Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ترکاری پر جی ایس ٹی نہیں لیکن حمل و نقل پر لزوم

ترکاری پر جی ایس ٹی نہیں لیکن حمل و نقل پر لزوم

دودھ پر 0 فیصد جی ایس ٹی لیکن چائے پر 5 فیصد جی ایس ٹی ، نتیجہ چائے مہنگی
حیدرآباد ۔ 14 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : ترکاریوں پر جی ایس ٹی بہت بُرا اثر پڑرہا ہے عام مارکٹ میں فی کیلو ٹماٹر 90 روپئے ہے تو سوپر مارکٹس میں ٹماٹر کی قیمت 109 روپئے فی کیلو ہے ۔ پریشان حال صارفین کے استفسار پر بتایا جاتا ہے کہ 18 فیصد جی ایس ٹی شامل ہے ۔ صرف ٹماٹر ہی نہیں عام مارکٹ میں بیگن 50 روپئے فی کیلو ہے تو سوپر مارکٹ میں 68 روپئے فی کیلو ہے جب کہ ہری مرچی عام بازار میں ہی 100 روپئے فی کیلو ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی خرید و فروخت سے اوپر ہے ۔ تقریبا 15 دن سے ترکاریوں کی قیمتیں آسمان کو چھو جانے کی وجہ سے عام انسان بے حد پریشان ہے اور بھینڈی فی کیلو 60 روپئے ، بنیس 70 روپئے اور کیابج 30 روپئے فی کیلو فروخت ہورہے ہیں ایک کیلو ترکاری پر بھی جی ایس ٹی عائد کئے جانے سے عام آدمی کا سر چکرا رہا ہے ۔ روزانہ دیگر مقامات سے شہر کو 120 کنٹل ٹماٹر درآمد کیا جاتا تھا جو اب صرف 20 ۔ 15 کنٹل ہی درآمد کیا جارہا ہے ۔ فی الحال آندھرا پردیش سے ٹماٹر درآمد کیا جارہا ہے جو بے حد ناکافی ہے ۔ ترکاری تاجرین کا کہنا ہے کہ یہی حالت ایک ماہ تک جاری رہے گی ۔ علاوہ ازیں قیمتوں میں مزید اضافہ کا اندیشہ بھی پایا جاتا ہے ۔ ترکاریوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے کی وجہ صارفین خریداری سے گریز کررہے ہیں جس کی وجہ سے ترکاری تاجرین کی تجارت بھی ٹھپ ہوجانے سے بے حد پریشان ہیں ۔ واضح ہو کہ ترکاریوں پر جی ایس ٹی لاگو نہیں ہوتا مگر حمل و نقل ذرائع پر جی یس ٹی لاگو ہونے سے قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور اس طرح دودھ پر بھی جی ایس ٹی لاگو نہیں ہوتا مگر چائے پتی وغیرہ پر جی ایس ٹی لاگو ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہوٹلس میں بھی چائے کی قیمتوں کو بڑھا دیا گیا ہے ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری اس جانب توجہ دے کر عام انسانوں کو بھوک مری سے بچائے ۔

TOPPOPULARRECENT