Sunday , April 23 2017
Home / Top Stories / ترکی میں ریفرنڈم، صدر طیب اردغان کامیاب

ترکی میں ریفرنڈم، صدر طیب اردغان کامیاب

ISTAMBUL, APR 16 :- Turkish President Tayyip Erdogan casts his ballot at a polling station during a referendum in Istanbul, Turkey, April 16, 2017. REUTERS-14R

ملک کے دستور میں تبدیلی اور صدر کو زائد اختیارات کی راہ ہموار، سیاسی حالات میں غیر معمولی تبدیلی

استنبول۔16اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) ترکی میں صدر رجب طیب اردغان کو اختیارات میں اضافے کے لیے استصواب عامہ کا عمل پورا ہوگیا اور رائے دہی کے ابتدائی نتائج ان کے حق میں ظاہر ہوئے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی انادلو نے ابتدائی نتائج کے حوالے سے بتایا کہ 52.1 فیصد نے اردغان کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 47.9 فیصد ووٹ نفی میں ڈالے گئے۔ ایجنسی نے بیالٹ باکسس کی 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اس نتیجہ کا اعلان کیا۔ ریفرنڈم کے لیے حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے مابین سخت مقابلہ درپیش تھا اور ملک کے بیشتر حصوں میں زبردست مہم بھی چلائی جارہی تھی۔ ایک مرحلہ پر ریفرنڈم کی نفی میں ڈالے گئے ووٹ کا فیصد کسی قدر بڑھ گیا لیکن جلد ہی نتیجہ پھر رجب طیب اردغان کے حق میں ہوگیا۔ ترکی میں دستوری تبدیلی کے لیے 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ صدر ترکی رجب طیب اردغان کے اختیارات میں لامحدود اضافہ ہوسکتا ہے اور آئندہ وہ ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرسکیں گے ۔ قبل ازیں انتہائی تلخ لب لہجہ والی انتخابی مہم چلائی گئی تھی ۔ پانچ کروڑ 53 لاکھ ترک رائے دہندے اس رائے دہی میں حصہ لینے کے اہل ہیں ۔ مراکز رائے دہی پر دیاربکر اور دیگر شہروں میں 9:30بجے دن رائے دہی کا آغاز ہوگیا ۔ اخباری نمائندوں کے بموجب استنبول ‘ انقرہ اور دیگر شہروں میں رائے دہی کا آغازایک گھنٹہ تاخیر سے ہوا ۔

قبل ازیں جو سروے کرائے گئے ہیں ان میں ترکی کو خبردار کیا گیا ہے کہ تجزیہ نگاروں کی پیش قیاسی کے بموجب اس رائے دہی کے نتیجہ پر ملک کے سیاسی مستقبل کا انحصار ہے ۔ حریف پارٹیوں نے انتخابی مہم کے آخری لمحہ تک عام جلسے اور جلوس جاری رکھے تاکہ ان رائے دہندوں کو ترغیب دے سکے جنہوں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیاہے ۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے پورے اعتماد کے پیش قیاسی کی ہے کہ انہیں کامیابی حاصل ہوگی ۔ تاہم انہوں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ رائے دہی کے دوران دھمکیوں کے آگے ہتھیار نہ ڈال دیں بلکہ رائے دہی میں ان کی تائید کریں ۔ رجب طیب اردغان نے کہا کہ زیادہ سبقت حاصل کرنے پر مغربی ممالک کو سبق حاصل ہوجائے گا ۔ نومبر 2019ء کے انتخابات کے بعد یہ نظام نافذ العمل ہوجائے گا لیکن اس استصواب عامہ کے ذریعہ ناٹو کا رکن ہونے کے بارے میں بھی فیصلہ حاصل ہوجائے گا ۔ گذشتہ 50سال سے یوروپی یونین میں شمولیت کا مسئلہ بھی اس استصواب عامہ کے ذریعہ طئے ہوسکتا ہے ۔ اردغان نے یوروپی یونین کو انتباہ دیا ہے کہ اگر ان کی تائید میں ووٹ حاصل ہوجائے تو وہ پارلیمنٹ کے اتفاق رائے سے سزائے موت کا احیاء بھی کرسکیں گے ۔ اس اقدام کے ذریعہ یوروپی یونین میں شمولیت کی ترکی کی کوشش خودبخود ختم ہوجائے گی ۔ مغربی ممالک میں استصواب عامہ کے نتیجہ کو اہم قرار دیا ہے اور ترکی کے حریف ممالک نے 15جولائی کی ناکام بغاوت کے ساتھ اپنی تائید وابستہ کی تھی جو ناکام ہوگئی۔
یہ استصواب عامہ ترکی کی تاریخ کا ایک نیا موڑ بھی ثابت ہوگا اور ترکی سیاسی موڑ بھی لے سکتا ہے ۔ روزنامہ ’’ حُریت‘‘ کے چیف ایڈیٹر مورت یکین نے کہا کہ اپوزیشن نے استصواب عامہ کو نامنصفانہ بنیادوں پر منعقد کرنے کاالزام عائد کیا ہے جس کے نتیجہ میں ذرائع ابلاغ کی آزادی تقریر کے سلب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT