Saturday , May 27 2017
Home / Top Stories / تحفظات کی زمرہ بندیوں سے پسماندہ طبقات کو الجھن

تحفظات کی زمرہ بندیوں سے پسماندہ طبقات کو الجھن

نیٹ درخواستوں میں محفوظ زمرہ میں شامل طلبہ کیلئے ذات کی جگہ او بی سی تحریر کرنا بہتر
حیدرآباد۔15فروری(سیاست نیوز) نیٹ ۔2017کیلئے درخواستیں داخل کرنے والے وہ طلبہ جنہیں تحفظات کے دائرے میں نشست کے حصول کی امید ہیں یعنی جو پسماندہ طبقات کے کسی بھی زمرے میں شمار کئے جاتے ہوں تو انہیں نیٹ ۔2017کی درخواست میں کاسٹ کی جگہ OBCتحریر کرنا چاہئے کیونکہ آن لائن فارم میں ایس سی‘ ایس ٹی کے علاوہ صرف او بی سی کے انتخاب کا اختیار دیا گیا ہے جس کے سبب طلبہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے جبکہ آخری آپشن غیر محفوظ زمرہ کا دیا گیا ہے جسے حرف عام میں جنرل کہا جاتا ہے۔ بی سی (ای) زمرے میں آنے والے طلبہ کو چاہئے کہ وہ غیر محفوظ زمرہ کا انتخاب نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے وہ تحفظات کے حصول کے اہل برقرار نہیں رہ جائیں گے۔ ایم بی بی ایس میں داخلہ کیلئے قومی سطح پر منعقد ہونے جارہے اہلیتی امتحان میں شرکت کیلئے طلبہ کی جانب سے آن لائن فارمس کے ادخال کے دوران الجھن پیدا ہورہی ہے اور وہ او بی سی کے بجائے غیر محفوظ زمرے کا انتخاب کر رہے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔ میڈیکل کالج انتظامیہ کے مطابق نیٹ امتحان تحریر کرنے والے محفوظ زمرے میں شامل طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو چاہئے کہ وہ فارم میں طبقہ کی جگہ او بی سی کا انتخاب کریں تاکہ انہیں ریاست میں انہیں حاصل ہونے والے تحفظات سے استفادہ کا موقع دستیاب رہ سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ قومی سطح پر تحفظات کی درجہ بندیاں علحدہ علحدہ ہونے کے سبب تمام پسماندہ طبقات کو یکجا کرتے ہوئے ایس سی ‘ ایس ٹی کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقات کا زمرہ رکھا گیا ہے جں کے سبب یہ الجھن پیدا ہو رہی ہے۔ پسماندہ طبقات کی فہرست میں شامل تمام طلبہ کو چاہئے کہ وہ نیٹ کے فارم کے ادخال کے لئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہیں ریاستی سطحپر حاصل ہونے والے تحفظات سے محرومی کا خدشہ پیدا ہو جائے گا کیونکہ طبقہ کے متعلق اندراج نیٹ کے رینک کارڈ پر بھی موجود رہے گا اور داخلہ کے وقت طلبہ اپنے طبقہ کے اسناد پیش کرتے ہوئے محفوظ زمرے کے داخلہ کیلئے ادعا پیش کرسکتے ہیں لیکن جب رینک کارڈ پر غیر محفوظ زمرہ کی حیثیت ہوگی تو ایسی صورت میں امید واروں کو اپنے محفوظ طبقہ میں شامل ہونے کے ثبوت و شواہد پیش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے یہ ضروری ہے کہ طلبہ نیٹ 2017کے فارم کے ادخال کے وقت ہی ان تمام امور کی احتیاط کے ساتھ جانچ کو ممکن بنالیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT