Monday , May 29 2017
Home / Top Stories / ترک خاتون فوجی اہلکاروں کے حجاب پہننے پر امتناع برخاست

ترک خاتون فوجی اہلکاروں کے حجاب پہننے پر امتناع برخاست

وزارت ِ دفاع کا حکم نامہ ، حجاب کا رنگ فوجی یونیفارم سے مماثل ہونے کا لزوم
استنبول۔ 22 فروری (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ عالمی سطح پر مسلم خواتین کے اسکارف کو نشانہ بنایا جارہا ہے، خصوصی طور پر امریکہ میں نئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے فوری بعد ایسے کئی واقعات رونما ہوئے تھے، جن سے مسلم دنیا کو یہ اشارے ملنے لگے تھے کہ امریکہ میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے تاہم حیرت اس بات پر تھی کہ مسلم اکثریتی ملک ترکی میں فوج میں برسرکار خاتون اہلکاروں کے اسکارف پہننے پر بھی امتناع عائد تھا۔ ترکی کو ہندوستان کی طرح ایک سیکولر ملک ہونے کا اعزاز حاصل ہے جہاں تمام مذاہب کا احترام کیا جاتا ہے، تاہم اکثریت اسلام کے پیرو کاروں کی ہے۔ بہرحال ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق وزارت دفاع کی جانب سے جو حکم نامہ جاری ہوا ہے۔ اس نے ترکی کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک کے لئے بھی ایک مثبت پیغام کا کام کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس حکم کا اطلاق فوج میں برسرکار خاتون اہلکاروں پر ہوگا جو اسکارف کا استعمال کرتی ہیں جنہیں ’’جنرل اسٹاف‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کمانڈ ہیڈکوارٹرس اور دیگر شاخوں میں برسرکار خاتون اہلکاروں پر بھی اس کا اطلاق ہوگا۔ حکم نامہ کے مطابق خاتون فوجی اہلکار اپنے یونیفارم کے حصہ کے طور پر پہنی جانے والی ٹوپی کے نیچے اسکارف پہن سکتی ہیں تاہم اُن کا اسکارف کا رنگ ان کے یونیفارم کے رنگ سے مماثل ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں خاتون اہلکاروں کو اسکارف سے اپنا منہ ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزارت دفاع کے حکم نامہ کے مطابق اس پر عمل آوری سرکاری گزٹ میں اس حکم نامہ کی اشاعت کے بعد ہوگی، تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا اسکارف پہننے کی اجازت جنگجو خواتین پر بھی ہوگا یا صرف خاتون کیڈیٹس کے لئے ہی یہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (AKP) جس کے معاون بانیوں میں صدر رجب طیب اُردغان بھی ہیں،

نے عرصہ دراز سے اپیل کا سلسلہ جاری رکھا تھا کہ خواتین کے اسکارف پہننے پر امتناع سے دستبرداری اختیار کی جائے۔ 2010ء میں ترکی نے یونیورسٹی کیمپس میں خواتین کے ذریعہ استعمال کئے جانے والے اسکارف جسے ’’حجاب‘‘ کہا جاتا ہے، پر امتناع ختم کردیا تھا۔ 2014ء میں ہائی اسکول طالبات کے حجاب پہننے پر عائد امتناع بھی ختم کردیا گیا تھا جبکہ تازہ ترین اہم اصلاحات کے طور پر ترکی نے محکمہ پولیس میں برسرکار خاتون پولیس اہلکاروں کو بھی اسلامی اسکارف (جاب) پہننے کی اجازت دی ہے جس کا آغاز گزشتہ سال اگست سے ہوا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اُردغان کے ناقدین نے ان پر ہمیشہ یہ کہہ کر تنقیدیں کی تھیں کہ 1923ء میں ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے سیکولر نظریات کو اُردغان نقصان پہنچا رہے ہیں تاہم اردغان نے ہمیشہ یہی کہا کہ ترکی میں ہر مذہب کے ماننے والے کو پوری پوری آزادی ہے۔ ترکی کی فوج کو ہمیشہ سے ہی سیکولر نظریات کا سرچشمہ کہا جاتا رہا ہے اور کٹر اسلام پسندی کی ہمیشہ حوصلہ شکنی ہوئی ہے، کیونکہ ہندوستان کی طرح ملک کا کوئی مخصوص مذہب نہیں ہے بلکہ ہر مذہب کے پیرو کاروں کے لئے ملک میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ دوسری طرف داعش کے ابھرنے کے بعد ترکی کو بھی دہشت گردی کے متعدد واقعات کا سامنا کرنا پڑا اور اب ترکی نے یہ بیان بھی دیا ہے کہ ملک میں اب بھی دولت اسلامیہ کے زائد از 100 جنگجو کہیں نہ کہیں پناہ لئے ہوئے ہیں اور شاید ’’مناسب وقت‘‘ کے انتظار میں ہیں کہ آئندہ حملہ کب کیا جائے۔ وزیر دفاع فکری اسحیق نے کہا کہ الیاب مستقر کا تقریباً نصف حصہ اب ترک فوجوں کے قبضہ میں ہے۔ رجب طیب اُردغان کو اس وقت ایک ’’مقبول ترین اسلامی قائد‘‘ کا موقف حاصل ہے جہاں حال ہی میں انہوں نے عمرہ کی ادائیگی کے بعد ترک عوام کی خوشحالی اور دنیا سے جنگ و جدال کے خاتمہ کی دُعا کی تھی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT