Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / ترقیاتی کاموں کے ذریعہ تخریبی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب

ترقیاتی کاموں کے ذریعہ تخریبی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب

نئی دہلی میں آج نکسلائیٹس سے متاثرہ ریاستوں کے چیف سکریٹریز کا جائزہ اجلاس
نئی دہلی۔/23جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) نکسلائیٹس سرگرمیوں سے متاثرہ 7 ریاستوں کے چیف سکریٹریز اور کلیدی نوعیت کی مرکزی وزارتوں کے معتمد ین کا اجلاس کل یہاں منعقد ہوگا جس میں ماویسٹوں سے متاثرہ علاقوں میں شروع کئے گئے ترقیاتی پراجکٹس پر عمل آوری کا جائزہ لیا جائیگا۔ترقیاتی مسائل پر منعقد ہونے والے اہم اجلاس کی صدارت مرکزی معتمد داخلہ راجیو مہرشی کریں گے۔ جبکہ چھتیس گڑھ، جھار کھنڈ، بہار، آندھرا پردیش، اڈیشہ، تلنگانہ اور مہاراشٹرا کے چیف سکریٹریز شریک ہوں گے۔ علاوہ ازیں مرکزی وزارتوں، روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز، ماحولیات و جنگلات، صحت و بہبود خاندان، ریلویز، اطلاعات و نشریات اور محکمہ جات ٹیلی کام، اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ( خواندگی) فینانشیل سرویسیس، پوسٹ کے سکریٹریز( معتمدین ) بھی حصہ لیں گے۔ مرکزی حکومت نے ماویسٹوں کی سرکوبی کیلئے ہمہ رُخی حکمت عملی اختیار کی جس میں سیکوریٹی اور ترقیاتی اقدامات اور مقامی لوگوں کیلئے حقوق و اختیارات کی فراہمی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ اس خصوص میں مرکزی حکومت کے خصوصی پراجکٹس جیسے سڑکوں کی تعمیر، موبائیل ٹاورس کی تنصیب، پولیس اسٹیشن کی تعمیر کیلئے فنڈس منظور کئے ہیں۔ یہ ترقیاتی کام، ریاستوں، مرکزی حکومت کی اسکیمات اور پروگرامس کے ذریعہ انجام دیئے جائیں گے۔ ا یک اندازہ کے مطابق 10ریاستوں کے 106 اضلاع میں مختلف اشکال میں نکسلائیٹس سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ 7ریاستوں کے 35اضلاع شدید متاثر ہیں۔

حالیہ دنوں میں سیکوریٹی فورسیس نے بائیں بازو کی عسکریت پسندی سے نمٹنے میں نمایاں پیشرفت کی ہے اور گذشتہ سال کے مقابل جاریہ سال نکسلائیٹس تشدد میں 30فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ جاریہ سال ماہ جنوری سے اپریل تک 76ماویسٹ ہلاک ہوئے اور گذشتہ سال اس مدت کے دوران 15ہلاک ہوئے تھے۔ سال 2016 کے ابتدائی 4ماہ میں 665 ماویسٹ گرفتار اور 639 نے خودسپردگی اختیار کرلی تھی جبکہ گذشتہ سال 435 نکسلائیٹس گرفتار اور 135 سرینڈرہوئے۔ سال 2015میں باغیوں کے 1,088پرتشدد واقعات میں 226افراد ہلا ک ہوگئے تھے جس میں 168 شہری اور 58سیکوریی اہلکار شامل ہیں۔ علاوہ ازیں گذشتہ سال 89 ماویسٹ ہلاک اور 1,668گرفتار اور 570 کیڈر نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ سال 2013 کے مقابل سال 2015میں ہلاکتوں کی تعداد میں 42فیصد کمی آئی ہے۔ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی حالیہ ایک رپورٹ میں 7 ریاستوں کے35 اضلاع میں ماویسٹوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پرتشویش کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ داخلی سلامتی کیلئے بائیں بازو کی عسکریت پسندی سے خطرہ برقرار ہے اور نکسلائیٹس تنظیموں میں سی پی آئی ( ماویسٹ ) کو سب سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے جو کہ تشدد اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT