Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / ترکی میں بغاوت عوام کی مزاحمت

ترکی میں بغاوت عوام کی مزاحمت

عامر علی خان نیوز ایڈیٹر
ترک فوج کے ایک گروپ نے جو فتح اﷲ دہشت گرد تنظیم سے ربط رکھتا تھا ، 15 جولائی کو ترکی میں بغاوت کی جو ناکام ہوگئی ۔ فتح اﷲ گلین اس دہشت گرد تنظیم کے سربراہ ہیں اور فی الحال امریکہ کی ریاست پنسلوانیہ میں مقیم ہیں۔ اس بغاوت میں 240 انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ ترک عوام نے متفقہ طورپر دیگر سرکاری محکموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اس فوجی بغاوت کی مزاحمت کی ۔

گلین کی تنظیم جسے ’’فیٹو‘‘ کہا جاتا ہے ، فتح اﷲ گلین کی رہنمائی میں سرگرم ہے ۔ فتح اﷲ گلین کو ان کے پیرو مسیحا تصور کرتے ہیں۔ یہ تنظیم 1970 ء کی دہائی میں اُبھری اور تعلیمی خدمات فراہم کرنے والی تحریک بن گئی ۔ فیٹو نے خود کو ایک تعلیم فراہم کرنے والی تحریک کے طورپر فروغ دیا ۔ اس کا ایک مستحکم زیریں ڈھانچہ تھا اور اس کے ارکان خود کو تعلیم اور امن کے رضاکار قرار دیتے تھے اس کے باوجود کہ وہ اپنی حقیقی شناخت پوشیدہ رکھتے تھے اور اہم سرکاری محکموںجیسے فوج ، عدلیہ ، صیانت ، سراغرسانی اور دفتر شاہی میں سرایت کرجاتے اور اپنا مقام بنالیتے ہیں۔ پنسلوانیہ امریکہ کی ایک اہم ریاست ہے اور فتح اﷲ گلین کی تنظیم کے ارکان اپنی شناخت پوشیدہ رکھتے ہوئے اس ریاست کے اہم سرکاری محکموں میں جن کا تذکرہ کیا جاچکا ہے اپنا ایک مقام بنانے میں کامیاب ہیں۔ انھوں نے مختلف شاخیں جیسے بائیں بازو کے حامی ، دائیں بازو کے حامی ، فراخدل سیاسی نظام کے حامی اور مذہبی رجحان رکھنے والوں کی حیثیت اختیار کررکھی ہے ۔اس سے اس تنظیم کے حقیقی مقاصد بے نقاب ہوتے ہیں۔ یہ تنظیم جن ممالک میں سرگرم ہے ، وہاں خود  کو ایک سیاسی پارٹی کے طورپر پیش کیا ہے۔ یہ تنظیم اہم سرکاری محکموں میں نفوذ کرکے وہاں ایک تعلیمی اورثقافتی مرکز کے طورپر کارکرد رہتی یا پھر ماہرین کی ایک تنظیم یا غیرسرکاری تنظیم کے طورپر سرگرم رہتی ہے ۔ اس کا مقصد ان محکموں پر غلبہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ انحراف پر مبنی اپنے مذہبی نظریات جنھیں تنظیم کے ارکان بالکل جائز سمجھتے ہیں ، ہر ایک سے پوشیدہ رکھتے ہیں ۔ وہ دھوکہ دہی کو خود حفاظتی اقدام قرار دیتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول میں مصروف رہتے ہیں ۔ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے سازش کرنا ، سادہ لوح افراد کو اپنے پھندے میں پھانسنا اور اس کیلئے ناجائز طریقے اختیار کرنا بالکل درست سمجھتے ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ ان سرگرمیوں سے برآمد ہونے والے نتائج خود ان سرگرمیوں کا جواز ہوتے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ اپنے عقائد اور افکار کے مطابق ایک نئی دنیا کی تعمیر کریں۔ وہ اپنے سربراہ کو ’’امام عالم‘‘ قرار دیتے ہیں۔ تنظیم کے ارکان کو برسوں تک خفیہ تربیت دی جاتی ہے ۔ مباحث کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح وہ عوام کے نقطۂ نظر سے اپنے اپنے شعبوں میں بے مثال مہارت حاصل کرلیتے ہیں۔ بنیاد پرستی پر ان کا عقیدہ راسخ ہوتا ہے اور وہ خود کو الوہی ’’منتخبہ افراد‘‘ تصور کرتے ہیں۔ وہ ضرورت کے مطابق اپنے عقائد سے متضاد نظریات سے وابستگی بھی ظاہر کرتے ہیں ۔ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے وہ ہرقسم کے جرائم بشمول قتل ( اگر ضروری سمجھیں تو ) کا ارتکاب کرتے ہیں۔

