Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / ترکی میں عوامی طاقت

ترکی میں عوامی طاقت

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کا سرغنہ کون تھا ، اس کی جانچ کے دوران صدر رجب طیب اردغان نے پولیس میں بڑے پیمانے پر باغیوں کا پتہ چلانے کی منظم مہم شروع کی ہے۔ ترکی میں باغیانہ سرگرمیاں داخلی طور پر یا خارجی سازشوں کا حصہ ہوسکتی ہیں۔ فی الحال ترک فضائیہ کے سابق کمانڈر جنرل رکن اوز ترک اور دیگر 26 اعلیٰ فوجی عہدیداروں کے خلاف بغاوت کے الزامات ہیں۔ فوج کے اندر بغاوت کا رجحان پیدا کرنے والا کون ہے، اس کا پتہ چلانے کی کوشش کے ساتھ گولن تحریک کی جانب اٹھنے والی شبہ کی اُنگلیوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچیکہ فتح اللہ گولن نے اس بغاوت میں خود کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ سچائی کیا ہے، اس کا پتہ چل ہی جائے گا۔ 12 فوجی جنرلوں اور ایڈمرلوں کو حراست میں لیا گیا ہے تو جنرل اوزترک بھی گرفتار افراد میں شامل ہیں اور ان کے منصوبے کے تعلق سے تحقیقات ہوتی ہے تو ترکی میں داخلی طور پر فروغ پانے والی باغیانہ سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ضرور حاصل ہوں گی۔

عدلیہ اور فوج سے تعلق رکھنے والے 6,000 افراد کو جیل میں رکھ کر رجب طیب اردغان ملک کے مستقبل کو فروغ دینے اور مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے ساتھ عوام کی جرأت اور شجاعت کی وجہ سے بچ جانے والی ان کی حکومت بھی آئندہ مستحکم ہوگی۔ عالمی سطح پر مغربی اتحاد کے گروپ نیٹو کے قابل قدر اتحادی کے طور پر ترکی نے جمہوریت کا احترام کرتے ہوئے عوام کے حق میں بہتر کام انجام دیئے ہیں۔ حکومت کا تختہ اُلٹنے کی ناکام کوشش کے بعد حکومت کو اس ناکام بغاوت کے تناظر میں یہ سبق حاصل ہونا چاہئے کہ سرکاری نظم و نسق کو ہرگز ڈھیل نہیں دی جاسکتی۔ باغیانہ سرگرمیوں کو ہوا دی جائے تو اس کے نتائج ملک کی اقتصادی اور سماجی زندگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ امریکہ میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن پر حکومت ترکی کو کڑی نظر رکھنے کا موقع ملا ہے۔ صدر رجب طیب اردغان کا الزام ہے کہ فتح اللہ گولن اپنے منصوبے کے مطابق ترکی میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس تناظر میں امریکہ پر شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس نے ترکی میں حکومت کا تختہ الُٹنے کی ناکام کوشش میں خفیہ رول ادا کیا ہے۔ اگرچیکہ اس تعلق سے جن گوشوں نے دعویٰ کیا ہے ان کے دعوؤں کو سراسر درست جان کر دونوں ملکوں کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش بھی نہیں کی جانی چاہئے۔ ترکی میں جمہوریت کے حق میں شہریوں کے اندر جوش و خروش پایا جاتا ہے۔

عوام کی اس بھرپور حمایت کے بعد ہی حکومت کی بقاء یقینی ہوئی ہے تو حکمراں طبقہ کو اپنے ملک کے عوام کی فلاح و بہبود میں کوئی کسر باقی نہیں رکھنی چاہئے۔ جمہوریت کے حق میں جاری ریالیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ترکی کے عوام موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے مطمئن ہیں۔ عالمی برادری نے بھی ترکی میں جمہوریت کے استحکام کے حق میں حمایت کی ہے۔ ترکی کو یوروپی یونین میں شامل کرنے کی برسوں کی کوشش کے درمیان اب یوروپی یونین نے جمہوری حکومت کی حمایت کو مزید مضبوط بنایا ہے تو یوروپی یونین کے سربراہوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ملک کو رکنیت دینے کے معاملے میں کوتاہی نہ کریں۔ ترکی کے عوام نے بغاوت کی کوشش کو ناکام بنانے میں اپنا  مؤثر رول ادا کیا ہے تو اس سے ساری دنیا کے جمہوریت پسند عوام میں بھی مضبوط حوصلے کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ اب ترکی میں سزائے موت کی بحالی کا مسئلہ زیربحث ہے۔ ایک جمہوری ملک میں سخت قوانین کے مسئلہ پر بحث نئی نہیں ہے۔ اب جبکہ عوام کی بھاری حمایت کی وجہ سے رجب طیب اردغان حکومت پہلے سے زیادہ طاقتور ہوئی ہے تو سخت ترین قوانین جیسے سزائے موت کی بحالی کیلئے بھی عوام کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہئے لیکن سزائے موت کا قانون بعض ملکوں خاص کر یوروپی یونین میں ناپسند کیا جاتا ہے۔ اگر ترکی نے اس قانون کو بحال کیا تو یوروپی یونین میں اس کی شمولیت کا راستہ بند ہوسکتا ہے۔ یوروپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے بعد اس گروپ کی افادیت بھی ترکی کے پیش نظر ہونی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT