Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / تدفین کے وقت دنیوی گفتگو کرنا

تدفین کے وقت دنیوی گفتگو کرنا

سوال : عموماً نماز جنازہ کے لئے وقت باقی رہے تو لوگ گفتگو کرتے ہیں اور قبرستان میں میت کے قریبی عزیز و اقارب تدفین میں مصروف رہتے ہیں اور دیگر رشتہ دار و احباب باتیں کرتے رہتے ہیں، وہ بھی دنیا کی باتیں کرتے ہیں۔
معلوم کرنا یہ ہے کہ ایسے وقت میں کیا کرنا چاہئے۔ کوئی خاص ذکر اس وقت مسنون ہے تو بیان کیجئے ؟
جواب : نماز جنازہ میں شرکت کرنا تدفین میں شریک رہنا موجب اجر و ثواب ہے۔ اسی طرح کسی کا انتقال کرجانا دنیا کی بے ثباتی پر دلالت کرتا ہے کہ ایک دن ہمیں بھی اس دنیا سے رخصت ہونا ہے اور ہمارے بدن میں موجود ہماری روح ایک دن اس بدن کو چھوڑ کر روانہ ہوجائے گی پھر اس جسم میں کوئی حس و حرکت باقی نہیں رہے گی۔ اور وہ شخص جو مانباپ کا منظور نظر تھا ، اولاد کا محبوب تھا، دوست و احباب کا دلعزیز تھا ، وہی ماں باپ ، اولاد، دوست و احباب اس کے بے جان جسم کو جلد سے جلد زمین کے نیچے کرنے کی فکر کریں گے اور اس کے بعد کے منازل اس کو اکیلے ، تنہا طئے کرنے ہوں گے ۔ اس کے ماں باپ، اولاد ، دوست و ا حباب ، رشتہ دار قبر تک ساتھ آئیں گے پھر واپس چلے جائیں گے ۔ قبر میں تنہا چھوڑ جائیں گے۔ نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مونس پاس ہوگا ۔ بس وہ ہوگا ، اس کے اعمال ہوں گے اور خدا کا فضل ہوگا ۔ اسی بناء پر نبی اکرم ﷺنے زیارت قبور کی تر غیب دی کیونکہ اس سے آخرت کی یاد اور دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوتی ہے۔
بناء بریں حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص ۴۰۱ میں ہے : جنازہ کے ساتھ جانے والے کے لئے مستحب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہے اور غور و فکر کرے کہ میت کو کیا حالات درپیش ہوں گے اور اس دنیا کے انجام و نتیجہ پر غور کرے اور اس موقعہ پر بالخصوص لا یعنی بے فائدہ گفتگو سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ ذکر و شغل اور نصیحت حاصل کرنے کا وقت ہے ۔ تاہم بلند آواز سے ذکر نہ کرے اور ایسے وقت میں غافل رہنا نہایت بری بات ہے اور اگر وہ ذکر نہ کرے تو اس کا خاموش رہنا چاہئے ۔ وفی السراج یستحب لمن تبع الجنازۃ ان یکون مشغولا بذکراﷲ تعالیٰ والتفکر فیما یلقاہ المیت وان ھذا عاقبۃ أھل الدنیا ولیحذر عمالا فائدۃ فیہ من الکلام فان ھذا وقت ذکر و موعظۃ فتقبح فیہ الغفلۃ فان لم یذکراﷲ تعالیٰ فلیلزم الصمت ولا یرفع صوتہ بالقراء ۃ ولا بالذکر۔
اسلام سے برگشتہ لڑکی وارث نہیں ہوگی
سوال : زید کا ا نتقال ہوا، ان کی متروکہ جائیداد ہے۔ مرحوم کی مذکورہ جائیداد ایک منزل تھی جس کی تعمیر و توسیع یعنی دوسری عمارت کی تعمیر مرحوم کی تینوں لڑکیوں نے بغیر کسی شرط کے اور اس تعمیری اضافہ میں مرحوم کی بیوہ کا سرمایہ بھی لگا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک لڑکی مذہب اسلام کو چھوڑ کر عیسائی مذہب قبول کرلی ہے ۔ کیا وہ اپنے والد مرحوم کے متروکہ میں حصہ پائے گی اور جو کچھ اس کی رقم تعمیر میں لگی ہے کیا اس کو واپس دے دینا ضروری ہے ؟
جواب : ارتداد مانع ارث ہے، شریفیہ سرح سراجی میں ہے: المانع من الارث اربعۃ … والثالث اختلاف الدینین فلا یرث الکافر من المسلم اجماعاً ۔ صورت مسئول عنھا میں زید مرحوم کے متروکہ مکان میں تعمیر کا اضا فہ کیا گیا ہے اور جن جن کا سرمایہ اس میں لگا ہے وہ قبل از تقسیم ہونے کی وجہ سے مرحوم کے متروکہ میں ا ضافہ متصور ہوگا ۔ اس لئے اس میں جنہوں نے بھی رقم خرچ کی ہے ان کو واپس نہیں ملے گی، البتہ وہ ملبہ کے مالک ہیں اور مرحوم کی مرتدہ لڑکی شرعاً وارث نہیں اور مرحوم کے مترکہ سے اس کو کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
فقط واﷲ اعل

TOPPOPULARRECENT