Sunday , May 28 2017
Home / مذہبی صفحہ / ترک دنیا و ترک لذات کا دوسرا نام تصوف

ترک دنیا و ترک لذات کا دوسرا نام تصوف

… گزشتہ سے پیوستہ …
قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَذَرُواْ ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَه  (۶:۱۲۰)
ظاہری گناہ اور باطنی گناہ سب چھوڑدو۔
تفسیر خازن میں اس کی تفسیر یوں لکھی ہے :
المراد بظاہر الاثم افعال الجوارح و باطنہ افعال القلب
ظاہری گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو اعضاء و جوارح سے ہوتے ہیں ، مثلاً چوری ، زنا ، جھوٹ ، غیبت وغیرہ اور باطنی گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو دل اور قلب سے ہوتے ہیں ۔ مثلاً بغض و حسد ، حرص و طمع ، کبر و نخوت وغیرہ ۔
مجاہدؒ نے بھی اس کی تفسیر یوں کی ہے :
ظاھر ما یعملہ الانسان بالجوارح من الذنوب و باطنہ ماینویہ و یقصدہ بقلبہ ۔ (معالم التنزل : محی السنۃ بغوی)
گناہ کی اس تقسیم سے ظاہر ہے کہ گناہ جس طرح اعضاء و جوارح سے ہوتے ہیں اسی طرح قلب سے بھی ہوتے ہیں ۔ ظاہری معصیت کی اصلاح کے لئے فقہ ہے اور باطنی معصیت کی اصلاح کے لئے تصوف ہے اسی لئے بعض حضرات نے تصوف کو فقہ باطن بھی کہا ہے ۔
حضرت حسن بصریؒ فرمایا کرتے تھے : ہم نے تصوف کا علم  قیل و قال کے ذریعہ حاصل نہیں کیا بلکہ دنیا اور اس کی لذتوں کو    ترک کرنے سے حاصل کیا ہے ۔
یہ ترک دنیا اور ترک لذات ہی تو زہد ہے جس کا دوسرا نام تصوف ہے ۔ اسلام میں ترک دنیا کا تصور یہ نہیں ہے کہ آدمی لنگوٹی باندھ لے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جنگل کی راہ لے ۔ بلکہ زہد کا تصورِ اسلام یہ ہے کہ انسان دنیا میں رہ کر سارے معاشرتی تعلقات رکھتے ہوئے نفس کی شہوات اور لذات کو ترک کردے ۔ گویا
درمیان قعر دریا تختہ بندم کردیٔ
بازمی گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
اس نظریہ کی تائید حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اس دعا سے بھی ہوتی ہے جو آپؓ اکثر کیا کرتے تھے ۔ بڑی پیاری دعا ہے ، اسے آپ بھی اپنے معمولات میں شامل کرلیں۔
دعائے صدیق ؓ
اللھم ابسط لی الدنیا و زھدنی عنھا
یااﷲ ! دنیا میرے لئے کشادہ کردے اور پھر مجھے اس سے بچا کے رکھ ۔
سبحان اﷲ ! کیسی معنیٰ خیز دعا ہے ۔ آمین آمین اللھم آمین ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT