Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ترکی گذشتہ سال کی بغاوت کے صدمہ سے ہنوز باہر نہیں نکلا

ترکی گذشتہ سال کی بغاوت کے صدمہ سے ہنوز باہر نہیں نکلا

ترک قونصل خانہ میں ناکام بغاوت کے شہیدوں کی یاد میں اجلاس ۔ قونصل جنرل کا خطاب
حیدرآباد 15 جولائی ( سیاست نیوز ) ترکی میں گذشتہ سال ہوئی ناکام فوجی بغاوت کے شہیدوں کی یاد میں آج ترک قونصل خانہ کی جانب سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا ۔ اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس میں اہم شخصیتوں نے شرکت کی ۔ شہیدوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی منائی گئی ۔ ترک قونصل نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا اجلاس ان کے ملک کی سلامتی کو درپیش خطرہ اور صدمہ سے اوپر اٹھنے کیلئے منعقد کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور اس کے عوام ابھی تک اس صدمہ سے باہر نہیں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال 15 جولائی کو جب پہلی مرتبہ انقرہ اور استنبول کے آسمانوں میں لڑاکا جیٹ طیاروں کو پرواز کرتے دیکھا گیا تو یہ محسوس ہوگیا تھا کہ یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ در اصل فوجی بغاوت سے بھی بڑی کوشش تھی ۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ یہ کارستانی در اصل فتح اللہ گیولن کے حامیوں نے کی تھی جو امریکہ میں روپوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ کیا گیا اسے باضابطہ فوجی بغاوت کا نام بھی نہیں دیا جاسکتا ۔ اس کیلئے کسی مناسب لفظ کا انتخاب بھی آسان نہیں ہے کیونکہ یہ کارروائی انتہائی بہیمانہ تھی اور یہ ملک سے بغاوت تھی ۔ ایسی کوشش کرنے والوں نے ہلاکت خیز کارروائیاں معصوم شہریوں کے خلاف بھی کی تھیں جو اپنے جمہوری اداروں کے تحفظ کیلئے سڑکوں پر اتر آئے تھے ۔ اجلاس میں تھیٹر آرٹسٹ محمد علی بیگ، کانگریس لیڈر محمد خلیق الرحمن، نظام سابع کے پڑپوتے مرزا محب بیگ، صدر آئی آر ای ایف عمران، جناب عامر علی خان نیوزایڈیٹر سیاست، اجئے رمیدی، مرزا فیروز بیگ اور میر نثار علی خان نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT