Saturday , August 19 2017
Home / آپ کے سوال / تراویح کیلئے غیر داڑھی والے حافظ کا انتخاب

تراویح کیلئے غیر داڑھی والے حافظ کا انتخاب

سوال :  ہمارے محلہ کی مسجد کے امام صاحب متقی، پرہیز گار ، پابند شریعت ہیں، وہ حافظ قرآن بھی ہیں ۔ تقریباً بارہ سال سے ہماری مسجد میں سوا پارہ نماز تراویح پڑھاتے آرہے ہیں۔ اس سال ان کے پاؤں میں تکلیف کی وجہ وہ نماز تراویح پڑھانے کیلئے تیار نہیں، اس لئے مسجد کی کمیٹی نے ایک حافظ صاحب کا انتخاب کیا جو الحمدللہ حیدرآباد ہی کے ہیں اور تقریباً آٹھ سال سے قرآن سنا رہے ہیں، ان کی عمر تقریباً بائیس سال ہے لیکن ان کو داڑھی نہیں آئی ہے وہ داڑھی کاٹتے نہیں ہیں۔ فطری طور پر ان کو داڑھی نہیں ہے ۔ ہمارے کمیٹی کے ایک ممبر کا کہنا ہے کہ بغیر داڑھی والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔ براہ کرم جلد جواب عنایت فرمائیں۔ رمضان قریب ہیں۔
عبدالحق،تیگل کنٹہ
جواب :  جس بالغ لڑکے کی عمر اتنی ہے کہ ابھی اس کی داڑھی ، مونچھ نکلنے کا زمانہ ختم نہیں ہوا ہے تو اس کو ’’ امرد‘‘ کہتے ہیں جس کی امامت مکروہ تنزتائی ہے اور جس کے داڑھی مونچھ نکلنے کا زمانہ ختم ہوگیا ہے اور اب تک نہیں نکلی ہے تو ایسے شخص کی امامت بلا کراہت درست ہے ۔ در مختار کی کتاب الصلاۃ باب الامامۃ میں ہے : وکذا تکرہ خلف امرد رد المحتار میں ہے : الظاھر انھا تنزیھیۃ ایضا والظاھر ایضا کما قال الرحمتی ان المرادبہ صبح الوجہ لأنہ محل الفتنۃ۔ اسی صفحہ میں ہے :  سئل العلامۃ الشْخ عبدالرحمن بن عیسی المرشدی عن شخص بلغ من السن عشرین سنۃ و تجاوز حدا الانبات ولم ینبت عذارہ فھل یخرج ذلک عن حدالامردیۃ و خصوصاً قدنبت لہ شعرات فی ذقنہ تؤذن بأنہ لیس من مستذیری اللحی فھل حکمہ فی الامامۃ کالرجال الکاملین ام لا ؟ اجاب مسئل العلامۃ الشیخ احمد بن یونس المعروف بابن الشبلی من متاخری علماء الحنفیۃ عن ھذہ المسئلۃ فاجاب بالجواز من عہد کراھۃ و ناھیک بہ قدوۃ و کذالک سئل عنھا المفتی محمد تاج الدین القلجی فاجاب کذالک۔
پس دریافت شدہ مسئلہ میں اکیس سالہ حافظ قرآن جنکو طبعی طور پر داڑھی نہیں آئی ہے ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا بلا کراہت جائز۔

