Monday , September 25 2017
Home / اداریہ / تحفظات کیلئے تشدد

تحفظات کیلئے تشدد

زندگی بھر ہے احوال سے واسطہ
ہر قدم پر ہے اک جال سے واسطہ
تحفظات کیلئے تشدد
سرکاری ملازمتوں میں تحفظات کے لئے ہریانہ کا جاٹ طبقہ اور دیگر چار ذاتوں کو پسماندہ طبقات کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ تشدد کا رُخ اختیار کرگیا تو حکومت کو فوری احتجاجیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور نے اس جاٹ و دیگر چار طبقات کو پسماندہ قرار دینے والا ایک بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہریانہ میں جاٹ برادری کی جانب سے تحفظات کا مطالبہ حالیہ برسوں میں زور پکڑا تھا۔ جمعہ کے تشدد اور پولیس فائرنگ میں دو افراد کی ہلاکت اور 18 سے زائد کے زخمی ہونے کے بعد حکومت کو جاٹ طبقہ کے احتجاج کو فوری ختم کرانے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔ ملک میں تحفظات کی لہر میں ایک نیا موڑ جاٹ طبقہ نے لایا ہے تو چیف منسٹر ہریانہ منوہر لال کھترا نے جاٹ برادری کے قائدین سے مشاورت کی حامی بھری۔ حکومت کسی بھی مسئلہ سے نمٹنے کے لئے سختی اختیار کرتی ہے مگر جاٹ طبقہ کے احتجاج کے آگے فوری گھٹنے ٹیک کر یہ ثابت کردیا کہ بی جے پی زیرقیادت مودی حکومت طاقت کی زبان سمجھتی ہے۔ دہلی کی یونیورسٹی میں طلباء پر اپنی طاقت استعمال کرنے والی پارٹی اچانک ہریانہ میں کمزور پڑچکی ہے تو یہ ایک نازک تبدیلی ہے۔ جاٹ طبقہ کا احتجاج ملک کے دیگر طبقات کی آنکھ کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ جاٹ برادری ملک کی آبادی کا بہت ہی کم فیصد ہے لیکن اس نے اپنی بات منوانے اور حکومت وقت کو اپنے آگے جھکنے کے لئے مجبور کردیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوج کو طلب کیا گیا۔ فوج کا فلیگ مارچ ہریانہ کی سیاسی اور سماجی کمزور صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ گزشتہ 6 دن سے ہریانہ میں جاٹ طبقہ نے احتجاج جاری رکھا تھا جس کی ابتر صورتحال پیدا ہوئی۔ ہریانہ کے کئی اضلاع میں کرفیو نافذ کیا گیا۔ روہتک کے علاوہ ضلع جند، جھاجھر، بھوانی، حصار، کیتھال، سونی پت، پانی پت، کرتال میں فوج نے چوکسی اختیار کرلی۔ ہندوستان میں حالیہ دنوں میں تشدد کا رُخ اختیار کرنے والے احتجاج میں کئی افراد کی جانیں ضائع ہوئیں۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہزاروں فسادات ہوئے جن میں لاکھوں افراد مارے گئے۔ فسادات اور تشدد پر قابو پانے میں ناکام نظم و نسق کو ہر انتخابات کے بعد ووٹ دے کر منتخب کیا جاتا ہے۔ اس نظم و نسق کی نااہلی کی وجہ سے ہی تشدد برپا کرنے والی طاقتیں سر اُبھار رہی ہیں۔ جن گروپس کو حکومت کی پشت پناہی ہوتی ہے وہی گروپ فساد برپا کرتے ہیں کیوں کہ معلوم ہے کہ فساد برپا کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ جاٹ طبقہ کے تشدد پر قابو پانے کے لئے نظم و نسق نے راست طور پر ان کے مطالبہ کو قبول کرلیا اور بہت جلد ایک بِل پیش کرنے کا اعلان کیا۔ ہریانہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ یہ احتجاج فسادات کی شکل اختیار کرجائے۔ ملک کی سیاسی صورتحال یہ ظاہر کررہی ہے کہ فسادات کو ہوا دینے والے واقعات قصداً پیدا کئے جارہے ہیں۔ جاٹ طبقہ نے اپنے احتجاج اور تشدد کے ذریعہ حکومت کو سمجھادیا ہے کہ انھیں تحفظات فراہم نہیں کئے گئے تو ملک کی آبادی کا مٹھی بھر حصہ حکومت کے لئے مسائل کھڑا کرسکتا ہے۔ ہندوستان کے عوام کو ان دنوں مختلف عنوانات سے اُلجھاکر رکھا جارہا ہے۔ حکومت اپنی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والوں سے ڈر کر کام کررہی ہے جبکہ طلباء برادری پر اپنا غصہ نکالتے ہوئے انھیں جیل میں ڈال رہی ہے۔ یہ خطرناک واقعات کا تسلسل ہے۔ اپنے انتخابی وعدوں اور گزشتہ 20 ماہ کی حکمرانی کے دوران ہونے والی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کے حصہ کے طور پر احتجاج، فسادات، تشدد کا سہارا لے رہی ہے تو یہ نازک گھڑی ہے۔ ہندوستان کا بنیادی اصول یہ ہے کہ سچی جمہوریت میں انتخابات جیت کر اقتدار حاصل کیا جائے لیکن بعض طاقتوں نے سچی جمہوریت کو کمزور کرتے ہوئے من مانی طور پر اقتدار حاصل کرنے کی ترکیبیں تیار کی تھیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آج دہلی سے لے کر ہریانہ تک تشدد ، احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے قانون اور احتساب کے عمل کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ہی من مانی سیاست چلائی جارہی ہے۔ عوام کے ایک گروپ کو خوف زدہ کیا جارہا ہے تو دوسری طرف عوام کے ایک طبقہ سے حکومت خوف زدہ ہورہی ہے۔ تحفظات کے لئے مسلمانوں کو بھی اولین مستحق سمجھا جارہا ہے لیکن انھیں تحفظات دینے کی جب بات سامنے آتی ہے تو مختلف بہانے تراشے جاتے ہیں۔ جاٹ طبقہ کی بہادری اور دلیری کی داد دی جانی چاہئے کہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود حکومت کے دانت کھٹے کردیئے اور اس نے فوری طور پر تحفظات کی فراہمی کی راہ نکالنے کے لئے بل متعارف کرانے سے اتفاق کیا۔ احتجاجیوں نے پہلی مرتبہ دہلی امبالہ قومی شاہراہ پر ریل اور سڑک ٹریفک کو روک دیا تھا جو قومی شاہراہ اور ریلوے لائن بند کردی گئی تھی جس سے سارا عوامی نظام درہم برہم ہوگیا۔ احتجاج کی طاقت اور جاٹ طبقہ کے متحدہ مظاہرہ نے دیگر طبقات کے لئے روشنی فراہم کی ہے۔
شمالی کوریا پر نئی تحدیدات بے اثر
شمالی کوریا نے 6 جنوری کو نیوکلیر ڈیوائس کا تجربہ انجام دیا اور 7 فروری 2016 ء کو بالسٹک میزائیل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مغربی دنیا کی نیندیں حرام کردی تھیں۔ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے شمالی کوریا پر نئی تحدیدات عائد کرنے صدر امریکہ بارک اوباما نے امریکی کانگریس کی جانب سے منظورہ قانون پر دستخط کئے ہیں۔ امریکہ کی یکطرفہ تحدیدات کے علاوہ شمالی کوریا کے خلاف موجودہ تحدیدات کو مزید سخت کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ لیکن شمالی کوریا کے پڑوسی ملک اور قریبی اتحادی چین نے ان تحدیدات کی مخالفت کی ہے۔ اب یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ چین کی مرضی کے بغیر شمالی کوریا پر امریکہ کی نئی تحدیدات کا کوئی معاشی اثر نہیں پڑے گا۔ سابق میں بھی امریکی کانگریس گروپ نے قانون سازی کرتے ہوئے عاملہ اختیارات کو بروئے کار لایا تھا لیکن ان تحدیدات کے باوجود شمالی کوریا کے نیوکلیر عزائم ختم نہیں ہوئے بلکہ ان میں شدت پیدا کی گئی۔ شمالی کوریا کو امریکہ کی جانب سے تحدیدات نافذ کرنے کے باوجود کوئی نقصان نہیں ہوگا کیوں کہ چین سے اصل سپلائی لائن شمالی کوریا کو ملتی ہے۔ اب یکطرفہ کارروائی سے چین کے ساتھ امریکہ کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس وقت شمالی کوریا کو اعتدال پسند بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ساتھ دوستانہ و خوشگوار تعلقات کو ترجیح دی جائے۔ شمالی کوریا پر تحدیدات نافذ کرنے کا فیصلہ کرکے امریکہ نے چین سے مزید ناراضگی مول لی ہے۔ چین کو اس وقت اس خطہ کا سب سے طاقتور معاشی ملک تصور کیا جاتا ہے۔ چین جہاں مثبت اور بااثر قیادت کا رول ادا کرسکتا ہے۔ کسی بھی طاقتور ملک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے کشیدگی کو دور کیا جائے۔ امریکہ نے چین کے جنوبی سمندر میں بڑھتی فوجی طاقت پر اعتراضات کئے تھے۔ اب اسے شمالی کوریا کی طاقت اور نیوکلیر صلاحیتوں پر تشویش لاحق ہوگئی ہے تو سخت خارجہ پالیسی کے بجائے نرم گوشہ پالیسی کو ترجیح دینی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT