Sunday , April 23 2017
Home / Top Stories / تشدد کے بعد بھدرک میں کرفیو کا نفاذ

تشدد کے بعد بھدرک میں کرفیو کا نفاذ

بھدرک( آڑیسہ) سوشیل میڈیا پر بھگوان رام او رسیتا پر مبینہ توہین آمیز تبصرے کے بھدرک میں پیدا کشیدہ صورتحال کو ختم کرنے کے لئے شروع کی گئی بات چیت کی ناکامی کے بعدکچھ علاقوں میں تشدد کے تازہ واقعات پیش ائے جس کے فوری بعد یہاں پر کرفیوکا نفاذ عمل میں لایاگیا ہے۔

بھدرک سپریڈنٹ آف پولیس دلیپ داس نے کہاکہ ’’ شہر کے مختلف علاقوں میں تشدد کے تازہ واقعات پیش آئے ہیں‘ انتظامیہ نے یہاں پرکرفیو نافذ کردیاتاکہ حالات پرقابو پایاجاسکے‘‘۔

کل شہر میں وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب سوشیل میڈیا پر بھگوان رام او رسیتا کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کیاگیا‘ انتظامیہ نے آج پیس کمیٹی کا اجلاس طلب کیاتھا‘ تاکہ علاقے میں حالات معمول پرلائیں جائیں۔ پولیس نے بتایا کہ تاہم پیس کمیٹی کے اجلاس کی ناکامی کے نتیجے میں‘ ایک گروپ کا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا اور وہ پتھراؤ کرنے لگے۔

اس واقعہ میں سب ڈیویثرنل پولیس افیسر ( ایس ڈی پی او)سدھاکر جانا بری طرح زخمی ہوگئے اور پولیس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایاگیا۔ایک گروپ نے جلوس نکالا اور مبینہ طور پرقابل اعتراض تبصرے کیا جس پر دوسرے طبقے کے افراد نے اپنا معمولی ردعمل پیش کیا۔پولیس نے حالات کو معمول پر لانے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور سیکشن 144سی آر پی سی کا نفاذ عمل میں لایا۔

اکھن دال مانی چکا‘ اور ہائی اسکول‘ ٹاؤن حال بونتھ والے راستوں کو پولیس نے روک دیا۔حکومت نے گیان رانجن داں جو کٹک میونسپل کارپوریشن کمشنر تھے کو ضلع بھدرک کا کلکٹر مقرر کرتے ہوئے فوری جائزہ لینے کی ہدایت دی ۔درایں اثناء یونین منسٹر فار اسٹیٹ برائے سوشیل جسٹس اینڈ ایمپاور منٹ کرشنا پال گورجار جس کو کل بھدرک میں ایک تقریب میں شرکت کرنا تھا نے کہاکہ انہیں ٹاؤن میں کشیدگی کی اطلاع پولیس کے ذریعہ ملی ۔انہوں نے کہاکہ ’’ جب تک بھدرک کے حالات معمول پر نہیں آجاتے میں وہاں کا دورہ نہیں کرونگا‘‘۔

مشکلات اس وقت برھ گئے جب ایک رو ز قبل قابل اعتراض تبصرہ سوشیل میڈیا پر وائیر ل ہوا۔ برہم لوگ بشمول بجرنگ دل‘ وی ایچ پی اور سری رام نومی کمیٹی کے نوجوانوں نے بھدرک ٹاؤن پولیس اسٹیشن پر احتجاجی دھرنا منظم کیا۔

انہوں نے پولیس میں ایک تحریری شکایت کرتے ہوئے خاطیو ں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔اسی دوران بھدرک مسلم جماعت صدر عبدالبار ی نے اپنے بیان میں قابل اعتراض ریمارکس کی سختی کے ساتھ مذمت کی اور مبینہ طور پر بھگوام رام کے خلاف تبصرہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT