Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ترکی میں 6 ہزار باغی بشمول فوجی جنرلس گرفتار

ترکی میں 6 ہزار باغی بشمول فوجی جنرلس گرفتار

فتح اللہ گلین کیخلاف بھی کارروائی ہوگی ، اردغان کا تیقن ، مہلوکین کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک
استنبول۔ 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ترکی میں صدر رجب طیب اردغان کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد مشتبہ فوجیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر حکام نے کارروائی شروع کردی ہے اور تقریباً 6,000 افراد بشمول فوجی جنرلس کو حراست میں لے لیا گیا۔ بین الاقوامی برادری نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ عالمی قائدین بشمول صدر امریکہ بارک اوباما نے جہاں فوجی بغاوت کی سختی سے مذمت کی، وہیں ترکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے قانون کا احترام کرے، بالخصوص ایسی تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد جس میں گرفتار فوجیوں کے ساتھ ناروا سلوک دکھایا گیا۔
وزیر انصاف بکیر بوزداگھ نے کہا کہ تقریباً 6,000 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور اس تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حکومت کو ایسے عناصر سے پاک و صاف کیا جائے گا۔ دوسری طرف آج انقرہ اور استنبول میں مہلوکین کی نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیا جس میں عوام کی کثیر تعداد شریک تھی۔ مہلوکین کے عزیز و اقارب اور عوام نے انہیں بھرپور خراج پیش کیا اور کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کیلئے انہوں نے جان دی۔ اس کے علاوہ ترکی کی تقریباً 85,000 مساجد میں غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیا۔ وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ 161 موافق حکومت فورسیس اور شہری ہلاک ہوئے جبکہ ایک فوجی جنرل نے بتایا کہ بغاوت کرنے والے 104 منصوبہ ساز ہلاک ہوئے۔ مہلوکین میں رجب طیب اردغان کے تشہیری مینیجر ایرول اولکاک اور ان کے 16 سالہ فرزند عبداللہ بھی شامل ہیں۔ فوج نے احتجاجیوں پر فائرنگ کردی تھی۔

اس کے علاوہ اردغان کے مشیر اعلیٰ کے بڑے بھائی بھی ہلاک ہوگئے۔ اردغان نے استنبول کی مسجد میں ان کے ساتھ جملہ پانچ مہلوکین کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ سابق صدر عبداللہ گل بھی اس موقع پر شریک تھے۔ اردغان نے غم زدہ عوام کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں موجود عالم دین فتح اللہ گلین کے حامی تمام اداروں کے خلاف کارروائی کا تیقن دیا کیونکہ فتح اللہ گلین کو ہی اس بغاوت کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سے گلین کی حوالگی کیلئے درخواست کی جائے گی جبکہ فتح اللہ گلین نے بغاوت میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ عوام نے اس موقع پر ’’گلین واپس آؤ ، ہم تمہیں سبق سکھائیں گے، اللہ اکبر ‘‘ کے نعرے لگائے۔ اس دوران ترکی نے ان 8 افراد کی حوالگی کا بھی مطالبہ کیا جو بغاوت میں ملوث تھے اور بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ یونان فرار ہوگئے۔ ترکی کے عہدیدار نے کہا کہ مشتبہ افراد اب بھی یونان میں ہیں اور یہ ہیلی کاپٹر ترکی واپس بھیجا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT