Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / تصورِ خسران و زیاں قرآن کی روشنی میں

تصورِ خسران و زیاں قرآن کی روشنی میں

ابوزاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی

انفرادی سطح ے لے کر بین الاقوامی سطح تک تاجرین، نمائندگان صنعت و تجارت اور ماہرین معاشیات و اقتصادیات کی مختلف حکمت عملیوں کا بنیادی مقصد تجارت میں مشغول سرمایہ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ منافع کے اہداف میں بہتری پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عصر حاضر میں صنعت و تجارت ملکی سرحدوں سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ نفع کمانا ایک جائز اور فطری عمل ہے، چوں کہ مذہب اسلام دین فطرت ہے، اسی لئے شریعت مطہرہ میں جائز نفع پر مبنی بیع و شرا کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اور حلال فرمایا اللہ تعالی نے تجارت کو اور حرام کیا سود کو‘‘ (سورۃ البقرہ۔۲۷۵) رب کائنات نے بیع کو حلال قرار دیا ہے، جس کے لئے ذہنی صلاحیتیں، وقت، سخت محنت و مشقت اور نفع و نقصان برداشت کرنے کی ہمت درکار ہوتی ہے، اس کے برخلاف دین متین نے سود کو حرام قرار دیا ہے، جس کے لئے کسی مشخص صفات کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔

جب انسان محنت و جستجو سے کوئی چیز کماتا ہے تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جب کہ آسانی سے حاصل ہونے والی دولت کے اکثر منفی اثرات رونما ہوتے ہیں۔ اسی لئے دین حنیف میں بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت پاک سے یہ بات بھی مستنبط ہوتی ہے کہ وہ تجارت، جس سے انسان، معاشرہ اور انسانیت کو فائدہ ہوتا ہو، وہ انسان کے لئے جائز اور جس تجارت کی بنیاد فطرت سے بغاوت و حق تلفی، ظلم و زیادتی پر ہو، جو اخلاقی قیود سے مستغنی ہو، جس سے انسان، معاشرہ اور انسانیت کو ضرر پہنچتا ہو، وہ حرام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت مصطفیﷺ نے تلفی جلب، بیع حاضر للبادی، تناجش، احتکار، ناجائز ذخیرہ اندوزی، شراب، منشیات، رشوت خوری اور ایسی کسی بھی تجارت جس سے خدا کی نافرمانی، اثم وعدوان کا فروغ اور عقل، بدن اور انسان کو ضرر پہنچتا ہو سے منفع کیا ہے، چوں کہ یہ سب نفع کمانے کے غیر فطری ذرائع ہیں۔

دین مبین ایسی کسی بھی تجارت کا حکم نہیں دیتا، جس سے حرام و حلال کے تمام امتیازات ختم ہو جائیں۔ جب نفع کمانے کا جذبہ اپنے جائز حدود سے نکل کر ہوس، حرص اور لالچ کی سرحدوں میں قدم رکھتا ہے تو انسانی روح مجروح ہو جاتی ہے، انسانیت ہلاک ہو جاتی ہے اور رب کی اطاعت و فرماں برداری سے اعراض کرنا انسان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے۔ رب قدیر ارشاد فرماتا ہے: ’’غافل رکھا تمھیں زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس نے، یہاں تک کہ تم قبروں میں جاپہنچے‘‘ (سورۃ التکاثر۔۱،۲) یعنی انسان کی مال سے بیجا محبت کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ دولت اکٹھا کرنے کی آرزو اس وقت تک زندہ رہتی ہے، جب تک کہ وہ موت کی آغوش میں نہ سو جائے۔ چنانچہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اگر کسی شخص کے پاس سونے سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو اس کی آرزو اور تمنا ہوتی ہے کہ کاش اس کے پاس ایک کی بجائے سونے سے بھری ہوئی دو وادیاں ہوتیں، اس کے منہ (لامتناہی خواہشات) کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے‘‘۔ (بخاری شریف)
اسلام میں محنت و نشقت سے حاصل شدہ دولت کو نہ صرف قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے، بلکہ اس کا حکم دیا گیا ہے۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا مختلف تجارتی اسفار میں شرکت فرمانا خود اس بات کی بین دلیل ہے۔ دین حنیف صرف ایسے منافع حاصل کرنے سے منع فرماتا ہے، جس سے دنیا و آخرت دونوں تباہ و تاراج ہو جائیں۔ دنیا میں کوئی بھی انسان نہیں چاہے گا کہ ایسی کوئی تجارت کرے، جس سے اسے گھاٹا یا نقصان ہو، بلکہ ہر تاجر نفع کی غرض سے ہی کاروبار کرتا ہے۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کاروبار کو فروغ دینے کے لئے تشہیری وسائل اور ترغیبی اشتہارات کا بکثرت استعمال ہو رہا ہے، لیکن بعض اشتہارات ایسے ہیں، جو تعلیمات اسلامی کے بالکل مغائر ہیں۔ لیکن صد حیف کہ بعض مسلم تاجرین ملبوسات بھی اغیار کی متابعت میں خواتین کی تصاویر استعمال کر رہے ہیں۔ کیا اس تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی نفع کہلائے گی؟ یہ محل نظر ہے۔ معاشی لحاظ سے تو نفع میں شمار ہوگی، لیکن شرعی طورپر کیا یہ نفع ہے یا خسران و زیاں؟ اس پر ہمیں توجہ دینی چاہئے۔ مثلاً اگر کسی انسان کو سخت محنت و مشقت کے بعد ماہانہ بیس ہزار روپئے کی آمدنی ہو رہی ہے، لیکن صحت پر اس محنت کا اس قدر برا اثر پڑ رہا ہے کہ اسے ہر مہینہ تس ہزار کی دوائیں لینی پڑ رہی ہیں تو کیا بیس ہزار روپئے کی آمدنی اس کے حق میں نفع ہوگا یا نقصان؟۔ اس مثال پر ایک عام فہم انسان کی بھی یہی رائے ہوگی کہ اسے تو الٹا دس ہزار روپئے دواؤں کی خریداری پر اپنی جیب سے خرچ کرنا پڑ رہا ہے، یہ تو اس کے حق میں صریحاً نقصان ہے۔ بلاتمثیل جو نفع اسلام کے معاشی اصول و ضوابط، اوامر و نواہی، تحلیل و تحریم کو بالائے طاق رکھ کر حاصل کیا جائے، وہ نفع نہیں بلکہ تاجر کے حق میں موجب نقصان، خسران و زیاں ہوتا ہے۔

خواتین کی تصاویر والے اشتہارات سے جتنے لوگ بدنگاہی کا شکار اور نوجوان نسل تباہ ہوگی، اس کا وبال ان تاجرین کے نامہ اعمال میں درج ہوگا، جو ان تصاویر کو کاروبار کے فروغ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگ دنیوی مال و متاع حاصل کرنے میں کامیاب تو ضرور ہو جائیں گے، لیکن آخرت میں خسران و زیاں ان کا مقدر بن جائے گا۔ ارشاد ربانی ہے: ’’(نیز) فرمادیجئے اصل نقصان اٹھانے والے وہ ہیں، جو گھاٹے میں ڈالیں گے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔ سنو! یہی کھلا گھاٹا ہے ان (بدبختوں) کے لئے اوپر سے بھی آگ کے شعلے ہوں گے اور نیچے سے بھی آگ کے شعلے اس (عذاب الیم) سے ڈراتا ہے اللہ تعالی اپنے بندوں کو اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو‘‘۔ (سورۃ الزمر۔۱۵،۱۶)

صاحب ایمان کا تو یہ غیر متزلزل عقیدہ ہوتا ہے کہ حقیقی روزی رساں تو رب قدیر ہے۔ دولت و ثروت، عزوجاہ اور رزق کی کشادگی و تنگی سب رب کائنات کی عطا و مشیت پر منحصر ہے، لہذا ایسا انسان جس جو اپنے رب کے رازق ہونے پر کامل اعتقاد و یقین رکھتا ہو، اسے ایسے غیر انسانی اشتہارات کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ دنیوی اعتبار سے بھی اس تاجر کو ناکام تاجر کہا جائے گا، جو عصری وسائل اور سازگار ماحول ہونے کے باوجود نقصان اٹھائے، اب وہ انسان کیسے کامیاب متصور ہوگا، جس نے افضل ترین سرمایہ یعنی عمر، عقل و خرد، الطاف و احسانات اور زندگی کا بیش بہار سرمایہ بغیر کسی معاوضہ کے ہاتھ سے گنوادے۔ بدبختی کی بات تو یہ ہے کہ ان مفاد پرست انسانوں نے نہ صرف اپنا عظیم سرمایہ (فطرت سلیمہ) ہی گنوا دیا، بلکہ ہدایت کے بدلے گمراہی اختیار کرلی، جیسا کہ اس آیت پاک سے متشرح ہے: ’’یہ وہ لوگ ہیں، جنھوں نے خریدلی گمراہی ہدایت کے بدلے، مگر نفع بخش نہ ہوئی ان کی (یہ) تجارت‘‘۔ سورۃ البقرہ۔۱۶)

رب کائنات نے ہمیں یہ قیمتی زندگی اس لئے عطا نہیں فرمائی کہ ہم موقتی دنیا کو سنوارنے میں صرف کردیں، بلکہ اس لئے مرحمت فرمائی تاکہ ہم اخروی زندگی کو سنواریں۔ اخروی فلاح و کامیابی کے مقابل دنیوی منفعت کو ترجیح دینا ایسے ہی ہے، جیسے اصل کے مقابل مصنوعی اشیاء کو پسند کرنا اور جو لوگ آخرت کی بے پناہ اور دائمی نعمتوں کے حصول کی بجائے دنیا کی موقتی اور قلیل متاع کو حاصل کرنے میں اپنی زندگی کا عظیم سرمایہ لگا دیتے ہیں، قرآن حکیم کی نگاہ میں وہ خسران و زیاں والے ہیں، کیونکہ انسان کا یہ نازیبا عمل اسلام کے نفع و کامیابی کے معیار اور پیمانے کے بالکل خلاف ہے۔ اس سے بڑی نادانی اور کیا ہوگی کہ ایک انسان دنیا کے عارضی مفاد کے لئے اپنی آخرت برباد کرلے۔ بندہ جب دنیا طلبی کا شکار ہو جاتا ہے تو اس کی دنیا و آخرت دونوں تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اس شخص نے برباد کردی اپنی دنیا اور آخرت یہی تو کھلا ہوا خسارہ ہے‘‘۔ (سورۃ الحج۔۱۱)

سعادت و ارجمندی اس میں نہیں کہ انسان دنیوی اعتبار سے خوشحال ہو، حقیقی عزت و اکرام تو وہی ہے جو آخرت میں انسان کو ملنے والا ہے اور آخرت کے لئے سرمایہ کاری کے لئے ضروری ہے کہ انسان دنیا میں اپنی خواہشات کی اندھی پیروی نہ کرے۔ اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی نافرمانی اور انسان کی بے باکانہ و گستاخانہ روش کا ہی وبال ہے کہ سارا عالم عدیم النظیر ترقی حاصل کرنے کے باوجود گونا گوں مسائل، مہلک امراض، مصائب و آلام اور نت نئے آفات و پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔ تمام اسباب عیش و عشرت ہونے کے باوجود انسان کا اطمینان قلب اور ذہنی سکون کے لئے ترسنا، حقیقت میں یہی خسران و زیاں ہے اور جس کی طرف قرآن مجید ہماری توجہ مبذول کرواتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT