش فسادات نے اس پر مہر ثبت کردی۔

آزادی ہند اور پولیس ایکشن کے بعد مسلمانوں کی جو معاشی و تعلیمی تباہی ہوئی وہ اظہرمن الشمس ہے ۔ تاہم جب خلیج کے دروازے مسلمانوں کے لئے کھلے اور مسلم نوجوان سعودی عربیہ ، عرب امارات و دیگر خلیجی ممالک کا رخ کئے اور محنتیں کیں تو اس کے سبب مسلمانوں کی معیشت میں غیرمعمولی استحکام ہوا ۔ حالیہ دہوں میں مغربی ممالک کی طرف قابل نوجوانوں کے رخ کرنے کی بناء مسلمانوں کی معاشی صورتحال کو بڑی حد تک تقویت ملی لیکن آج امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں خود کو استحکام و تقویت دینے کیلئے کھلے عام اسلام اور مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مسلمانوں کیلئے امریکہ کے دروازوں کو بند کرنے کی رائے ظاہر کی ۔ علاوہ ازیں سعودی عرب کے نوجوان وزیر دفاع محمد بن سلمان نے ۲۰۳۰ء کا نظریہ پیش کیا اور سعودی عربیہ کو تیل کے انحصار سے مکتفی کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اصلاحات شروع کریں جس کا راست اثر خارجی عملہ پر ہوگا اور ہزارہا برسرروزگار مسلمان اپنی ملازمت سے محروم ہوگئے اور دوسروں کے لئے بھی مشکلات نظر آرہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں جبکہ مغربی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے دروازے مسلمانوں کے لئے بند ہوتے نظر آرہے ہیں مسلمان نوجوانوں کو اپنی مقامی سرزمین کی طرف توجہہ کرنے کی ضرورت ہے اور وہ نہایت سرسبز و شاداب ہے ۔ ملازمت کے بیشمار مواقع ہیں ۔ مسلم نوجوانوں کو بیرونی ممالک کی طرف توجہ کرنے کے بجائے اپنی مادر وطن میں روزگار کے مواقع تلاش کرنا اور خود کو اس کے اہل بنانا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ اس کے لئے مسلمانوں کو اپنی تعلیمی قابلیت کو اونچا کرنا ہوگا اور مقابلہ جاتی امتحانات میں خود کو منوانا ہوگا ۔
تلنگانہ کے مسلمانوں نے موجودہ حکومت کے وعدوں پر اعتماد کیا کہ وہ اقتدار کی دہلیز پر پہنچ کر مسلمانوں کو ۱۲ فیصد تحفظات فراہم کرے گی اور وہ مطمئن رہے کہ حکمراں پارٹی اقتدار پر آتے ہی مسلمانوں کو ۱۲ فیصد تحفظات کاتحفہ دے گی لیکن تاحال کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہیکہ آئندہ الیکشن سے قبل بڑے پیمانے پر تقررات ہوں گے اور مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کی طرف توجہ کریں ورنہ سوائے حسرت کے کچھ ہاتھ نہیں آئیگا۔

اس ضمن میں یہ بات بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ تمام مسلمان تحفظات کے خواہاں ہیں، ان میں سے بہت سے مستغنی بھی ہیں، مگر بہت سوں کو اس کی ضرورت ہے۔ تحفظات کمزوری و محتاجی کی علامت ہے، جو قوم اپنے بل بوتے پر چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اس کو تحفظات کی بیساکھی کے سہارے چلنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ ہندوستان کی موجودہ صورت حال میں اگر مسلم قوم اپنے ایک پیر سے چلنے کے قابل بھی ہے تو یہاں کا اعلیٰ دماغ اس کو بیساکھی فراہم کرنے کی بجائے اس کی دوسری ٹانگ بھی توڑ کر ایک کونے میں بٹھانے کی فکر میں ہے۔ ایسے ماحول میں ہم امید و آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ہم کو ایک دن انصاف ملے گا۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ مسلمانوں کو نہ اپنوں سے بھلائی کی امید رکھنی چاہئے اور نہ ہی غیروں سے کوئی توقعات وابستہ رکھنا چاہئے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہر چیز سے بالاتر ہوکر اور ہر ایک سے بے نیاز ہوکر آگے قدم بڑھانے کا حوصلہ رکھیں اور اپنے ساتھ کسی دوسرے کا ہاتھ تھام کر اس میں بھی چلنے کی ہمت پیدا کریں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جو آدمی بے نیازی اختیار کرلیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو بے نیاز کردیتا ہے‘‘۔ آج مسلمانوں کو اسی بے نیازی کی ضرورت ہے، یعنی مسلمان حکومت سے بے نیاز ہو جائیں اور اپنے طورپر اپنی اور اپنی قوم کی ترقی کے لئے کمربستہ ہو جائیں۔

آزادی ہند کے بعد سے اب تک جب بھی کوئی موقع آیا، مسلمان سوائے مطالبات پیش کرنے کے کچھ نہیں کرسکے۔ کبھی ان کے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے اور نہ ان کو ہمدردی سے سنا جاتا ہے، اس کے باوجود مسلمان آس لگائے بیٹھے ہیں۔ مسلمان اپنی اس فکر سے باز آجائیں اور احساس کمتری چھوڑکر اپنے اندر بلند ہمتی پیدا کریں۔ اعلیٰ تعلیم میں اپنی نمائندگی کو بڑھائیں اور مسلم قوم میں انقلاب لانے کے لئے تعلیمی بیداری کی مہم چلائیں۔ ہر صاحب استطاعت کو چاہئے کہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے علاوہ ایک غیر مستطیع طالب علم کی تعلیم و تربیت کا بوجھ اُٹھائے اور استقامت کے ساتھ اس پر کاربند رہے۔
میری ملاقات ایشیا کی ایک عظیم یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ہوئی، جن کی خادمہ کے پانچ لڑکے ہیں اور پانچوں لڑکے شہر کے معیاری اسکولس و کالجس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پانچوں بچے میرٹ میں کامیاب ہوتے ہیں اور روزانہ وائس چانسلر صاحب ان لڑکوں کو اپنی اولاد کی طرح ٹیوشن دیتے ہیں اور ان لڑکوں کے تعلیمی مصارف خود برداشت کرتے ہیں۔ اس طرح کا جذبہ اگر ہماری قوم میں فروغ پائے تو بہت جلد تعلیمی میدان میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ حکومت، عدلیہ اور حالات پر آنسو بہانے کی بجائے اپنی خودی کو جگائیں اور اپنے راستے اور اپنی منزلیں خود طے کریں۔ یاد رکھیں! ندی کے لئے راستے نہیں بنائے جاتے، بلکہ وہ خود ہی اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT