Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / تعلیمی ادارہ جات میں ذات پات کے جھگڑوں کو ختم کرنے قانون سازی کی ضرورت

تعلیمی ادارہ جات میں ذات پات کے جھگڑوں کو ختم کرنے قانون سازی کی ضرورت

کل ہند سیو ایجوکیشن کمیٹی کی گول میز کانفرنس ، پروفیسر ویشویشور راؤ و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔10فبروری(سیاست نیوز) کل ہند سیو ایجوکیشن کمیٹی کے زیراہتمام منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سماجی جہدکار وعا پ پارٹی قائد پروفیسر پی ایل ویشوویشو ار رائو نے کہاکہ ملک کے تعلیمی اداروں میں پسماندگی کا شکار طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ مذہب اور ذات پات کے نام پر جاری استحصال کو ختم کرنے اور مذکورہ طبقات کے طلبہ میںاعتماد بحال کرنے کے لئے ایک نئے قانون کا نفاذ ضروری ہے ۔ بی سی ہال حمایت نگر میںمنعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر پی ایل ویشو ویشو ار رائو نے کہاکہ جس طرح مرکزی حکومت کے عصمت ریزی کے واقعات کی روک تھام کے لئے نربھئے ایکٹ نافذ کیاہے اسی طرح تعلیمی اداروں بالخصوص یونیورسٹیز میں ایس سی ‘ ایس ٹی‘ بی سی ‘ مسلم طلبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور استحصال کو ختم کرنے کے لئے روہت ایکٹ کا نفاذ عمل بھی ضروری ہے۔پروفیسر پی ایل ویشو ویشو ار رائونے کہاکہ اس ضمن میں کل ہند سیو ایجوکیشن کمیٹی کی جانب سے  24اور25فبروری کو دہلی کے جنتر منتر پر ایک احتجاجی دھرنا بھی منظم کیا جائے گا اور چلو دہلی پروگرام کے تحت برسراقتدار پارٹی کے علاوہ اپوزیشن قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے روہت ایکٹ کے نفاذ کی راہ ہموار کرنے کے لئے نمائندگی کی جائے گی۔ گول میزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کولیوری چرنجیوی نے کہاکہ 1968میں بی شیام سندر نے تعلیمی اداروں کے متعلق ایک سفارش کی تھی جس کے تحت ہندوستان کی ہرریاست میںایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور مینارٹیز کے لئے ایک علیحدہ یونیورسٹی کے قیام کو ضروری قراردیا گیا تھا تاکہ مذکورہ طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ ذات پات کے نام پر استحصال سے محفوظ رہ سکیں ۔ انہو ںنے کہاکہ برسوں گذر جانے کے باوجود ایسی تمام سفارشات کو حکمرانوں نے نظر انداز کیاہے جس کے نتیجے میں اب تک ذات پات کے نام پر استحصال کا شکار بیس ہونہار طلبہ اپنے عزت نفس کی آواز پر خودکشی کے لئے آمادہ ہوئے ہیں۔بی سی طبقے سے تعلق رکھنے والی سماجی جہدکار شردھا گوڑ نے کہا کہ ہندوستان کی آبادی کا ستر فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہیں جس کے بہتر مستقبل کے لئے اقدامات مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ طلبہ کی آپسی رنجشوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طرف سیاسی قائدین طلبہ کا استحصال کررہے ہیںتو دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ بھی اس موقع کے غنیمت سمجھ کر معصوم طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ کل ہند سیو ایجوکیشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری گوئند راجو کے علاوہ دیگر نے بھی اس گول میز کانفرنس سے خطاب کیا۔

TOPPOPULARRECENT