Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تشکیل وقف بورڈ کا ہفتہ مکمل ، بورڈ اختیارات سے محروم

تشکیل وقف بورڈ کا ہفتہ مکمل ، بورڈ اختیارات سے محروم

حکومت سے جی او کی عدم اجرائی ، بورڈ کو فیصلہ کرنے میں مشکلات
حیدرآباد۔3 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کا عمل مکمل ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے لیکن حکومت کی جانب سے ابھی تک اختیارات کے سلسلہ میں جی او جاری نہیں کیا گیا جس کے باعث بورڈ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ حکومت کی جانب سے صدرنشین کے رینک، مدت اور اختیارات کے بارے میں احکامات کی اجرائی تک وہ کسی بھی فائل پر دستخط نہیں کرسکتے اور احکامات کے بغیر کیا گیا کوئی بھی فیصلہ ناقابل عمل ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ احکامات کی عاجلانہ اجرائی کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کو توجہ دہانی کے باوجود جی اے ڈی سے احکامات کی اجرائی کا بہانہ بناکر کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ وقف بورڈ کی تشکیل کا عمل 24 فبروری کو مکمل ہوگیا اور ارکان نے متفقہ طور پر نئے صدرنشین کا انتخاب کیا جس کے بعد 27 فبروری کو بورڈ کی تشکیل سے متعلق اعلامیہ جاری کیا گیا۔ عام طور پر اعلامیہ کی اجرائی کے فوری بعد صدرنشین کے اختیارات سے متعلق احکامات کی اجرائی عمل میں آتی ہے لیکن وقف بورڈ کے سلسلہ میں ایسا نہیں ہوا جس کے باعث تشکیل کے باوجود تلنگانہ وقف بورڈ اہم فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور صدرنشین و ارکان کو الجھن کا سامنا ہے۔ حکومت نے احکامات کی اجرائی میں تاخیر کرتے ہوئے بورڈ کو بے دست و پا کردیا ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ ہفتے احکامات کی اجرائی عمل میں آئی گی۔ وقف بورڈ کی تشکیل کے سلسلہ میں پہلے ہی کئی مراحل کا سامنا کرنا پڑا اور جب بورڈ باقاعدہ تشکیل پاگیا وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ وقف بورڈ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق کئی اہم مسائل بورڈ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ عدالتوں میں زیر دوران مقدمات خاص طور پر درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ اور عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اوقافی اراضی کے سلسلہ میں موثر پیروی کے لیے بورڈ کو فیصلہ کرنا باقی ہے۔ اس کے علاوہ کئی اہم جائیدادوں اور عوامی نمائندگیوں پر بورڈ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ صدرنشین جناب محمد سلیم یوں تو روزانہ عوامی سماعت کے لیے وقف بورڈ کے دفتر پر موجود ہیں لیکن وہ ازروئے قواعد کسی بھی فائل پر دستخط نہیں کرسکتے۔ واضح رہے کہ چار زمرے جات کے تحت بورڈ کے 6  ارکان کے تقرر کا مرحلہ 31 ڈسمبر کو ختم ہوگیا تھا جس کے بعد نامزد ارکان کے تقرر میں تاخیر کی گئی۔ ہائی کورٹ کی جانب سے اندرون ایک ماہ بورڈ کی تشکیل کی ہدایت کے بعد 23 فبروری کو حکومت نے نامزد ارکان کے ناموں کا اعلان کیا اور 24 فبروری کو ارکان نے متفقہ طور پر جناب محمد سلیم کو صدرنشین منتخب کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کو بورڈ کی تشکیل کا اعلامیہ 24 فبروری کو ہی جاری کرنا چاہئے تھا لیکن یہ 27 فبروری کو جاری کیا گیا۔ 24 فبروری کو جائزہ حاصل کرتے ہی صدرنشین نے حج ہائوز کی عمارت کی آہک پاشی سے متعلق پہلی فائل پر دستخط کی لیکن اختیارات کا جی او جاری نہ ہونے کے سبب صدرنشین کے دستخط پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صدرنشین وقف بورڈ کسی بھی فائل پر دستخط سے گریز کررہے ہیں اور انہیں حکومت کے احکامات کا انتظار ہے۔ جی او کی اجرائی کے بعد ہی بورڈ کا پہلا اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں ارکان کی جانب سے صدرنشین کے اختیارات کے بارے میں علیحدہ قرارداد منظور کریں گے۔ وقف بورڈ کو مختلف مسائل کے سلسلہ میں رجوع ہونے والے افراد کو یہ جان کر مایوسی ہورہی ہے کہ بورڈ کی تشکیل کے بعد عہدیدار کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں جبکہ صدرنشین حکومت کے احکامات کی عدم اجرائی کے سبب فائلوں پر دستخط سے گریز کررہے ہیں۔ ان حالات میں اوقافی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT