Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تحفظات کیلئے مسلمانوں کا فقیدالمثال اتحاد ‘ عادل آباد میں تاریخی ریالی

تحفظات کیلئے مسلمانوں کا فقیدالمثال اتحاد ‘ عادل آباد میں تاریخی ریالی

٭     شہر کی تمام سڑکیں جام ‘بلا لحاظ سیاسی و مسلکی وابستگی انسانی سروں کا سمندر
٭     روزنامہ سیاست کی تحریک کو مضبوط بنانے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تشکیل
٭     چیف منسٹر اپنا وعدہ فوری پورا کریں ‘جناب عامر علی خاں ودوسروں کا خطاب
حیدرآباد /13 نومبر ( سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ میں مسلم تحفظات کیلئے جاری تحریک زبردست رخ اختیار کر گئی ہے ۔ آج عادل آباد میں حصول 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے زبردست مظاہرہ کیا گیا ۔ تحفظات کے حصول کیلئے بعد نماز جمعہ نکالی گئی ریالی میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی ۔ اس مظاہرہ سے شہر کے تمام راستہ جام ہوگئے اور سرکاری مشنری دہل گئی ۔ عادل آباد میں یہ پہلا موقع تھا جہاں مسلمان سیاسی ملی و سماجی اور مسلکی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ریالی و جلسہ میں شریک تھے ۔ مسلمانوں کے اتحاد و حصول تحفظات کے مطالبہ پر اس طرح کا تاریخی مظاہرہ عادل آباد صرف عادل آباد کیلئے نہیں بلکہ ساری ریاست کیلئے مشعل راہ بن گیا ہے ۔ یاد رہے کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے روزنامہ سیاست کی جانب سے شعور بیداری مہم اور تحریک چلائی جارہی ہے ۔ آج عادل آباد کی اس ریالی اور جلسہ میں تحریک کے روح رواں جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست نے شرکت کی ۔ 12 فیصد تحفظات کے حصول تک تحریک کو جاری رکھنے اور اضلاع کے دورہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا اور سرپرست اعلی 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست کی خصوصی ہدایت اور جامع حکمت عملی کے تحت جناب عامر علی خان اضلاع کے دوروں پر ہیں ۔ جناب عامر علی خان نے عادل آباد میں مسلمانوں کے اتحاد اور ملی جذبہ کو سلام کیا اور متحدہ مظاہرہ کی زبردست ستائش کی ۔ جناب عامر علی خان کی کاوشوں کو عادل آباد کی بااثر سیاسی و ملی شخصیتوں نے زبردست ستائش کی اور 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک کو اپنی بھرپور تائید کا اعلان کرتے ہوئے مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھی تشکیل دے دیا اور اعلان بھی کردیا گیا کہ اس طرح کے پروگرامس کی یہ عظیم الشان ریالی و جلسہ عام شروعات ہے اور ساتھ ہی حکومت کو باور کیا کہ وہ مسلمانوں سے کئے گئے وعدہ پر عمل آوری کیلئے جلد از جلد اقدامات کرے ۔ مسلم میناریٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ریالی کا اہتمام کیا گیا جو عیدگاہ بھکتاپور ، مدینہ مسجد امبیڈکر چوک ، گاندھی چوک ، دیویندر روڈ ، اشوک روڈ ، اولڈ بس اسٹانڈ ، نیتا چوک ، ونائک چوک سے ہوتے ہوئے این ٹی آر چوک پہونچی اور جلسہ عام میں تبدیل ہوگئی ۔ مسٹر غوث الدین ایڈوکیٹ کنوینر نے جلسہ کی صدارت کی ۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں جناب عامر علی خان نے کہا کہ خواہش سے کامیابی نہیں ملتی بلکہ کوشش سے کامیابی ملتی ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے احتجاج کو جمہوری انداز میں جاری رکھیں ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں چیف منسٹر کے وعدوں کی یاد دہانی کروائی جو انہوں نے مختلف موقعوں پر مسلمانوں سے مخاطب کرتے ہوئے کئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے سے حکومت گریز کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں احتجاج بڑھتا جارہا ہے ۔ انہوں نے سدھیر کمیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سدھیر کمیشن کے قیام سے مسلمانوں کو تحفظات فراہم نہیں کئے جاسکتے اور نہ ہی اس کمیشن کے ذریعہ یہ ممکن ہے ۔ انہوں نے بی سی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ دستوری طور پر صرف بی سی کمیشن ہی تحفظات فراہمی کیلئے سفارشا کا مجاز گردہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT