Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تشکیل تلنگانہ کے بعد ہر انتخاب میں ٹی آر ایس کی جیت ‘ اپوزیشن محاسبہ کرے

تشکیل تلنگانہ کے بعد ہر انتخاب میں ٹی آر ایس کی جیت ‘ اپوزیشن محاسبہ کرے

 

٭ سنگارینی انتخابات میں 240 ووٹ حاصل کرنے والی بی جے پی ہمارا متبادل نہیں ہوسکتی
٭ اپوزیشن جماعتیں مایوس قائدین کے اتحاد میں تبدیل ‘ کودانڈا رام سرپنچ بھی نہیں بن سکتے
٭ ہر کسی کو سرکاری ملازمت کی فراہمی ناممکن ‘ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد /6 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سنگارینی کالریز یونین انتخابات میں ٹی بی جے ایس کی کامیابی کو تاریخی قرار دیتے ہوئے مزدوروں سے کئے وعدوں کو پورا کرنے کا تیقن دلایا ۔ اپوزیشن کو مایوس قائدین کا اتحاد قرار دیتے ہوئے پروفیسر کودنڈارام کو ان کی جانب سے تیار کردہ لاکھوں کارکنوں میں ایک کارکن قرار دیا اور کہا کہ وہ اب تک سرپنچ بھی منتخب نہیں ہوئے ہیں اور لیڈر بننا چاہتے ہیں۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے منعقد تمام انتخابی نتائج پر اپوزیشن کو محاسبہ کا مشورہ دیا ۔ چندر شیکھر راؤ نے پرگتی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ رکن پارلیمنٹ کے کویتا کے علاوہ وزراء اور دوسرے موجود تھے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سنگارینی انتخابات میں مزدوروں سے جو وعدے کئے گئے وہ پورے کئے جائیں گے ۔ کے سی آر نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے جتنے انتخابات ہوئے ہیں عوام نے ٹی آر ایس کو کامیاب بنایا ہے ۔ سنگارینی انتخابات میں 45 فیصد ووٹ حاصل کرکے ٹی بی جے ایس نے تاریخ بتائی ہے ۔ ان نتائج پر اپوزیشن اپنا محاسبہ کرے اور مستقبل میں تعمیری رول ادا کرے ورنہ عوام اپوزیشن کو مکمل مسترد کردے گی ۔ انہوں نے اراضی سروے پر اپوزیشن کی جانب سے غیر ضروری تنازعہ پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے مداخلت کی اپیل مضحکہ خیز ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سنگارینی مزدوروں کو مکانات کی تعمیرات کیلئے 6 لاکھ روپئے تک بغیر سود کے قرض دیا جائے گا ۔ انہوں نے وراثتی ملازمت سے محروم کرنے کا مزدور تنظیموں پر الزام عائد کیا ۔ باوجود اس کے حکومت وراثتی ملازمتوں کے احیاء کیلئے تمام اقدامات کرے گی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ جے اے سی صدرنشین پروفیسر کودنڈا رام ان کی جانب سے تیار کردہ لاکھوں کارکنوں میں ایک ہیں ۔ لیکن وہ اپنے آپ کو بڑا قائد تصور کر رہے ہیں جبکہ وہ ایک سرپنچ انتخاب میں بھی کامیاب نہیں ہونگے ۔ تحریک کے دوران سیاسی طاقت کو متحد کرنے جے اے سی تشکیل دی گئی تھی ۔ تحریک میں صرف ٹی آر ایس نے ہی قربانیاں دی ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کودنڈا رام ریاست میں ٹی آر ایس کی حکومت نہیں چاہتے تھے ۔ انہوں نے دہلی جاکر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور ڈگ وجئے سنگھ سے خفیہ ملاقات کی تھی ۔

چیف منسٹر نے کہا کہ کسان سمیتیوں کی تشکیل میں رکاوٹ ڈالنے عدالت کا سہارا لیا جارہا ہے ۔ کالیشورم پراجکٹ پر گرین ٹریبونل سے رجوع ہوکر سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا نے حکم التوا حاصل کیا ہے ۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ تمام افراد کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ضرورت کے مطابق ملازمتیں فراہم کی جائیں گی ۔ وہ تلنگانہ کے کسی مقام سے مقابلہ کریں عوام انہیں کامیاب بنائیں گے ۔ انہوں نے اپوزیشن سے استفسار کیا کہ قرض کے بغیر ترقی کیسے ممکن ہوسکتی ہے ۔ اپوزیشن ترقی کے خلاف ہے ۔ اس معاملے میں ان کی نہیں سنی گئی تو عدلیہ سے رجوع ہو کر ترقی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کودنڈارام کی تکلیف کیا ہے ۔ آج تک پتہ نہیں چلا ہے ۔ بتکماں ساڑیاں وظیفے تقسیم کرنے ، پراجکٹس کی تعمیرپر انہیں کیوں اعتراض ہے وہی جانیں ۔ کے سی آر نے کہا کہ سیاسی جماعت تشکیل دینا پان ڈبہ قائم کرنے کے برابر نہیں ہے ۔ کونڈارام کو سیاسی بیماری ہے اور وہ خود کو بڑا لیڈر تصور کر رہے ہیں ۔ اگر مقابلہ کے خواہشمند ہیں تو وہ ٹکٹ دینے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کٹ اسکیم کامیاب ہے ۔ سرکاری ہاسپٹلس میں زچگی کرانے والوں کی تعداد میں ہوا ہے ۔ کے سی آر نے کہا کہ ریاست میں کرپشن پر قابو پایا گیا ہے ۔ شہر میں نالوں کی توسیع کیلئے 12 ہزار مکانات کا انہدام کرنا پڑیگا ۔ ریاست میں 1.12 لاکھ جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں گے ۔ سرکاری شعبوں میں 4 لاکھ سے زائد ملازمتیں فراہم کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ خانگی شعبہ میں روزگار کے کافی مواقع دستیاب ہیں ۔ ڈی ایس سی جلد منعقد کرنے کا ا علان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سنگارینی انتخابات میں صرف 240 ووٹ حاصل کرنے والی بی جے پی تلنگانہ میں اپنے آپ کو ٹی آر ایس کا متبادل قرار دینا مضحکہ خیز ہے ۔کے سی آر نے اپوزیشن سے استفسار کیا کہ کیا تین سال میں سنہرہ تلنگانہ ممکن ہوسکتا ہے ۔ سنہرے تلنگانہ کی طرف ریاست گامزن ہے ۔ کسی بھی مذہت و طبقہ کو نظر انداز نہیں کیا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT