Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / تخلیق ِکائنات میں توازن و تناسب

تخلیق ِکائنات میں توازن و تناسب

آج میں آپ کی توجہ ایک ایسی کائناتی حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، جو اسلام اور امت مسلمہ کی اہم اور امتیازی خصوصی بھی ہے۔ اللہ تعالی نے مخلوقات میں ایک حیران کن توازن رکھا ہے، جس کے نتیجے میں ہر چیز معتدل ہو گئی ہے اور یہ توازن و اعتدال ہی ہے، جو ہر شے کو اس کی اپنی اصلی حالت پر قائم رکھا ہے۔ جب یہ توازن بگڑ جاتا ہے تو اعتدال ختم ہو جاتا ہے اور فساد رونما ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے، جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا، تاکہ تم کو آزماکر دیکھے کہ تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر کرنے والا بھی۔ جس نے تہہ بر تہہ سات آسمان بنائے، تم رحمن کی تخلیق میں کسی قسم کا تفاوت نہ پاؤ گے، پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمھیں خلل نظر آتا ہے؟ بار بار نگاہ دوڑاؤ، تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی (لیکن کہیں بے ربطی، عدم توازن اور خلل نظر نہ آئے گا)‘‘۔ (سورۃ الملک۔ ۱تا۴)
آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچے کھیل کے طورپر کسی گلاس یا کٹورے میں پانی لے کر اس میں صابن گھولتے ہیں اور پھر کسی چھوٹی سی نلکی سے اس کے بلبلے بناکر اڑاتے ہیں۔ یہ بلبلے فضا میں تیرنے لگتے ہیں۔ بالکل اسی طرح پوری کائنات، تمام ستارے اور سیارے خلاؤں میں تیر رہے ہیں۔ یہ سب معلق ہیں، کسی چیز پر ٹکے ہوئے نہیں ہیں، چنانچہ ’’سورج اور چاند ایک حساب میں (بندھے ہوئے) ہیں‘‘ (سورہ رحمن۔۵) یہ حساب اتنا درست اور بے کم و کاست ہے کہ ہزاروں برس کے دوران میں اس میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا۔ آج سورج جس وقت طلوع ہوا تھا، ہزاروں برس سے اس تاریخ کو اسی وقت طلوع ہو رہا ہے۔ کل سورج جس وقت غروب ہوا تھا، ہزاروں لاکھوں برس سے اس تاریخ کو اسی وقت غروب ہو رہا ہے۔ کائنات میں لاکھوں کروڑوں بے شمار ستارے اور سیارے معلق گردش کر رہے ہیں، ان میں ایک دوسرے کے لئے کشش اتنی متوازن ہے کہ یہ ایک دوسرے سے خاص مقررہ فاصلے پر ہی رہتے ہیں، آپس میں نہیں ٹکراتے۔ اگر ان کے اس توازن میں ذرہ برابر بھی فرق آجائے تو یہ ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں اور قیامت برپا ہو جائے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اللہ ہی ہے جس نے تم کو نظر نہ آنے والے ستونوں کے بغیر ہی آسمانوں کو بلند کیا ہے، پھر وہ عرش (اپنے تخت سلطنت) پر جلوہ آراء ہوا اور اس نے آفتاب اور ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا ہے۔ اس سارے نظام کی ہر چیز ایک مقررہ وقت کے لئے رواں دواں ہے اور اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے۔ وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تمھیں اپنے رب سے ملنے کا یقین آجائے اور وہی ہے جس نے زمین پھیلا رکھی ہے اور اس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دیئے ہیں، اسی نے ہر طرح کے پھولوں کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور دن کو رات پر طاری کرتا ہے۔ ان ساری چیزوں میں بڑے نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں‘‘۔ (سورہ رعد۔۲،۳)
سورہ رحمن میں فرمایا: ’’آسمان کو بلند کردیا اور توازن قائم کردیا‘‘ اور سورہ یسین میں فرمایا: ’’ان کے لئے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے اور سورج بھی ایک نشانی ہے کہ وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے، یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے اور چاند بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے اس کے لئے منزلیں مقرر کردی ہیں، یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند رہ جاتا ہے۔ نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات، دن پر سبقت لے جاسکتی ہے، ہر ایک اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے‘‘۔ دیکھا آپ نے نظام کائنات کیسے حیرت انگیز توازن میں جکڑا ہوا ہے۔ کائنات کی ہر چیز میں آپ کو ایسا ہی توازن و تناسب ملے گا۔ پرندوں کو دیکھو کس توازن کے ساتھ فضاء میں پر پھیلائے پرواز کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’کیا یہ لوگ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پھر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے؟ رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انھیں تھامے ہوئے ہو‘‘۔ (سورۃ الملک۔۱۹)

اللہ تعالی نے پرندوں کو ان کی جسامت کے مطابق پر دیئے ہیں اور توازن ہی کے لئے چوپایوں کو ان کی جسامت کے مطابق پاؤں دیئے ہیں۔ اسی طرح ہر جاندار کو اس کی طبعی ضرورت کے مطابق اعضاء عطا فرمائے ہیں۔ ہماری رگوں میں جو خون دوڑ رہا ہے، اس کی روانی میں بھی ایک توازن و تناسب ہے، جو ہمیں صحت مند رکھتا ہے۔ اگر یہ روانی اپنی نارمل رینج سے بڑھ جائے تو ہائی بلڈ پریشر اور یہی روانی کم ہو جائے تو لوبلڈ پریشر، غرض دونوں صورتوں میں ہم بیمار ہو جاتے ہیں۔ صحت صرف اس کے ’’اعتدال‘‘ میں ہے۔ اسی طرح ہمارے جسم میں حرارت ہے، یہ حرارت بڑھ جائے تو بخار اور کم ہو جائے تو ناتوانی اور پستی، دونوں صورتوں میں ہم بیمار اور صحت صرف اس کے ’’اعتدال‘‘ میں ہے۔ القصہ مختصر یہ کہ آپ کو کائنات کی ہر چیز میں ایک توازن و اعتدال ملے گا۔ اسی توازن و تناسب اور اعتدال کی منصوبہ بندی کو اللہ تعالی نے ’’اپنی تقدیر‘‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ارشاد باری ہے: ’’دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے، وہی جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بے جان کو جاندار سے نکالنے والا ہے۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے، پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو۔ پردۂ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے، اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے، اس نے چاند اور سورج کو طلوع و غروب کا حساب مقرر کیا ہے۔ یہ سب اسی عزیز و علیم کی تقدیر (منصوبہ بندی) ہے‘‘ (سورۂ انعام۔۹۵،۹۶) اسی طرح زمین و آسمان کے تخلیقی مراحل بتانے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’اس نے دو دن میں آسمان بنادیئے اور ہر آسمان میں اس کا قانون وحی کردیا اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے سجادیا اور خوب محفوظ کردیا ہے۔ یہ سب کچھ اسی عزیز و علیم کی تقدیر (منصوبہ بندی) ہے‘‘۔ (سورہ حم السجدہ۔۱۲) (اقتباس)

Top Stories

TOPPOPULARRECENT