Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / ترکی اور سعودی عرب کا روس کو انتباہ

ترکی اور سعودی عرب کا روس کو انتباہ

شام میں جاری مہم بدامنی ختم کرنے میں غیرمعاون ، بشارالاسد کی تائید سنگین غلطی
انقرہ ۔ /15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ترکی اور سعودی عرب نے روس کو ملک شام میں مداخلت کے سنگین عواقب و نتائج کا انتباہ دیا ۔ ترکی نے کہا کہ موجودہ اقتدار کی تائید میں مہم اور بمباری روس کی ’’ایک سنگین غلطی ‘‘ہوگی ۔ سعودی عرب اور ترکی دونوں ممالک بھی شام میں اعتدال پسند اپوزیشن کی تائید کررہے ہیں اور روس نے صدر بشارالاسد اقتدار کی حمایت کرتے ہوئے بمباری کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ ترکی کی برہمی اُس وقت مزید بڑھ گئی جب روسی طیاروں نے فضائی حدود کی دو مرتبہ خلاف ورزی کرتے ہوئے شام میں اپنے جیٹ طیاروں کے ذریعہ بمباری کی ۔ واضح رہے کہ ترکی ناٹو کا کلیدی رکن ہے ۔ وزیر خارجہ ترکی فریدون سنیرلوگلو نے انقرہ میں سعودی ہم منصب عادل الجبیر کے ساتھ بات چیت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ روس ایک بڑی غلطی کا ارتکاب کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آخر روس کی کارروائی سے کیا فائدہ ہونے والا ہے ۔ اس کے برعکس موجودہ بدامنی کی کیفیت سے شام کو باہر نکالنے میں مزید تاخیر ہوگی ۔ اس دوران ترکی فوج نے کہا کہ روسی فوج کا ایک وفد آج انقرہ پہونچا جہاں فضائی حدود کی خلاف ورزی کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے بات چیت کی جائے گی ۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ سعودی عرب اور ترکی دونوں شام میں اپوزیشن کی تائید کرے حق میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کا سیاسی حل تلاش کرنا اہمیت رکھتا ہے ۔ اور ہم نے جو معاہدہ کیا ہے اس میں بشارالاسد کا کوئی رول نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ روس کے اعلیٰ عہدیداروں سے حالیہ ملاقات کے دوران بھی سعودی عرب نے واضح کردیا ہے کہ شام کے بحران کو 2002 ء جنیوا سرکاری اعلامیہکے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے جس میں سیاسی تبدیلی کی بات کہی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT