Sunday , May 28 2017
Home / اداریہ / ترکی کے منصوبے

ترکی کے منصوبے

گو اضطرابِ شوق نے سب کچھ دیا مجھے
کچھ اور بھی تو چاہئے اس کے سوا مجھے
ترکی کے منصوبے
صدر ترکی رجب طیب اردغان گزشتہ سال جولائی میں فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کے بعد اپنے اختیارات میں وسعت اور اقتدار کو مستحکم بنانے کے لیے 16 اپریل کو ریفرنڈم کرانے والے ہیں۔ ترکی کے پڑوسی ملکوں کو اس ریفرنڈم پر اعتراض کس لیے ہے یہ یوروپی یونین کے بعض ممالک کے موقف سے ہی واضح ہوتا ہے خاص کر جرمنی اور نیدرلینڈ کی حکومتیں رجب طیب اردغان کو طاقتور ہونے سے روکنا چاہتی ہیں؟ جرمنی ا ور نیدرلینڈ میں ترک باشندوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ ان ملکوں میں صدر ترکی کے حق میں نکالی جانے والی ریالیوں کو روک کر جرمنی اور نیدرلینڈ کی قیادت نے اپنی متعصب ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔ صدر رجب طیب اردغان نے جرمنی کی اس حرکت کو نازیوں کے عمل سے تعبیر کیا۔ گزشتہ سال برطانیہ نے یوروپی یونین سے علیحدہ ہونے کے لیے بھی ریفرنڈم کروایا تھا جس میں برطانوی عوام نے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ مگر یہاں ترکی میں معاملہ اختیارات اور استحکام کا ہے۔ صدر ترکی کو اپنے ملک کے عوام کی ترقی اور خوشحالی و امن کے لیے کئی ایک اقدامات کرتے ہوئے مقبولیت حاصل ہے۔ ترکی کے علاوہ اس کے پڑوسی ملکوں میں مقیم ترک باشندوں کی آراء حاصل کرنے کی کوشش حکومت ترکی کا اختیار ہے۔ جرمنی اور ترکی کے درمیان دوستی میں دراڑ اور سفارتی کشیدگی کی اصل وجہ ترکی کی قیادت کو مزید اختیارات حاصل ہونے سے روکنا ہے۔ سکیورٹی وجوہات کا بہانہ بناکر اب تک جرمنی کے حکام نے رجب طیب اردغان کی حمایت میں نکالی گئی ریالیوں کو روک دیا ہے اس سے ترکی کے قائدین کی برہمی جائز ہے کیوں کہ ترکی کے ساتھ جرمنی ایک طرف خوشگوار تعلقات کا متمنی ہے دوسری طرف سرکاری سرپرستی والی ریالیوں کو روک رہا ہے۔ اس طرح کے دوہرے معیارات سے ان ملکوں میں باہمی سرحدی مسائل مزید نازک ہوں گے۔ ترکی نے اب تک عالمی سطح پر ان تمام ملکوں کا ساتھ دیا ہے جو امن کی کوششوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی اور تارکین وطن کے بشمول ترکی کے ساتھ جرمن اپنی سرحدوں کا مسئلہ بھی رکھتا ہے اس لیے اسے ایک متوازن موقف رکھنا ضروری ہے۔ لیکن ان ملکوں میں اردغان کے خلاف گروپ بنانے والوں کو خوف ہے کہ اگر رجب طیب اردغان نے نئے اختیارات حاصل کئے تو ترکی کو اس خطہ کا ایک طاقتور ملک بنانے میں اہم رول ادا کریں گے۔ اگزیکٹیو آرڈر کے ذریعہ آزادانہ حکمرانی کا اختیار حاصل ہوجائے تو ترکی آگے چل کر دیگر ممالک کو خاص کر جرمنی، نیدر لینڈ، ڈنمارک کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ اس گروپ کے مخالف ترکی ذہنیت رکھنے والوں کو صدر رجب طیب اردغان کے پاس واضح اور ٹھوس جواب بھی ہے۔ ترکی نے اب تک کردش باغیوں، انتہاپسندوں اور دیگر سیاسی دشمنوں کا موثر سامنا کیا ہے۔ ترکی بھی حالیہ سیاسی تاریخ میں ایک غیر مستحکم مخلوط حکومت کی وجہ سے جو نقصانات ہوئے تھے اس کی تلافی کرتے ہوئے صدر رجب طیب اردغان نے ترکی کو ایک مستحکم مملکت دی ہے۔ یوروپی یونین کے رکن ممالک ترکی کو رکنیت دینے میں اس لیے پس و پیش ہے کہ یہ ملک اس یونین پر حاوی ہوجائے گا جو ملک اب تک جمہوریت کا درس دیتے نہیں تھکتے تھے اب ترکی کے ریفرنڈم مسئلہ پر غیر جمہوری رویہ اختیار کررہے ہیں۔ تو ان کی اس دوہری پالیسی کا موثر جواب ترکی کے عوام کو دینا ہوگا۔ ترکی کے عوام کو اپنے صدر کے لیے نئے اختیارات دینے اور نئے اصلاحات لاکر ایک مستحکم حکومت قائم کرنے میں بھرپور تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ جن پڑوسی ملکوں کو اس ریفرنڈم پر اعتراض ہے وہ نہیں چاہتے کہ ان کے پڑوس میں ایک کامل اختیارات والی حکومت ہو۔ صدر رجب طیب ا ردغان اپنے نئے سسٹم کے ذریعہ بعض اختیارات کو قوی بنانا چاہتے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے جبکہ فرانس اور امریکہ میں بھی حکمراں طبقہ کو کامل اختیارات حاصل ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT