Monday , September 25 2017
Home / دنیا / ترکی سرحدی چوراہے پر دھماکہ، 10 شامی باغی ہلاک

ترکی سرحدی چوراہے پر دھماکہ، 10 شامی باغی ہلاک

شام سے ترکی جانے والی باغی جنگجوؤں کی بس کو نشانہ بناکر حملہ، فضائی حملے جاری
بیروت ۔ 15 اگست (سیاست ڈاٹ کام) شام اور لبنان کے سرحدی چوراہے پر ایک بم دھماکہ سے جو اپوزیشن کے زیرقبضہ صوبہ عدلیب میں ہوا تھا، کم از کم 10 شامی باغی جنگجو ہلاک ہوگئے۔ کارکنوں کے بموجب اس علاقہ میں فضائی حملے جاری ہیں اور شمالی شہر حلب کیلئے حکومت حامی فوجوں اور باغیوں کے درمیان ہولناک جنگ ہورہی ہے۔ شامی رسدگاہ برائے انسانی حقوق لندن کے بموجب ایک خودکش بم بردار نے ایک بس کو حملہ کا نشانہ بنایا جس کے ذریعہ جنگجو آت میں سرحدی چوکی سے سفر کررہے تھے۔ تنظیم نے کہا کہ اس حملہ میں 10 جنگجو ہلاک ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ کے ایک صوبائی کارکن نے کہا کہ بم دھماکہ سے 40 افراد ہلاک ہوگئے۔ اس کارکن نے کہا کہ تقریباً 200 باغی جن کا تعلق مختلف گروہوں سے تھا، آت میں کے قریب مقیم ہیں اور چوراہے سے ہتھیار عدلیب منتقل کرتے ہیں جہاں پر انتہائی قدامت پسند اسلامی شورش پسندوں کا قبضہ ہے۔ ان میں سے ایک گروپ القاعدہ سے بھی الحاق رکھتا ہے۔ شامی رسدگاہ نے قبل ازیں اطلاع دی تھی کہ کل پورے صوبے ہند پر 26 فضائی حملے کئے گئے۔ عدلیب میں شورش پسندوں کے آخری مستحکم گڑھ قائم ہیں۔ شامی رسدگاہ کے صدر رامی عبدالرحمن نے کہا کہ روسی اور سرکاری فضائی حملوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے جب سے کہ عدلیب سے باغیوں نے حکومت سے ترک تعلق اور حلب کے اپوزیشن اضلاع کے محاصرہ کی مہم کا 31 جولائی سے آغاز کیا ہے۔ ان فضائی حملوں میں 122 شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ دیگر 327 شہری بشمول 126 بچے صوبہ حلب میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔ دریں اثناء مقامی رابطہ کمیٹی کے ایک کارکن نے کہا کہ روسی جیٹ طیاروں نے قصبوں جسرالشعور اور دنیش کو حملوں کا نشانہ بنایا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کارکنوں نے طیاروں کی شناخت کرلی ہے یا نہیں۔ حلب کبھی شام کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی دارالحکومت تھا لیکن اب خانہ جنگی کا مرکز بن گیا ہے۔ باغیوں کی مہم کی قیادت انتہائی قدامت پسند گروپ بشمول القاعدہ سے مربوط جیش فتح الاسلام جس کا نام سابق میں النصرۃ کررہا ہے۔ اس کو افرادی طاقت عدلیب سے حاصل ہوتی ہے۔ احرارالشام گروپ کے ترجمان نے توثیق کی کہ تازہ تقررات عدلیب سے کئے جاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT