Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تخلیق کا مقصد خالق کی پہچان، سائنس کے ذریعہ معرفت الٰہی ممکن

تخلیق کا مقصد خالق کی پہچان، سائنس کے ذریعہ معرفت الٰہی ممکن

جامعہ نظامیہ میں علوم القرآن پر علمی مذاکرہ، مفتی خلیل احمد، ڈاکٹر اسلم پرویز و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔19فروری(سیاست نیوز) تخلیق کائنات کا مقصد خالق کی پہچان ہے اور اللہ اپنے بندوں کو اپنے مظاہر کی سمت مدعو کرتے ہوئے انہیں اپنی جانب راغب کرنا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے جامعہ نظامیہ میں منعقدہ علمی مذاکرہ بعنوان ’ علوم القرآن‘ سے کلیدی خطبہ کے دوران یہ بات کہی۔انہوں نے بتایا کہ کائینات کی آفاقیت اس کے خالق کا پتہ دیتی ہے اور معرفت الہی کے کئی ایک ذرائع ہیں جن میں سائنس بھی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعہ معرفت الہی ممکن ہے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے کہا کہ خالق کو پہچاننا ہی دراصل تخلیق کا بنیادی مقصد ہے اور خالق کا قرب حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تخلیق کے رموز سے واقفیت حاصل ہو۔وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے جامعہ نظامیہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کے ذریعہ جو تحقیقی و اشاعتی خدمات انجام دی جا رہی ہیں اور اب تک انجام دی گئی ہیں وہ گرانقدر ہیں۔ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ کی نگرانی میں منعقدہ اس مذاکرہ میں مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ ‘ مولانا عبدالحمید محمد سالم قادری زیب سجادہ خانقاہ عالیہ قادریہ بدایوں‘ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ ‘ مولانا ڈاکٹرسید بدیع الدین صابری پروفیسر جامعہ عثمانیہ ‘ مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی ‘ کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ شیخ الاسلام مولانا مفتی خلیل احمد نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ جامعہ نظامیہ سرزمین دکن کی وہ مادر علمیہ ہے جو ہمہ وقت ترویج و اشاعت دین میں مصروف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ نظامیہ میں علوم قرآنی کی تعلیم مسلسل جاری ہے اور وقت کی ضرورت کے اعتبار سے علوم قرآنی کے عنوان سے اس مذاکرہ کا انعقاد عمل میںلایا گیا ہے۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے بتایا کہ جامعہ نظامیہ میں دین اسلام کے تما م شعبوں کی تعلیمات کا نظم قائم ہے اور ان علوم کی تحقیق کا لامتناہی سلسلہ بھی جاری رکھا گیا ہے۔ مولانا سالم القادری نے بتایا کہ انہیں اس عظیم درسگاہ سے روحانی تعلق ہے کیونکہ اس جامعہ کا قیام بحکم وجہ تخلیق کائنات حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے منفرد انداز تخاطب کے دوران کہا کہ جامعہ نظامیہ احکام شریعت اور سنیت کے مطابق وقت و حالات کے اعتبار سے ترویج میں مصروف ہے۔ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ نے کہا کہ مستشرقین نے محض قرآن میں غلطیوں کی نشاندہی کے لئے عربی علوم پر دسترس حاصل کی اور یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ قرآن میں غلطی ہے

لیکن انہیں کلام ربانی کی حقانیت کا اعتراف کرنا ہی پڑا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن الہی معجزہ ہے اور اس کا اعجاز صبح قیامت تک باقی رہنے والا ہے۔نزول قرآن کے بعد وہ عربوں کو جنہیں اپنی بلاغت پر ناز تھا وہ ختم ہوگیا ۔مولانا خواجہ شریف نے علماء کو قرآن مجید کے بلاغی پہلوؤں پر نظریں مرکوز رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ہمیشہ سر سبز و شاداب رہے گا۔ مولانا ڈاکٹر سید بدیع الدین صابری نے ’ تخلیق انسان قرآن و سائنس کی روشنی میں‘ کے عنوان پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سائنس کے نظریات میں تبدیلی آسکتی ہے لیکن قرآن حکیم کے حقائق ابدی و عالمگیر ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سائنسی حقائق کے قرآن سے مطابقت کے باوجود اللہ رب العزت کے آفاقی پیام کو سائنس کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جا سکتا بلکہ قرآن کی حقانیت کسی سائنس کی محتاج نہیں ہے۔مولانا سید بدیع الدین صابری نے بتایا کہ قرآن مجید میں انسان کی تخلیق کے خارجی اسباب کو بیان کیا ہے اسی طرح بہت ہی واضح طور پر ماں کے پیٹ میں جینن کی داخلی تشکیل و و ارتقاء کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے ان آیات کو تخلیق انسانی کے مراحل پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کیلئے دعوت فکر قرار دیا۔ مولانا سید ضیاء الدین نقشبندی نے ’معاشی نظام اور قرآن‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے کلام اللہ اور اپنے حبیب سید عالم ﷺ کے ارشادات کے ذریعہ جو معاشی نظام عطا کیا ہے وہ ایسا اعتدال والا قانون ہے جس میں فرد کو مکمل اختیارات کے ساتھ کچھ خدائی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ان پابندیوں کے سبب ہی کوئی فرد معیشت پر اجارہ داری قائم نہیں کرسکتا۔ انہوںنے کہا کہ اللہ کا دیا ہوا معاشی نظام تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام میں دولت منجمد ہوتی ہے لیکن اسلامی نظام معیشت میں ایسا نہیںہوتا بلکہ اس کے برخلاف قرآن کے عطا کردہ اصول و قوانین کے اعتبار سے دولت گردش کرتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا معاشی نظام چاہتا ہے کہ دولت گردش کرتی رہے اسی لئے مالدار کو زکواۃ کی ادائیگی کا حکم ہے اور غلطیو ں کی پاداش میں کفارہ بطور صدقہ دینے کی ہدایت ہے جس کے سبب دولت کا قابل لحاظ حصہ غریبوں تک پہنچ جاتا ہے۔ آخرمیں مولوی سید احمد علی معتمد جامعہ نظامیہ نے شکریہ ادا کیا ۔مولانا حافظ محمد عبید اللہ فہیم قادری الملتانی کی زیر نگرانی مذاکرہ کے تمام انتظامات کئے گئے تھے۔ مولانا محمد انوار احمد نائب شیخ التفسیر نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ ابتداء میں مولوی حافظ محمد سیف علی نے قرات کلام پاک پیش کی جبکہ مولوی حافظ محمد عمران عثمانی نے ہدیۂ نعت پیش کیا۔

TOPPOPULARRECENT