نابالغ کا روزہ
سوال :  میرا لڑکا دو سال سے مسلسل روزہ رہنے کے لئے اصرار کر رہا ہے ۔ اب وہ دس سال کا ہوچکا ہے ۔میری خو اہش ہے کہ اس سال اس کی روزہ رکھائی کروں لیکن مجھے خیال آتا ہے کہ دس سال کی عمر سے نماز کا حکم سختی سے کرناہے ۔ روزہ کا نہیں۔ جب اس پر روزہ فرض نہیں تو کیا روزہ رہنے سے اس کو ثواب ملے گا، اور ثواب ملتا ہے تو ماں باپ کو بھی ملے گا یا نہیں ؟
نعمت امان، معین آباد
جواب :  احکام شرعیہ کی فرضیت اور اس کا وجوب مکلف پر ہے اور مکلف شریعت میں مسلمان عاقل و بالغ کو کہا جاتا ہے جیسا کہ رد المحتار ج : 1 ، ص : 245 کتاب الصلوۃ میں ہے ’’ المکلف ھو المسلم البالغ العاقل ولو انثی او عبداً ‘‘ بالغ ہونے سے پہلے انسان مکلف نہیں۔ اس لئے احکام اس پر فرض نہیں، البتہ حدیث شریف میں والدین کو یہ حکم ہے کہ نابالغ بچوں کو نماز اور روزہ رکھنے کیلئے سات برس کی عمر کے بعد زبان سے کہیں اور دس سال کی عمر کے بعد اگر وہ عمل نہ کریں تو ہاتھ سے مار سکتے ہیں اور یہ حکم  اس لئے دیا گیا ہے کہ بچے اسلامی تربیت سے متصف ہوں، اچھے کاموں کے عادی ہوجائیں اور برے کاموں سے بچنے لگیں۔ در مختار برحاشیہ ردالمحتار میں ہے ’’ ھی فرض علی کل مکلف و ان وجب ضرب ابن عشر علیھا بید لا بخشبۃ ’’ لحدیث‘‘ مروا اولادکم بالصلوۃ و ھم أبناء سبع و اضربو ھم علیھا وھم أبناء عشر ، قلت والصوم کالصلوۃ علی الصحیح کما فی صوم القھستانی معزیا للزاھد و فی الحظر الاختیاریۃ یؤمر بالصوم والصلوۃ و ینھی عن شرب الخمر لیألف الخیر و یترک الشر ‘‘۔
نابالغ بچوں کی عبادت کا ثواب انہی کو ملتا ہے۔ البتہ والدین کو تعلیم و تربیت کا اجر دیا جاتا ہے ۔ در مختار مطبوعہ برحاشیہ ردالمحتار ج : 5 ، ص : 536 کتاب الھبۃ میں ہے ۔ ’’حسنات الصبی لہ ، ولأبویہ أجرالتعلیم و نحوہ ‘‘۔

روزہ کا فدیہ
سوال :  میری عمر 68 سال ہے اور میں شوگر کا مریض ہوں۔ میں ہر سال روزہ کا اہتمام کرتا تھا لیکن اس بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے سے قاصر ہوں کیا علالت کی وجہ سے روزہ چھوڑنے کا گناہ ہوگا یا مجھ پر کوئی کفارہ لازم ہے ؟
محمد احمد ، مہدی پٹنم
جواب :  شیخ فانی یعنی وہ معمر حضرات جن کی عمر اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب وہ کمزوری کی وجہ سے روزہ رکھنے کے قابل نہیں رہے اور آئندہ طاقت آنے کی کوئی امید نہیں کہ روزہ رکھ سکیں۔ یا ایسے امراض میں مبتلا لوگ جو روزہ پر قدرت نہیں رکھ سکتے اور نہ آئندہ توقع ہے کہ روزہ رکھ سکیں گے تو ایسے حضرات کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن ہر روزہ کے بدلہ میں بطور فدیہ ایک صدقہ فطر کی مقدار (سوا کیلو گیہوں یا اس کی قیمت) مسکین کو دینا لازم ہے ۔ ’’ و علی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین ‘‘ (البقرہ 184/2 ) اگر فدیہ دینے کے بعد روزہ رکھنے کی طاقت آجائے تو وہ روزہ کی قضاء کریں۔

تراویح میں امام کو لقمہ دینا
سوال :  دریافت طلب مسئلہ یہ ہیکہ کیا تراویح میں امام صاحب کو لقمہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں۔کیا لقمہ دینے سے مقتدی یا امام کی نماز فاسد ہوجاتی ہے ؟ اگر مقتدی لقمہ دے اور امام لقمہ نہ لے تو کیا مقتدی کی نماز فاسد ہوجاتی ہے ؟
عبدالرحیم، عنبر پیٹ
جواب :  مقتدی اپنے امام کو فرض و نفل ہر قسم کی جہری نماز میں لقمہ دے سکتا ہے۔ مقتدی کے ا پنے امام کو لقمہ دینے سے مقتدی اور امام کسی کی بھی نماز فاسد نہیں ہوتی ۔ عالمگیری ، باب مایفسد الصلوۃ میں ہے : ’’ وان فتح علی امامہ لم تفسد ، ثم قیل ینوی الفاتح بالفتح علی امامہ التلاوۃ والصحیح ان ینوی الفتح علی امام دون القراء ۃ قالوا ھذا اذا ارتج علیہ اخریٰ قبل ان یقرأ قدر ما یجوز بہ الصلوۃ او بعد ما قرأ و لم یتحول الی آیۃ اخریٰ ، و اما اذا قرأ و تحول ففتح علیہ تفسد صلاۃ الفاتح ، والصحیح انھا لا تفسد صلوۃ الفاتح بکل حال ولا صلوۃ امام لو أخذ منہ علی الصحیح کذا فی الکافی‘‘ مقتدی کا امام کو فوراً لقمہ دینا مکروہ ہے۔ اس لئے مقتدی کو چاہئے کہ لقمہ دینے میں جلدی نہ کرے، ممکن ہے کہ امام کو اسی وقت بھولا ہوا لفظ یاد آجائے۔ عالمگیری میں اسی جگہ ہے : ’’ و یکرہ للمقتدی ان یفتح علی امامہ من ساعتہ لجواز ان یتذکر من ساعتہ فیصیر قارئً خلف الامام من غیر حاجۃ کذا فی محیط السرخسی‘‘
اگر مقتدی لقمہ دے اور امام لقمہ نہ لے تواس سے مقتدی کی نماز فاسد نہیں ہوتی ۔ فتاوی عالمگیری ج : 1 ، ص : 99 میں ہے ’’ و ان فتح علی امامہ لم تفسد ‘‘ اور اسی جگہ ہے ’’ والصحیح انھا لا تفسد صلوۃ الفاتح بکل حال و لا صلوۃ الامام لہ اخذ منہ علی الصحیح کذا فی الکافی‘‘۔

زکوٰۃ  اور مرحومین کے روزوں کا فدیہ
سوال :  میں اپنی اہلیہ کو ہر ماہ کچھ رقم ان کے خرچہ کیلئے دیتاہوں۔ میرے چار لڑکے جو نوکری کرتے ہیں ، اپنے خرچہ اور اپنی بیویوں کے خرچہ کی رقم رکھ کر باقی رقم مجھے ہر ماہ دیتے ہیں۔ میری بیوی اور چاروں بیٹوں نے مجھے ان کی طرف سے زکوٰۃ کرنے کو کہا ہے چونکہ وہ صاحب نصاب ہیں، ان سب کی طرف سے زکوٰۃ کرنا کیا میری ذمہ داری ہے۔ معلوم کیجئے اورایک سوال یہ ہیکہ میںہر سال غریبوں میں زکوٰۃ کی رقم سے کپڑے تقسیم کرتاہوں لیکن غریب لوگ نقد رقم دیں تو اچھا ہیں کہتے ہیں۔ اس لئے صحیح طریقہ کیا ہے اور آخری سوال یہ کہ میرے والدین مرحومین کی طرف سے روزوں کا فدیہ دینا ضروری ہے  اس لئے کہ وہ بیمار تھے اور روزہ نہیں رہتے تھے؟
نعمان احمد، رنگ روڈ، مہدی پٹنم
جواب :  زکوٰۃ صاحب نصاب پر واجب ہے۔ صورت مسئول عنھا میں آپ  آپکے بہو بیٹوں نے جو اپنا زائد مال آپکے حوالے ہر ماہ کر رہے ہیں، کیا وہ پیسہ بھیجتے وقت اس بات کی وضاحت کئے تھے کہ ہماری قربانی ، زکوٰۃ ، صدقات وغیرہ آپ اسی میں سے ادا کرلیں؟ اگر ایسا کہا گیا تھا تو آپ ان کے مال سے ہی ان کی زکوٰۃ کی ادائیگی کریں لیکن اگر وہ صرف آپ کے حق پدرانہ کے طورپر کچھ رقم ارسال کرتے تھے جو آپکے ذاتی خرچ کیلئے ہوتی تھی توظاہر ہے اس میں آپ پر ان کی زکوٰۃ کی ادائیگی لازمی نہیں۔ انہیں اپنے مال کی زکوٰۃ نکالنا ہوگا۔
(2 غریبوں کو پیسہ کا مالک بنادینا زیادہ بہتر ہے تاکہ وہ اپنی ضروریات میں اسے خرچ کریں۔
(3 اگر آپ کے والدین اپنے روزوں کے فدیہ کے متعلق آپ کو وصیت کی تھی اور ان کا پیسہ موجود ہے تب آپ پر ان کے چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ دینا واجب ہے ورنہ ضروری نہیں۔

افطار پارٹی میں عقیقہ کرنا
سوال :  میرا پہلا سوال یہ ہے کہ میں اور میری بیوی اس سال حج کیلئے جارہے ہیں۔ ہمارا عقیقہ نہیں ہوا ہے، ہم کو عقیقہ کر کے جانا ضروری ہے کیا ؟ ہم کو تو نہ تاریخ معلوم ہے اور نہ دن۔ کیا ہم کسی بھی دن یا تاریخ میں کرسکتے ہیں ؟  میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ میری اولاد کا بھی عقیقہ نہیں ہوا، کیا ان سب کا عقیقہ کرنا  میرا فرض ہے یا نہیں۔ ان سب کا عقیقہ کرنا ہے تو کس طرح کریں۔ کیا 7 واں دن دیکھنا ضروری ہے؟ یہ سب کا عقیقہ ایک دن کرسکتے ہیں کیا ؟ لڑکے لڑکیاں شادی شدہ ہیں۔ میرا فرض ہے یا وہ عقیقہ کرسکتے ہیں ؟
میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ افطار پارٹی میں میرا اور میری بیوی کا عقیقہ کرنا چاہتا ہوں ، افطار پارٹی کا رقعہ دینا چاہتا ہوں ۔ کیا رقعوں میں عقیقہ بھی لکھنا ضروری ہے یا نہیں ؟ میں نہیں لکھنا چاہتا ہوں۔
میرا چوتھا سوال یہ ہے کہ بیٹے کے اوپر ماں باپ بھائی بہن کا حق زیادہ ہے یا سسرال والوں کا ؟ اپنے مکان میں دعوت دینا ہوٹل میں دعوت دینا ان لوگوں کا زیادہ خیال کرنا ہر وقت سسرال والوں کو خوش کرنا ماں باپ کا خیال کم ، سسرال والوں کا زیادہ ہے ۔ میرے چار سوالوں کا جواب اسلامی نقطہ نظر سے شرعی احکام بتائیں ؟
نام مخفی
جواب :  عقیقہ مستحب ہے۔ ساتویں دن کرنا بہتر ہے ۔ اگر دن ، تاریخ معلوم نہیں ہے تو کبھی بھی کرسکتے ہیں ۔ حج کو جانے سے قبل عقیقہ کرلینا کوئی  ضروری نہیں ۔ اس طرح اولاد بالغ ہوچکی ہے تو اب وہ خود عقیقہ کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں گے ۔ ماں باپ پر اولاد کا عقیقہ کرنا کبھی بھی فرض نہیں۔ وہ صرف مستحب ہے، تاہم عقیقہ کرنا چاہئے ۔ تاکہ جان کا صدقہ و فدیہ ہوجائے ۔ افطار پارٹی میں عقیقہ کیا جاسکتا ہے ۔ رقعہ میں عقیقہ لکھنا کوئی ضروری نہیں۔ ماں باپ اور اولاد سب کا ایک ہی دن عقیقہ کرنا چاہتے ہیں تو شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔
حسن سلوک کے زیادہ حقدار حقیقی ماں باپ اور قریبی رشتہ دار بھائی بہن ہیں۔ سسرال والوں کی دلجوئی ٹھیک ہے ۔ ساتھ میں ماں باپ کا ان سے زیادہ خیال رکھیں۔ کیونکہ ان کا حق ان کی خدمت ، ان کی دلجوئی سب پر مقدم ہے۔

TOPPOPULARRECENT