Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ترکی میں ایمرجنسی کا نفاذ ، صدر اردغان کو لامحدود اختیارات

ترکی میں ایمرجنسی کا نفاذ ، صدر اردغان کو لامحدود اختیارات

انقرہ /21 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے ارکان مقننہ نے ترکی میں تین ماہ کیلئے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اور صدر رجب طیب اردغان کو نئے لامحدود اختیارات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان کی حکومت نے گزشتہ ہفتہ فوجی بغاوت کی کوشش کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔ چنانچہ ترکی میں تین ماہ کیلئے ہنگامی حالت نافذ کرنے اور لامحدود اختیارات عطا کرنے کیلئے صدر اردغان نے پارلیمنٹ سے خواہش کی تھی ۔ اس قرارداد پر پارلیمنٹ میں رائے دہی منعقد کی گئی جس میں قرارداد کی تائید میں 346 اور مخالفت میں 115 ووٹ حاصل ہوئے ۔ صدر اردغان کو لامحدود اختیارات دیتے ہوئے اس بات کا بھی اختیار دیا گیا کہ وہ تین ماہ کیلئے پوری ترکی میں ایمرجنسی نافذ کردیں ۔ مشتبہ افراد کو حراست میں لیں اور احکام جاری کریں جنہیں پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ہی قانونی احکامات سمجھا جائے گا ۔ اس کے علاوہ بھی اردغان کو دیگر کئی اختیارات دیئے گئے ہیں ۔ تاہم مخالفین نے الزام عائد کیا ہے کہ اردغان عامرانہ طرز حکومت اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ مخالفین نے یہ رائے اردغان کی جانب سے ایک ہفتہ طویل کارروائی کے بعد جو صدر نے اپنے مخالفین کے خلاف کی تھی ، ظاہر کی ہے ۔ ان کے مخالفین نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ ترکی جمہوریت کیلئے ایک خطرہ ثابت ہوگا ۔ اردغان نے کہا کہ ایمرجنسی کے بغیر باغیوں کو کچلنے کے اقدامات ناممکن ہیں ۔

ترکی میں تین ماہ کیلئے ہنگامی حالات کا نفاذ
انقرہ ۔ 21 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) گذشتہ ہفتے ترک حکومت کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد صدر رجب طیب اردوغان نے ملک میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ صدر اردوغان نے اس بات کا اعلان انقرہ میں ایک اجلاس کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سے حکام کو بغاوت کے ذمہ داروں کے خلاف تیزی سے کارروائی کرنے میں آسانی ہو گی۔ ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد صدر اردوغان کو پارلیمان کو بائی پاس کرنے اور بعض شہری حقوق معطل کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ تاہم انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ترک شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں گے۔ صدارتی محل میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مسلح افواج سے تمام وائرس صاف کر دیے جائیں گے۔‘ انھوں نے کہاکہ  ہنگامی حالت کے نفاذ کا مقصد اس خطرے کو جلد از جلد ختم کرنا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اس سے جمہوریت، قانون کی سربلندی اور آزادی کی اقدار مضبوط ہوں گی۔‘ صدر نے کہا کہ جن لوگوں کی جانیں ناکام بغاوت میں ضائع ہوئیں، ملک ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ ترک صدر نے کہا کہ دوسرے ملکوں کو ترکی کے معاملات سے پرے رہنا چاہیے۔ ’اس ملک کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔

‘ ادھر جرمن وزیرِ خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر نے ترکی میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے اعلان پر ردِعمل میں کہا ہے کہ ایمرجنسی صرف آخری اقدام کے طور پر لگانی چاہیے تھی اور اسے صرف اتنی مدت تک نافذ رہنا چاہیے جب تک اس کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ترک حکومت پر زور دیا کہ اسے مجرموں کو نشانہ بنانا چاہیے، نہ کہ سیاسی حریفوں کو۔ 99 جرنلس پر فردِ جرم عائد دوسری جانب ترک حکام نے گذشتہ ہفتے حکومت کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کے الزام میں گرفتار کیے گئے 99 جرنلس کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ ترک حکام کے مطابق ملک بھر سے ماہرین تعلیم اور دانشوروں کے بیرونِ ملک جانے پر بھی عارضی طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ جرنلس پر فردِ جرم کا فیصلہ صدر رجب طیب اردوغان کے ان فوجی کمانڈروں کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا گیا جو بغاوت کے دوران ان کے وفادار رہے تھے۔ امید ہے کہ وہ جلد ہی اہم اعلانات کریں۔ ترک صدر رجب طیب اردوغان چہارشنبہ کو قومی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ملک میں استحکام لانے کے منصوبے بھی پیش کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT