Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تحفظات کیلئے قانون سازی کا جائزہ

تحفظات کیلئے قانون سازی کا جائزہ

چیف منسٹر کی ماہرین کے ساتھ مشاورت
بی سی کمیشن کی رپورٹ میں اندرون 2 دن پیشکشی متوقع
حیدرآباد۔/12جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو 12فیصد تحفظات کے وعدے پر عمل آوری کے سلسلہ میں قانون سازی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اگرچہ حکومت نے تحفظات کے مسئلہ پر اسمبلی میں دو علحدہ بلز کی منظوری کی تیاری شروع کردی ہے تاہم اس سلسلہ میں سرکاری حلقوں میں متضاد موقف اور رائے کو دیکھتے ہوئے قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ چند دن سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تحفظات کے مسئلہ پر مختلف ماہرین کے ساتھ مشاورت کی ہے۔ تاہم اس مسئلہ پر اسمبلی میں قرارداد یا پھر قانون سازی کے سلسلہ میں کوئی قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکا تاہم غالب امکان یہ ہے کہ حکومت جاریہ اسمبلی اجلاس یا پھر آئندہ بجٹ سیشن میں اس مسئلہ پر دو علحدہ بلز پیش کرسکتی ہے۔ بی سی کمیشن میں مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے سلسلہ میں حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کی تیاری کرلی ہے تاہم ابھی تک چیف منسٹر کے دفتر سے انہیں ملاقات کا وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ اندرون دو یوم چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کردی جائے گی۔ چلپا کمیشن نے درج فہرست قبائیل کو تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کو اپنی رپورٹ پہلے ہی پیش کردی ہے جبکہ سدھیر کمیشن نے بھی مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی صورتحال پر اپنی سفارشات حکومت کو پیش کیں۔ مسلم تحفظات کے سلسلہ میں بی سی کمیشن کی سفارشات کے لازمی ہونے کے سبب حکومت نے نہ صرف بی سی کمیشن تشکیل دیا بلکہ اسے مسلمانوں کی صورتحال اور تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے سلسلہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ بلز کی منظوری کے ذریعہ مرکز سے اس بات کی خواہش کی جائے کہ وہ دستور کے 9 ویں شیڈول میں اضافی تحفظات کو شامل کریں تاکہ تلنگانہ حکومت کے انتخابی وعدہ کی تکمیل ہوسکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مرکزی حکومت سے اس طرح کی توقع کرنا بے فیض رہے گا کیونکہ مرکز نے تحفظات کے خلاف پہلے ہی اپنے موقف کا ایک سے زائد مرتبہ اظہار کردیا ہے۔ مرکز نے بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے اقتدار تک اس طرح کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ چیف منسٹر کو قانونی ماہرین نے اس بات کی بھی وضاحت کردی کہ سپریم کورٹ نے مجموعی تحفظات کو 50 فیصد سے زائد نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ( سلسلہ صفحہ 8 پر)

TOPPOPULARRECENT