Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تحفظات کی تحریک، مسلمانوں کے اتحاد سے طاقتور اور انقلاب آفریں: عامر علی خاں

تحفظات کی تحریک، مسلمانوں کے اتحاد سے طاقتور اور انقلاب آفریں: عامر علی خاں

بی سی کمیشن کے قیام کیلئے فوری راہ ہموار کرنے حکومت سے خواہش،تحریک میں خواتین بھی سرگرم،نظام آباد میں کُل جماعتی قائدین کی بھوک ہڑتال

٭ ملت کے مسائل کو ایوانوں تک پہنچانے میں روز نامہ ’سیاست‘ کا
ہمیشہ اہم رول رہا ہے: طاہر بن حمدان
٭ حکومت نیند سے بیدار ہوجائے ورنہ تحریک سونامی بن جائے گی: جاوید اکرم
٭ کونسل کے اجلاس میں تحفظات کے مسئلہ کو اُٹھانے کا وعدہ: آکولہ للیتا
٭ بھوک ہڑتال کو سیاسی نظر سے نہ دیکھا جائے: نجیب علی ایڈوکیٹ
٭ تحفظات کی تحریک میں ٹی آر ایس قائدین بھی شامل

نظام آباد:25؍ نومبر (محمد جاوید علی کی رپورٹ) نیوز ایڈیٹر روزنامہ’ سیاست ‘جناب عامر علی خان نے کہا کہ مسلمانوں کے اتحاد نے چنگاری جیسی 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک کو شعلے میں تبدیل کردیا ہے اگر تحریک کو دبانے کی کوشش کی گئی تو اس میں مزید شدت پیدا ہوجائیگی ، مسلمانوں کی پسماندگی کیلئے مسلم عوامی منتخب نمائندے اور مسلم سرکاری اعلیٰ عہدیدار ذمہ دار ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی حالت سے حکومتوں کو واقف کرانے اور مسائل کو حل کرانے کیلئے ٹھوس تجاویز پیش نہیں کی ۔ میناریٹی سب پلان12 فیصد تحفظات ایکشن کمیٹی نظام آباد کی جانب سے بودھن بس اسٹانڈ پر منعقدہ کُل جماعتی ایک روزہ بھوک ہڑتال سے خطاب کرتے ہوئے جناب عامر علی خاں نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات سارے مسلم قوم کا مسئلہ ہے روزنامہ’ سیاست‘ نے مسلمانوں کے مسائل کو اٹھانے اور پیش کرنے میں کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا

اور نہ ہی مستقبل میں کرے گا ۔ سیاست کی جانب سے شروع کی گئی مہم تمام جماعتوں اور مسلم تنظیموں اور مذہبی تنظیموں کے تعائون سے تحریک میں تبدیل ہوگئی ہے۔ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں مسلم تحفظات کی تحریک زور پکڑ رہی ہے اور اتحاد میں ہی مسلمانوں کی کامیابی ہے۔ خواتین بھی اس تحریک میں سرگرم رول ادا کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک میں شدت پیدا کرنے کیلئے وقت لگتا ہے مگر انقلاب بننے میں کوئی وقت نہیں لگتا۔ فی الوقت حکومت اور رکن پارلیمنٹ نظام آباد مسز کویتا مرکز سے نمائندگی اورمسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا مسلمانوں سے اجلاس طلب کرتے ہوئے وعدہ کررہی ہیں۔انہوں نے رکن پارلیمنٹ کے کویتا سے کہا کہ وہ قبل از وقت بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لاتے ہوئے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی راہ ہموار کریں

اور اقلیتوں سے کئے گئے وعدہ کو پورا کریں۔ چونکہ مسلم تحفظات کا وعدہ خود ٹی آر ایس نے کیا تھا اور حکومت کو چاہیئے کہ وہ پہلے تحفظات فراہم کرے اور پھر بعد میں مسئلہ کو مرکز سے ہو یا پھر کسی سے بھی رجوع کرے۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے مسلمانوں کو کوئی امید نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تحفظات کی مہم پہلے گلی کوچوں سے شروع کی گئی بعد میں اجلاسوں تک پہنچی اور آج بھوک ہڑتال کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ ماضی میںکئی تحریکات کو روکا گیا اس تحریک کو بھی روکنے کی کوشش کی جائیگی تاہم اگر اسکو روکاگیا تو اس میں مزید شدت پیدا کی جائے گی ۔ کیونکہ یہ تحریک تمام مسلمانوں کی تحریک ہے ایک منظم حصہ کے طور پر اس تحریک سے ابھی نوجوانوں کو جوڑا نہیں گیا ہے صرف جمہوری انداز میں تحریک چلاتے ہوئے حکومت پر دبائوبنایا جارہا ہے ۔ اگر تحریک کو دبانے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ اس کی ساری ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔

کانگریس کی رکن قانون ساز کونسل مسز آکولہ للیتا نے کہا کہ کانگریس نے مسلمانوں سے وعدہ کیا اور 4 فیصد مسلم تحفظات فراہم کیا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر اس کو پورا نہیں کیا وہ کونسل کے اجلاس میں اس مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کو وعدہ کے مطابق 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا دباؤ بنائیں گی اور مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے تک کانگریس پارٹی اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی ۔ کانگریس کے سینئر قائد و انچارج اربن نظام آباد مسٹر مہیش کمار گوڑ نے روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کی گئی 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک کا خیر مقدم کرتے ہوئے تحریک کے روح رواں جناب عامر علی خان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی اس تحریک کی مکمل تائید کرتی ہے اور حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے کانگریس کی جانب سے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو 50 ہزار مکتوبات روانہ کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے اور اس پر عمل بھی کیا جارہا ہے ۔ صدر ضلع کانگریس مسٹر طاہر بن حمدان نے کہا کہ روزنامہ سیاست کی تحریک سے متاثر ہوکر نظام آباد کے تمام سیاسی و غیر سیاسی جماعتوں کے قائدین نے جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر آج 12 فیصد مسلم تحفظات کے ضمن میں ایک روزہ بھوک ہڑتال کا انعقاد کیا ہے جس کا کانگریس  پارٹی بھر پور خیر مقدم کرتی ہے اور مستقبل میں روزنامہ سیاست کے علاوہ کوئی بھی 12 فیصد تحفظات کیلئے کوئی بھی پروگرام منعقد کرتی ہے تو کانگریس پارٹی اس کی مکمل تائید و حمایت کریگی ۔ روزنامہ سیاست نے صحافتی اور فلاحی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مسائل کو حکمرانوں اور ایوانوں تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک اس کا ثبوت ہے۔

انہوں نے تمام سیاسی قائدین کو جماعتی و ابستگی سے بالاتر ہوکر 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک میں شامل ہوجانے کا مشورہ دیا ۔ صدر ضلع وقف کمیٹی نظام آباد مسٹر جاوید اکرم نے کہا کہ ٹی آرایس نے اپنے منشور میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔18ماہ گذرنے کے باوجود اس پر عمل آوری نہیں کی۔ روزنامہ سیاست نے حکومت کو نیند سے بیدار کرنے کیلئے مسلم تحفظات کی تحریک شروع کی گئی ہے جو انقلابی رخ اختیار کرلی ہے۔ اگر حکومت فوری توجہ نہ دیں اور مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کو جلداز جلد پورا کریں تو یہ تحریک سونامی میں تبدیل ہوجائیگی ۔ روزنامہ سیاست کا اثر یہ ہے کہ پر انے شہر میں کئی قائدین کی نیندیں اُڑ گئی ہیں اور کھانا پینا حرام ہوگیا ہے ۔ وقف بورڈ کی کئی فائیلیں غائب ہوگئی ہیں۔ سدھیر کمیٹی کی رپورٹ بھی محفوظ رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک میں مسلمانوں کے سروں کی گنتی نہ کی جائے قطرہ قطرہ سے دریا بنتا ہے جو سونامی میں تبدیل کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔ کانگریس کے قائد سید نجیب علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ بھوک ہڑتال کوسیاسی نظر سے نہ دیکھا جائے اور نہ ہی مسلم تحفظات کی تحریک کو سیاست سے جوڑا جائے بلکہ مسلمانوں کی تحریک ہے جو مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے اور حکومت کو مسلمانوں سے کئے گئے وعدہ کی یاد دہانی کیلئے اہتمام کیا گیا ۔ اس تحریک سے روزنامہ سیاست کے کوئی ذاتی مفادات نہیں ہیں اور نہ ہی جناب عامر علی خان کے کوئی سیاسی عزائم ہیں، روزنامہ سیاست مسلمانوں کو ان کا حق دلانے کیلئے تحریک چلارہا ہے۔ قائد ٹی آرایس حلیم قمر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ٹی آرایس حکومت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے سنجیدہ ہے ۔

روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ تحریک کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آرایس قائدین اپنے پارٹی اجلاس میں 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے دبائو بنائے رکھے ہوئے ہیں ۔ چیف منسٹر ایک سیکولر قائد ہیں اور یہ ہمیشہ اپنے وعدہ پر قائم رہتے ہیں۔ سچر کمیٹی چیف منسٹر مسٹر چندرشیکھر رائو کی ایما پر قائم کی گئی ہے اور اس کی رپورٹ کا جائزہ بھی لیا جائیگا۔ سدھیر کمیٹی کا قیام بی سی کمیشن کے قیام کیلئے کیا گیا ہے سدھیر کمیٹی رپورٹ حاصل کرنے کے بعد بی سی کمیشن کا قیام عمل میں آئیگااور چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر رائو مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے وعدہ کو صد فیصد پورا کرنے کی امید ظاہر کی ۔ فاطمہ ایڈوکیٹ نے اپنی تقریر میں مسلم تحفظات کیلئے چلائی جانے والی تحریک کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تحفظات کی تحریک سے مسلمانوں میں اتحاد کا جذبہ پیدا ہورہا ہے مسلمانوں کو ہمیشہ ووٹ بینک کی طرح استعمال کرتے ہوئے سیاسی پارٹیاں استعمال کرتی رہی۔ کے سی آر اپنے وعدہ کی یاد دہانی کیلئے یہ تحریک چلائی جارہی ہے لہذا کے سی آر اپنے وعدہ کو جلداز جلد مکمل کریں تو بہتر ہوگا۔صدر ضلع اقلیتی ڈپارٹمنٹ کانگریس سمیر احمدنے کہا کہ روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ تحریک آہستہ آہستہ تلنگانہ میں سونامی کی طرح اثر کررہی ہے اور حکومت کو تحفظات کی فراہمی کی یاد دہانی کرواتے ہوئے دبائو ڈالنے میں ضامن بن رہی ہے ۔ حکومت اپنے وعدہ پر عمل کرتے ہوئے بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لائیں انہوں نے نیوز ایڈیٹر’سیاست‘ عامر علی خان سے بھی اظہار تشکرکیا کہ نظام آباد پہنچ کر تحریک میں شدت پیدا کی ہے۔ سی پی ایم کی قائد نورجہاں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمان انتہائی غربت میں مبتلا ہیں اور مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت اقتدار حاصل کیا لیکن اس پر ابھی تک عمل نہ کرنے کی وجہ سے یہ تحریک چلائی جارہی ہے۔

مسلمان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی کسی بھی شعبہ میں ملازمتیں حاصل نہیں ہورہی ہے۔ سی پی ایم مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی۔ نائب صدر ضلع کانگریس کمیٹی مولانا کریم الدین کمال نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا ہے تو اسے پورا کریں اور اسی کیلئے یہ تحریک چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کیلئے روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ تحریک کا خیر مقدم کرتے ہوئے نیوز ایڈیٹر عامر علی خان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو تحریک کے ذریعہ ایک پلاٹ فارم پر جمع کرتے ہوئے اتحاد کا مظاہرہ کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ مجلس بچائو تحریک کے صدر عبدالقادر ساجد نے کہا کہ جذباتی تقریر کرنے والے تحریک سے دوری اختیار کئے ہوئے ہیں اور تحریک چلانے والے قائدین پر دبائو ڈالتے ہوئے 12فیصد کیلئے تحریک چلانے کی صورت میں 4 فیصد تحفظات سے بھی محروم ہونا پڑے گا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی رکن اسمبلی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحفظات کی فراہمی کیلئے ان سے نمائندگی کی گئی توکہا کہ مسلمانوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا ہے یہ کیوں مسلمانوں کا ساتھ دیں گے ۔ پروگرام کے کنوینر انور خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ تحریک آہستہ آہستہ سونامی میں تبدیل ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ووٹ حاصل کیا گیا ۔100 دن میں12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔

500 دن کا وقفہ گذرنے کے باوجود بھی تحفظات فراہم نہیں کئے گئے۔لہذا تحفظات کی فراہمی کیلئے بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لائیں انہوں نے نیوز ایڈیٹر’سیاست‘ عامر علی خان سے بھی اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ جب کبھی تحفظات کے مسئلہ پر انہیں دعوت دی گئی ۔انہوں نے حیدرآباد سے نظام آباد پہنچ کر ہمت افزائی کی۔ سی پی ایم کے ٹائون سکریٹری گوردھن نے اپنی تقریر میں کہا کہ رنگناتھ مشرا کمیشن ، سچر کمیٹی کی رپورٹ میں واضح طور پر اس بات کو بتایا گیا کہ مسلمان ایس سی ، ایس ٹی سی بھی انتہائی ابتر ہے ۔ لہذا بغیر کسی تاخیر کے بی سی کمیشن کے ذریعہ تحفظات فراہم کیا جائے۔ سی پی ایم کے قائد سب پلان و تحفظات کمیٹی کے ریاستی کنونیر محمد عباس نے اپنی تقریر میں کہا کہ چیف منسٹر بغیر کسی تاخیر کے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کریں اور سب پلان کا قیام عمل میں لائیں۔ جماعت اہلحدیث کے وجہہ اللہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ رکن پارلیمان نظام آباد نے کل مسلمانوں کو بہلا پھسلانے کیلئے اجلاس طلب کیا تھا اس اجلاس سے کچھ ہونے والا نہیں مسلمانوں کو مساجد کی تعمیر، بائونڈری وال کی تعمیر کیلئے فنڈس نہیں بلکہ تحفظات فراہم کرنے کی صورت میں ان کیلئے فائدہ ہوگا۔ اس اجلاس میں ٹائون کانگریس کے صدر کیشو وینو، کانگریس فلور لیڈر ایم اے قدوس،نائب صدر ضلع کانگریس کمیٹی محمد فیاض الدین ، اشفاق احمد خان ایڈیٹر روزنامہ نظام آباد مارننگ ٹائمز، کانگریس قائد محمد امر، عبود بن حمدان، عمران بن محسن، ایم اے جلیل ، تلگودیشم صدر ضلع اقلیتی سیل ایم اے منان، محمد معز ، محمد نعیم ، سرجیل پرویز آئی یو ایم ایل کے علاوہ دیگر بھی شامل تھے ۔بھوک ہڑتال میں شرکت کرنے والوں میں صدر سب پلان کمیٹی محمد انور خان ، نائب صدر سمیر احمد ، محمد ذاکریاپاپولر فرنٹ،عبدالمنان تلگودیشم، عبدالمقیت سابق کارپوریٹرآئی یو ایم ایل ، عبدالقادر ساجد ایم بی ٹی ، وجہہ اللہ ، جاوید اکرم ، عبدالکریم ببو، شرجیل پرویزآئی یو ایم ایل ، این گوردھن سی پی ایم، نورجہاں سی پی آئی ایم ایل و دیگر بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT