Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / ترکی میں رجب طیب اردغان کی پارٹی کامیاب

ترکی میں رجب طیب اردغان کی پارٹی کامیاب

Turkey's President Recep Tayyip Erdogan casts his vote at a polling station, in Istanbul, Sunday, Nov. 1, 2015. Turkey holds a parliamentary election Sunday, a redo of the June election in which the Justice and Development Party, or AKP, lost its majority after 13 years of single-party rule. The key question is whether the ruling party gets enough seats for an outright majority in parliament or whether they have to form a coalition with one or more other parties in order to govern. (AP Photo/Hussein Malla)

انتخابی نتائج میں واضح اکثریت ، ہمارے لئے انکساری کا دن ہے :احمد دعوت گلو
انقرہ ۔ یکم ، نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ترکی میں طویل عرصہ سے برسراقتدار جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پی ) نے پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ ملک کے حالیہ عرصہ کے دوران انتہائی اہم ترین تصور کئے جانے والے انتخابات کے نتائج سامنے آگئے اور وزیراعظم احمد دعوت گلو نے اپنی پارٹی کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری ٹی آر ٹی ٹیلی ویژن کے مطابق 97 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی پوری ہوچکی ہے اور حکمراں اے کے پی نے 49 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں ۔ اس طرح اسے اکثریت حاصل ہوچکی ہے ۔ وزیراعظم دعوت گلو نے آبائی ٹاؤن کونیا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن کامیابی کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے انکساری کا دن ہے ۔ پارٹی کے انقرہ اور استنبول میں واقع ہیڈکوارٹرس پر حامیوں کی کثیر تعداد نے کامیابی کا جشن منایا ۔ استنبول میں صدر رجب طیب اردغان کی رہائش گاہ کے باہر بھی حامیوں کی کثیر تعداد جمع ہوگئی تھی اور وہ ’’ ترکی کو تم پر فخر ہے ‘‘ کے نعرے لگارہے تھے ۔

اوپنین پولس میں جون میں منعقدہ انتخابات کے اعادہ کی پیش قیاسی کی جارہی تھی ۔ اس وقت کے انتخابات میں اے کے پی کو صرف 40 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے اور 13 سال میں پہلی مرتبہ وہ اکثریت سے محروم رہی ۔ اس کے بعد مخلوط حکومت کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور پھر دوبارہ ملک میں انتخابات کا انعقاد کرنا پڑا ۔ یہ مرحلہ ایسے وقت پیش آیا جبکہ ملک نازک دور سے گزررہا ہے ۔ اوپینین پول میںپیش قیاسی کی گئی تھی کہ مسلم غالب آبادی والے ملک میں مزید عدم استحکام کا خطرہ ہے کیونکہ اُسے پہلی بار بعض مبصرین نے انتباہ دیا ہے کہ حکومت کی بقاء کو خطرہ لاحق ہے ۔ ترکوں کو خوف ہے کہ ممنوعہ کردستان ورکرس پارٹی کے باغی ایک بار پھر اپنی پُرتشدد تحریک کا احیاء کریں گے جو جولائی 2013ء میں معاہدہ صلح کے بعد ختم ہوگئی تھی ۔ کردوں کی پارٹی نے پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار نشستیں حاصل کی تھیں ۔ انقرہ کے امن جلوس کے دوران خودکش حملوں میں 102افراد ہلاک ہوگئے تھے اور یہ ملک کی جدید تاریخ کابدترین سانحہ تھا ۔

TOPPOPULARRECENT