Tuesday , August 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / تعلقہ اور گرام پنچایتوں کو بااختیار بنانا کانگریس حکومت کا اہم کارنامہ

تعلقہ اور گرام پنچایتوں کو بااختیار بنانا کانگریس حکومت کا اہم کارنامہ

گلبرگہ میں گرام سوراج ، ضلع و تعلقہ پنچایتوں کی کانفرنس سے چیف منسٹر سدارامیا کا خطاب
گلبرگہ13فبروری:( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) چیف منسٹر کرناٹک مسٹر سدرامیا نے جمعہ کے د ن سیڑم روڈگلبرگہ پر ڈویژنل کانفرنس گرام سوراج اور ضلع وتعلقہ پنچایت انتخابات  2016کے ضمن میں ضلعی سطح کی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی سستی شہرت کے لئے کسی بھی حد تک گزر سکتے ہیں ۔ ان کے پاس کوئی معیار سامنے نہیں رہتا ۔ انھوںنے کہاکہ زعفرانی پارٹی نے کرناٹک میںمعدنی دولت کی لوٹ مار کے سوا اور کوئی کام نہیںکیا ۔ انھوںنے الزام عائد کیا کہ مودی ہوں یااور کوئی بی جے پی کے اور کوئی لیڈرکانگریس کو بدنام کرنے کے لئے ہرطرح کے گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں ۔ انھوںنے الزام عائد کیا کہ سابق چیف منسٹر کرناٹک مسٹر بی ایس یڈی یور اپا کی وزارت میںکئی ایک بدعنوانیاںکرنے والے وزراء شامل تھے ، جن کے کارناموں کے سبب انھیںاپنے عہدہ سے استعفٰی دینا پڑا۔ چیف منسٹر سدرامیا نے اپنی حکومتی کار کردگی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انھیںکامل یقین ہے کہ تعلقہ و ضلع پنچایتوںکے 20فبروری کومنعقد ہونے والے دوسرے مرحلہ کے انتخابات میں بھی کانگریس پارٹی کو نمایاں کامیابی حاصل ہوگی ۔انھوں نے اس یقین کا اظہارکیاکہ پارٹی کو جملہ 30ضلع پنچایتوں میں سے 20 میں اور 176تعلقہ پنچایتوں میں سے 100تعلقہ پنچایتوںمیںاکثریت حاصل ہوجائیگی ۔ چیف منسٹر سدرامیا کے علاوہ جن اہم انتخابی مہم بازوںنے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر و ریاستی وزیرداخلہ جی پرمیشور، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن آسکر فرنانڈیس، رکن پارلیمینٹ گلبرگہ، قائد کانگریس لوک سبھا مسٹرملیکارجن کھرگے ،ِضلع انچارج وزیر جناب قمر الاسلام نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔ کانگریس قائدین نے کہاکہ یہ کانگریس ہی ہے جس نے بالکل نچلی سطح یعنی ضلع پنچایت ، تعلقہ و گرام پنچایت تک بھی عوام کو انصاف دلانے کے لئے خدمات انجام دی ہیں ۔ کانگریس نے ہی تین پنچایت راج نظام کے تحت اختیارات کو غیرمرکوزکرنے کااہم کارنامہ انجام دیا ۔لہٰذا اسی جماعت کو عوامی تائید حاصل کرنے کا بھرپور حق حاصل ہے۔ چیف مسٹرسدرامیانے اس بات پرزور دیتے ہوئے کہا کہ وہ راجیو گاندھی کی حکومت تھی جس نے دستورہندکی73ویںترمیم کے ذریعہ اختیارات کو غیر مرکوز کروادیا تاکہ ملک کے چھوٹی سے چھوٹی منتخب مجالس کو زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل ہوجائیں ۔ اس ترمیم کے سبب تمام دیہی مقامی مجالس کیلئے بھی لازمی طور پر مقررہ مدت کے اندرانتخابات کروانے پڑتے ہیں۔ مسٹر سدرامیانے کہا کہ پنچایت راج اداروں کے لئے ایڈمنسٹریٹرس کی نامزدگی اب ماضی کی کہانی بن گئی ہے ۔مسٹر سدرمیا نے کہا کہ حکومت نے پنچایت راج نظام میںبڑی کارآمد تبدیلیاںلائی ہیں۔ ایکٹ میں 79ویںکے ذریعہ پنچایت راج کوگرام سوراج پنچایت میں تبدیل کیاگیا ہے ۔ اس کے علاوہ تعلقہ و ضلع پنچایتوں کے صدورکی معیادعہدہ پانچ سال رکھی گئی ہے ۔ ضلع پنچایتوںکے صدورکو وزارتی مرتبہ دیاگیاہے ۔ اپنی حکومت کے اہم کارناموںکا ذکر کرتے ہوئے مسٹرسدرامیانے کہا کہ ریاست کو بھوک اور بھوک مری آزادریاست بنانے کے لئے مرکزمیں یو پی اے کی کانگریس کی زیر اقتدار حکومت نے فوڈ سیکیوریٹی ایکٹ نافذکیا ۔اقوام و قبائل درج فہرست کے لئے ان کی آبادی کے تناسب سے منصوبہ بندی کے شعبہ میں تحفظات فراہم کئے گئے ۔کرناٹک میں اقوام و قبائل درج فہرست کی آبادی کاتناسب 24.1فیصد ہے اور اسی تناسب سے منصوبہ بند اخراجات میں سے ان کے لئے24.1فیصد فنڈس مختص کئے گئے  جو 16,356کروڑ روپئے ہوتے ہیں ۔یہ رقم مالی سال کے اندر ہی خرچ کی جاتی ہے اور اس طرح اس کے استعمال میںنہ لائے جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اگر یہ فنڈس استعمال نہیںکئے جاتے تو اس صورت میں متعلقہ عہددہ دار کو ذمہ دار قرار دیا جاتاہے ۔ مسٹرسدرامیانے کہا کہ نئے ایکٹ کے مطابق گرام پنچایتوں کو قواعد بنانے کا حق بھی دیا گیا ہے۔ صدر نشین گلبرگہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی مسٹر محمداصغر چلبل، مئیرگلبرگہ مسٹر بھیم ریڈی پاٹل ، رکن اسمبلی ڈاکٹرامیش جادھو ، رکن اسمبلی چیتاپور مسٹر پریانک کھرگے، ریاستی وزیر بابو رائو چن چن سور صدر ضلع کانگریس گلبرگہ مسٹربھاگن گوڑا اور دیگر قائدین نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT