Thursday , September 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / تصوف نام ہے روح شریعت کا

تصوف نام ہے روح شریعت کا

انسان کی پیدائش کا مقصوداصلی اللہ سبحانہ کی معرفت اوراسکی عبادت ہے،اسلام ایک جامع نظام حیات پیش کرتاہے جس میں انسانیت کی صلاح وفلاح مضمرہے،اس نظام حیات میں ایمانیات، اعتقادات، عبادات،معاملات،معاشرت اوراخلاق سب کی اہمیت ہے۔زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جس میں اسلام نے رہبری ورہنمائی نہ کی ہو،اس لئے ایمان کے سلامتی اسکے تحفظ، دنیا کی صلاح وفلاح اوراخروی نجات ومغفرت کیلئے ضروری ہے کہ اسلامی احکامات کو ہرقیمت پر ملحوظ رکھا جائے اوران سب کی انجام دہی میں اللہ کی رضااوراسکی خوشنودی پیش نظررکھی جائے ،اس سے اللہ سبحانہ کا تقرب حاصل ہوتا ہے اسی سے ایک بندہ مومن مرتبہ کمال تک پہنچ سکتاہے ،یہ عظیم مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک انسان اپنے آپ کو رزائل اخلاق سے پاک نہ کرلے۔
اسلامی احکام انسان کے ظاہر سے بھی متعلق ہیں اورباطن سے بھی،اس لئے اسکی بڑی اہمیت ہے ۔صرف ظاہری اعمال کی بجاآوری کافی نہیں بلکہ اس میں جس درجہ خلوص اوراللہ کی رضا مندی پیش نظررہیگی اسی قدر وہ تقرب الی اللہ کا ذریعہ بنیں گے۔ ظاہری اعمال میں اخلاص،باطنی طہارت وپاکیزگی اورقلب کی صفائی اورستھرائی پر موقوف ہے۔اس سے انسان مقام احسان تک پہنچ سکتا ہے ،ایک ایمان والے کیلئے یہ اسکی منزل مقصو دہے ،اخلاص کے بغیر اعمال بے روح جسدکے مانند ہیں۔سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’انسان کے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑاہے اسکی اصلاح ودرستگی پر سارے جسم کی تندرستی وصحت موقوف ہے آگاہ ہوجاؤ! کہ وہ قلب ہے ‘‘۔جسمانی اعتبارسے جس طرح دل کی صحت ودرستگی پر سارے جسم کی صحت کا انحصارہے ٹھیک اسی طرح روحانی اعتبارسے قلب کی اصلاح پر سارے روحانی کیفیات کی اصلاح موقوف ہے ۔خیرالقرون میں تعلیم کتاب وحکمت اورتربیت وتزکیہ ایک ہی چہار دیواری میں ہواکرتے تھے،ہر دوامرکے معلمین بھی ایک ہی ہواکرتے تھے۔ لیکن بعد کے ادوارمیں یہ دوکام تقسیم ہوگئے ،تعلیم کتاب وحکمت یعنی علوم اسلامیہ کے ظاہری احکام دینی مدارس وجامعات میں پڑھا ئے جانے لگے، اصلاح باطن تربیت وتزکیہ اور باطنی علوم ومعارف کی تعلیم خانقاہوں میں ہونے لگی۔ اسی لئے نفس یعنی قلب کی اصلاح اوراسکی طہارت کیلئے کچھ علماء مختص ہوگئے، جن کو صوفیاء کہا جاتا ہے انھوں نے یہ کام پورے اخلاص کے ساتھ انجام دیا اوراس میدان میں انکی محنت ومشقت اورانکی مخلصانہ مساعی کا مثالی ہونا تاریخ کی اوراق میں محفوظ ہے ۔ اللہ والے بزرگان دین اورصوفیاء کرام ملت اسلامیہ کیلئے ایک مسیحا ثابت ہوئے کیونکہ انھوںنے ملت اسلامیہ کے باطنی امراض جیسے بغض وکینہ ،حقدوحسد،غروروتکبر،حب جاہ وحب دنیا،حرص وہوس،ریاء ودکھاوا،عجب وخودپسندی،غیض وغضب،وغیرہ کا اسلامی ڈھنگ سے اس طرح علاج کیاکہ ان کے قلوب ان رزائل اخلاق سے پاک ہوئے ،اور اخلاق حمیدہ جیسے الفت ومحبت،انسانی ہمدردی،دردمندی وچارہ سازی، تواضع وانکساری، نے اسکی جگہ لی تب کہیں جاکروہ اصلاح نیت،زہدوتقوی،اعتمادوتوکل،خشوع وخضوع،خوف ورجاء،صبروشکر،صدق وصفاکا پیکر بنے۔ تفکروتدبر تفویض الی اللہ انکی عادت ثانیہ بن گئی ۔
خلق خداسے محبت کبھی خالق کے محبت میں مانع نہیں ہوسکتی بلکہ خلق خداکی محبت خالق کی محبت میں مزیداضافہ کر سکتی ہے بشرطیکہ احکام شریعت پر مقام احسان پر رہتے ہوئے عمل میں خلق خداکی محبت آڑے نہ آتی ہو۔ اورآخرت کی فکرسے غافل نہ کرتی ہو،یہ ایک معیا روکسوٹی ہے اس پر اپنے آپ کو پرکھ کر ایک بندہ مومن اپنی جانچ کر سکتا ،خالق کی محبت اوراسکے تقاضوں کو فراموش کرکے دنیا کی محبت میں کھوجانے والا انسان اپنی منزل مقصود سے دورہوجاتا ہے ۔دنیا یوں تو انسان کے لئے ضروری ہے لیکن وہ انسان کامیاب ہے جو دین وایمان کے تقاضوں کو پوراکرتے ہوئے دنیا کوبرتے ۔ دنیاکے فوائد پر آخرت کے ثمرات وبرکات کو ترجیح دے۔
چیست دنیا ازخداغافل بدن
نے قماش ونقرہ وفرزندوزن
یعنی حقیقت میں مال ودولت ،زن وفرزندکا نام دنیا نہیں ہے بلکہ انکی وجہ اللہ سبحانہ اوراسکے رسول ﷺ سے تعلق ومحبت میں کوتاہی وکمی اوراسکے احکامات سے اعراض وغفلت دنیا کہلاتی ہے۔ انسان کا دنیا میں اس طرح کھوجانا اورشہوات وخواہشات کی رومیں اس طرح بہہ جانا کہ اس سے وہ خدافراموش بن جائے اورآخرت کا استحضارمدھم پڑجائے ایسی دنیا مذموم ہے جو انسان کو آخرت کے نعائم سے محروم کرسکتی ہے۔اس لئے کسب دنیا اورحب دنیا میں بڑافرق ہے ۔ بقدرضرورت وحاجت کسب دنیا محمودوپسندیدہ ہے ۔حیدرآباد کے محدث جلیل، عبقری شخصیت کے مالک ،نقشبندی سلسلے کے عظیم بزرگ حضرت ابوالحسنات سید عبداللہ شاہ رحمہ اللہ نے بڑی پیا ری بات کہی ہے کہ’’دنیا کرومگردین کے ساتھ‘‘اس چھوٹے سے جملہ میں اللہ کے قرب کی تحصیل اوردنیا وآخرت کی کامیابی کی حقیقت سمودی گئی ہے۔اس لئے کہا گیا ہے کہ ’’حب الدنیا رأس کل خطیئۃ ‘‘یعنی  دین فراموشی کے ساتھ دنیا کی محبت ہی دراصل ساری خرابیوں کی جڑ ہے، روحانی جتنے امراض ہیں وہ حب دنیا میں گرفتاری کے سبب لاحق ہوتے ہیں ،اگراسکا علاج کرلیا جائے تو دیگرسارے امراض روحانی خودبخود دفع ہوجاتے ہیں۔آخرت کو بھول کر دنیا کی محبت میں پوری طرح کھوجانا زہرقاتل ہے ،اسکی مثال ایک ایسے خوبصورت سانپ کی سی ہے جوکسی بچے کی گرفت میں آجائے تو وہ اسکی ظاہری خوبصورتی اسکے نقش ونگاراوراسکی چمک دمک میں کھوجائیگا اوربے خوف وخطراس سے کھیلنے لگے گا چونکہ وہ اسکے اندرونی زہر سے واقف نہیں ہے ۔اسکے برعکس سمجھ بوجھ رکھنے والا نابالغ بچہ ہی کیوں نہ ہو وہ سانپ سے دوربھاگے گا اسکی خوبصورتی ایک سمجھداربچہ کو اپنے طرف مشغول نہیں کرسکتی ،ظاہر ہے عاقل وبالغ انسان توضرورسانپ کے قریب نہیں جائیگا،کیونکہ وہ اسکی زہرناکی سے واقف ہے۔اسکے زہریلاہونے کی معرفت ہی ایک انسان کو سانپ سے خوفزدہ رکھتی ہے،اس لئے وہ اسکے ضررسے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کیلئے اسکے قریب نہیں جاتا ۔
زہرایں مارمنقش قاتل است
باشد ازوے دورہرکہ عاقل است
مولانا روم رحمہ اللہ فرما تے ہیں ’’کہ دنیا اگردل کے باہر رہے یعنی مال ومنال فرزندوزن وغیرہ کے محبت اوردنیوی اسباب اوراہل دنیا سے تعلق مغلوب ہو اللہ اوراسکے احکامات اورآخرت کی محبت غالب ہو تو ایسی محبت انسان کیلئے مضرت رساں نہیں بلکہ خلوص ومحبت اوراللہ کی رضاوخوشنودی کیلئے ہو توایسی محبت بھی قرب حق ورضائے الہی کا موجب ہوگی ،لیکن یہی دنیا اگرانسان کے دل کی دنیا میں بس جائے اورفکرحق مغلوب ہوجائے تواسکے نقصان رساں ہونے میں کوئی کلام نہیں ‘‘انھوںنے اسکی مثال کشتی سے دی ہے جب تک دریا کا پانی کشتی میں نہ آجائے وہ پانی کشتی کے چلنے میں مددگارہوتا ہے لیکن وہی پانی اگرکشتی میں داخل ہوجائے تواس میں کشتی کی ہلاکت یقینی ہے ۔
آب درکشتی ہلاک کشتی است
آب اندرزیرکشتی پستی است
گویا دنیا ایک سمندرہے دنیا کی طلب وخواہش اسکا پانی ہے، اورانسانی دل کی مثال ایک کشتی کی سی ہے اس دل کی کشتی میں دنیا کی محبت وخواہش کا پانی دل کی کشتی میں داخل ہوجائے تو راہ معرفت کے مسافرکی کشتیٔ قلب سمندر(دنیا)میں غرق آب ہوسکتی ہے ۔اوراگریہی چاہت دنیا وی اور خواہشات انسانی دل کی کشتی سے باہر رہیں نیز قلب انسانی رزائل اخلاق سے پاک ،شریعت کی محبت قلب میں راسخ ہو تب تو دل کی کشتی بسلامت معرفت کے ساحل مراد تک پہنچ سکتی ہے ۔
اللہ سبحانہ کے نیک بندے نارواحب دنیا کی زہرناکی سے خوب واقف ہوتے ہیں اس لئے وہ خودبھی اس سے بچنے کی اوراپنے متعلقین ومعتقدین کواس سے بچانے کی سعی پیہم میں لگے رہتے ہیں،ایسے نیک وصالح بندے اللہ کے ولی کہلاتے ہیں ۔
صوفیاء کرام جنھوں نے معرفت حق کی منازل طئے کیں وہ جائزراہ سے دنیا گزارتے ہوئے منزل مقصود یعنی لقاء رب وفکرآخرت پرتادم زیست نظررکھے رہے ،معرفت کو انھوں نے کبھی شریعت سے جدانہیں کیا بلکہ شرعی احکام کی پابندی اوراس پر ثابت قدمی کومعرفت حق کی راہ سمجھا۔اس لئے شریعت کے احکام کی پابندی پورے کمال کے ساتھ کی۔
حقیقت یہ ہے کہ تصوف احکام شریعت پر اخلاص وللہیت کے ساتھ عمل ہی کا دوسرانام ہے،احکام شریعت میں اخلاص کی روح  وجان پیداکرنے والے ہی صوفیاء کہلاتے ہیں ۔
حقیقت ،معرفت راہ طریقت کا
تصوف نام ہے روح شریعت کا

Top Stories

TOPPOPULARRECENT