گزشتہ دس سال کے دوران خاص طورپر تنظیم کے ارکان نے اپنے پوشیدہ مقاصد کے حصول کے لئے ججوں ، وکلائے استغاثہ اور صیانتی عہدیداروں کے فرائض ادا کئے ہیں۔ انھوں نے بے شمار فوجیوں ، ملازمین پولیس ، دفتر شاہوں ، صحافیوں ، ماہرین تعلیم کو سزائیں دلوائی ہیں اور اس طرح تمام سرکاری عہدوں پر قابو پالیا ہے ۔
فیٹو نے خود کو اتنا طاقتور تصور کرلیا ہے جو  پورے نظام کو تبدیل کرسکتا ہے ۔ چنانچہ بغاوت کی پہلی کوشش فبروری 2012 ء میں کی ۔ قومی محکمہ سراغ رسانی ہاکن فدان کی کرد مسئلہ کے حل کے لئے اس بغاوت کی کوشش کو جائز قرار دیا گیا ۔ بغاوت کی دوسری کوشش 17 تا 25 ڈسمبر 2013 ء میں کی گئی جبکہ حکومت کے ارکان کو کرپشن کے جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ۔ فیٹو نے اپنے آپ کو امن حامی مذہبی تنظیم کے طورپر پیش کیا اور رواداری اور مذاکرات کے تصورات کا استحصال کیا۔ اس کے باوجود یہ تنظْم ، صیانتی ، عدالتی اور سراغرسانی کے سرکاری محکموں میں سرایت کرکے غیرقانونی سرگرمیوں کے ارتکاب میں ملوث رہی ۔

ناکام بغاوت 15 جولائی کے واقعات
ترک فوج نے 15 جولائی کو اسلحہ جیسے جنگجو جیٹ طیاروں ، دبابوں اور ہیلی کاپٹرس سے مسلح ہوکر حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کی ۔ دبابوں نے شہریوں کو کچل دیا جو بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے سڑکوں پر جمع ہوگئے تھے ۔ فیٹو نے قصر صدارت ، قومی اسمبلی ، پولیس اور دیگر سرکاری عمارتوں پر بمباری کی ۔ اس نے صدر رجب طیب اردوغان کو قتل کرنے کی بھی کوشش کی ۔ انقرہ اور استنبول میں سڑکوں پر جمع ہوکر بغاوت کی مزاحمت کی ۔ بغاوت کی کوشش کے دوران 173 شہری ، 62 ملازمین پولیس اور 5 فوجی ہلاک ہوئے ۔ 1491 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔
اگر بغاوت کامیاب ہوجاتی ، ہزاروں بے قصور افراد کی جانیں ضائع ہوگئی ہوتیں ، جمہوریت اور آزادی کا خاتمہ ہوجاتا ۔ فتح اﷲ گلین کے انحرافی نظریات سے متاثر فوجی آمریت قائم ہوجاتی ۔ اس بغاوت کی بے رحمانہ کوشش کی سماج کے تمام گوشوں کی جانب سے سخت مخالفت کی گئی ۔ سیاسی پارٹیوں ، تجارتی یونینوں ، مہذب سماج کے اداروں ، سے لے کر ذرائع ابلاغ اور کاروباری دنیا نے اس کی مزاحمت کی ۔ اس طرح یہ خونریز بغاوت ناکام بنادی گئی۔ سرکاری محکموں کی سرگرمیاں بڑی حد تک بحال ہوگئیں۔
فیٹو ترکی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لئے خطرہ

فیٹو چاہتی ہے کہ دنیا بھر میں اپنے انحرافی نظریات کی بنیاد پر فوجی آمریت قائم کی جائے ۔ یہ تنظیم اپنے مقاصد کے حصول کے لئے تمام حدود ، اصولوں اور قواعد و ضوابط کی پرواہ نہیں کرتی ۔ 15 جولائی کی بغاوت میں بے قصور غیرمسلح عوام کا قتل عام کرنے کی کوشش کی گئی ۔ یہ تنظیم دفاعی شعبوں میں اپنے قدم جماچکی ہے تاکہ ایک غیرسرکاری تنظیم کی حیثیت میں یا مذہبی تحریک کی حیثیت سے کسی قسم کا اندیشہ نہ ہو ۔ مذاکرات اور امن کے لئے اُٹھنے والی آوازوں کو خاموش کردیا جائے ۔ اس تنظیم کی بنیاد اس کی برسوں کی تربیت اور ٹیکنیکس پر ہے جو تنظیم کے ارکان کو دی جاتی ہے ۔ وہ اپنی شناخت کامیابی سے پوشیدہ رکھتے ہیں اور دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ وہ اپنی تمام کارستانیوں کی تردید کرتے ہیں۔ اپنے انحرافی مذہبی عقائد کی بنا پر اور خفیہ ایجنڈہ کی وجہ سے تنظیم اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہرجرم کا ارتکاب او ہر ذریعہ کا استحصال کرتی ہے ۔ یہ تنظیم ان تمام ممالک کی حکومتوں کے لئے اور پورے عالم انسانیت کیلئے جہاں وہ سرگرم ہیں ، ایک عظیم خطرہ ہے ۔

پورے عالم انسانیت کو مشترکہ طورپر فیٹو ، دولت اسلامیہ ، اور بوکو حرم جیسی تنظیموں کے خلاف جنگ کرنی چاہے جو مذہب کی تاویل اپنے انحرافی نظریات کے مطابق کرتے ہیں ۔ ہم اس جنگ میں عوام کی اس شریفانہ مزاحمت کو اور اس کی بیرون ملک مقیم شہریوں ، اپنے اعزاء ، رشتہ داروں ، تمام بین الاقوامی تنظیموں اور دنیا بھر کے عوام کی تائید کو کبھی نہیں بھول سکتے جو جمہوریت ، قومیت ، انسانی حقوق اور آزادیوں کا احترام کرتے ہیں۔
اس غیرانسانی خونریز بغاوت کی عالمگیر سطح پر مذمت کی جانی چاہئے ۔ ترکی کے شہید شہریوں ، ملازمین پولیس اور فوجیوں کو اپنی جوار راحمت میں جگہ دینے کی خدائے تعالیٰ سے دعا اور زخمیوں کی  عاجلانہ صحتیابی کی تمنا کرنی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT