Wednesday , October 18 2017
Home / ہندوستان / تعلیمی اداروں اور رئیل اسٹیٹ میں بے شمار کالادھن

تعلیمی اداروں اور رئیل اسٹیٹ میں بے شمار کالادھن

دستیاب ڈیٹا میں کالے دھن کے اہم مراکز کا انکشاف، حکومت کا بیان
نئی دہلی۔25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) محکمہ ٹیکس نے گزشتہ 3 مالیاتی سالوں کے دوران اپنے سرچ آپریشن کے ذریعہ 32,000 کروڑ روپئے کی دولت کا انکشاف کیا ہے اور یہ رقم بڑے پیمانہ پر تعلیمی اداروں، رئیل اسٹیٹ اور دیگر امور میں مشغول کی گئی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کو دستیاب ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ کالے دھن کو مشغول کرنے کا اصل شعبہ رئیل اسٹیٹ، فینانس، ٹریڈنگ، مینوفیکچرنگ تعلیمی ادارے اور سرویسس شامل ہیں۔ مملکتی وزیر فینانس سنتوش گنگوار نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب دیتے ہوئے یہ بات بتائی، سال 2015-16 دوران انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے 445 مقامات کی تلاشی لی ہے جہاں 11066 کروڑ روپئے کی آمدنی کا انکشاف ہوا اور یہاں کی جملہ ملکیت و اثاثہ جات کی تخمینی لاگت 712.68 کروڑ روپئے ہے۔ سال 2014-15  میں 545 مقامات پر دھاوے کرکے تلاشی لی گئی جہاں سے 10,288 کروڑ روپئے کا پتہ چلا اور 761.70 کروڑ لاگتی اثاثہ جات پائے گئے۔ ان کے علاوہ سال 2013-14  میں 569 دھاوے اور تلاشی مہم انجام دی گئی جہاں سے 10,791 کروڑ روپئے کا پتہ چلا اور 807.84 کروڑ روپئے کے اثاثہ جات دستیاب ہوئے۔ اس طرح تمام دھاوئوں اور تلاشی کے دوران دستیاب رقم 32,146 کروڑ روپئے ہوگئی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے تلاشی کے دوران کرائے گئے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ جو افراد غیر محسوب دولت رکھتے تھے انہوں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کالے دھن کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے موثر کارروائی کی ہے۔ اس میں رقم کی شکل میں 20,000 یا اس سے زائد رقم کی لین دین قبول کرنے پر پابندی بھی شامل ہے تاکہ بے نامی لین دین کا پتہ چلایا جاسکے۔ 2 لاکھ روپئے سے زائد کے لین دین کے لئے پیان کا حوالہ دینے کو لازمی قررا دیاگیا ہے۔ لوک سبھا میں ایک اور جواب میں سنتوش گنگوار نے کہا کہ اپریل اور اکٹوبر کے درمیان حوالہ معاملات کے تحت 109 کیس درج رجسٹر کرلئے گئے تھے۔ سال 2015-16 کے دوران ایسے 138 کیس رجسٹرڈ کردئے گئے تھے۔ فیما کے تحت درج کردہ کیسوں کی تحقیقات کی گئی۔
مذکورہ بالا کیسوں میں چند کیس غیر قانونی سرگرمیوں اور دہشت گردی سے بھی متعلق تھے۔

TOPPOPULARRECENT